تحریر :ڈاکٹر عالم خان

28 فروری ترکی کی تاریخ کا سیاہ دن سمجھا جاتا ہے یہ وہ دن ہے جب اسلام پسندوں کی آواز نجم الدین اربکان کی حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا ۔ جہاں کوئی اسلام کا نام لیوا تھا اس کو جیل کی راہ دکھائی گئی۔ اس میں مرد، عورت ، بچے اور بوڑھے کی تمیز نہیں رکھی گئی جو بھی آواز اٹھاتا فورا گرفتار کیا جاتا تھا۔

یہ وہ دن ہے جس سے ترکی کی تاریخ میں ظلم وستم کا ایک نیا باب شروع ہوا تھا۔ مردوں کی طرح ان خواتین پر بھی اپنی زمین تنگ کر دی گئی تھی جن کے سروں پر حجاب، ہاتھوں میں قرآن اور زبان پر اللہ اکبر کا نعرہ تھا بازاروں سے لے کر سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں تک ان کا داخلہ مشکل کردیا گیا تھا جہاں بھی کوئی حجاب میں نظر آتی تو اس کو گھسیٹا جاتا تھا کئی سکولوں کے فائنل فنکشنز میں کم عمر بچیوں کو پروگرام سے نکالا گیا ایوارڈ کے حق داری کے باوجود ان کے ہاتھوں سے انہیں واپس لیا گیا کیونکہ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ حجاب میں تھیں۔

طیب اردگان ترکی کے ماضی قریب کا ہر نقش کہن مٹانے کو تیار

 

اسلام پسند اپنے گھر میں اجنبی تھے اپنی گلی کوچے ان کو نہیں پہچانتے تھے لیکن ان کے حوصلے ہمالیہ کے پہاڑوں سے بلند تھے جب حجاب میں ملبوس چھوٹی بچی رو کر گھر آتی تو ماں گود میں لے کر خود روتی اور اس کی آنسو کو پونچ کر کہتی کہ صبر کرو اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں وہ سورج طلوع ہونے والا ہے جس میں آپ باحجاب گھر سے نکل سکے گی سکول، کالج اور یونیورسٹی کے دروازے آپ کے لیے کھل جائیں گے جب آپ بازار جائیگی تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ وہ آپ کو تنگ کرے یا آپکے سر سے حجاب کھینچے۔

اس ماں کی آرزو پوری ہوئی اور 2002 میں نجم الدین اربکان کا لگایا ہوا پودا رجب طیب اردوغان اور عبد اللہ گل کی شکل میں تن آور درخت بن کر ابھرا اور ترکی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا وہ سورج طلوع ہوا اور اس ماں کا خواب پورا ہونے لگا۔ ایک ہی دستخط پر رجب طیب اردوغان نے تقریبا ہر شہر میں یونیورسٹیاں بنائیں اور وہاں الٰہیات کے نام سے علوم اسلامیہ کے لیے فیکلٹی بنائی گئی جن میں پڑھنے والوں کو وہی اہمیت اور عزت دی گئی جو اس ملک میں میڈیکل، انجینئرنگ، اکنامکس، ایجوکیشن وغیرہ کو دی جاتی ہے۔

اب وہی بیٹی نہ صرف باحجاب سکول، کالج اور یونیورسٹی آتی ہے بلکہ ہسپتال، عدالت، وزارت جہاں بھی ہو نوکری بھی کرتی ہیں جہاں بھی جاتی ہے تو لوگ اس سے عزت اور احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں اب تو ترکی میں وہی حجاب ایک فیشن بن گیا ہے جس کو ایک وقت میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اب اس حجاب کی توہین پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے لوگوں کو بھیجا جاتا ہے جسے ایک وقت میں اس کی وجہ سے جیل کی ہوا کھانی پڑتی تھی۔

اب یہی باحجاب خواتین رجب طیب اردوغان کی قوت ہیں ۔ اگر یوں کہا جائے کہ آق پارٹی کی کامیابی ان ہی سے عبارت ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ جس کا مشاہدہ گزشتہ دو انتخابات اور ایک ناکام انقلاب کے دوران میں خود کرچکا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی کی خواتین اب کسی بھی صورت میں 28 فروری 1997 سے 2002 تک کے وہی مناظر دوبارہ اپنے آنکھوں سے نہیں دیکھنا چاہتی ہیں جس کا نظارہ وہ خود یا ان کے مائیں اور بہنیں ماضی میں کرچکی ہیں۔


ڈاکٹر عالم خان
گوموش خانہ یونیورسٹی ، ترکی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ۔ اسلام، استشراق اور عالمی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔


بشکریہ ٹی آر ٹی اردو

Translate »