0 0
Read Time:3 Minute, 54 Second

عبیدالرحمن
عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر
کی واپسی کی امیدیں دم توڑنے لگیں‌،کے ٹو کو موسم سرما میں‌فتح کرنے کا عزم لیے محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں‌کا چار روز قبل بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا انہوں نے 4 اور 5 فروری کی درمیانی شب بیس کیمپ تھری سے کے-ٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔

جبکہ پاک فوج کی جانب سے بھی شروع کیا جانے والا سرچ آپریشن موسم کی خرابی کے باعث روک دیا گیا تھا شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی جانب سے تمام وسائل متحرک کردیے گئے ہیں۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ سرچ اور ریسکیو کا مشن چوتھے روز میں داخل ہوگیا ہے اور تمام فضائی اور زمینی کوششیں کی جارہی ہیں، ساتھ ہی اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ موسم کی سخت صورتحال اور بلندی پر ہونے کی وجہ سے مشن میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ تلاش جاری رہے گی اور اس ضمن میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ 72 گھنٹوں کے دوران آرمی ایوی ایشن کے ٹو ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ایکیوروئیل’ ہیلی کاپٹرز اس مشن میں استعمال ہورہے ہیں جو 7 ہزار میٹر کی بلندی سے زائد پر پرواز نہیں کرسکتے جبکہ کوہ پیماؤں کی بوٹل نیک سے اوپر کسی مقام پر موجودگی کا امکان ہے جہاں بلندی 8 ہزار 100 میٹر ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ ‘ سی-130 طیارے کے ذریعے ایک خصوصی ‘فاروڈ لوکنگ انفراریڈ (ایف ایل آئی آر) مشن کی منصوبہ بندی کی گئی تاہم ایف ایل آئی آر اس بلندی اور درجہ حرارت پر آپریٹ نہیں کیا جاسکتا’۔

دوسری جانب الپائن کلب کے سیکریٹری کرار حیدری نے میڈیا کو ایک بیان میں کہا کہ تلاش کا مشن جاری رہے گا لیکن موسم کی خراب صورتحال اس عمل کو مشکل بنا رہی ہے، اُمید ہے کہ موسم بہتر ہوجائے گا۔

کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ ان کی فکر کرنے پر شکر گزار
دوسری جانب تینوں کوہ پیماؤں کے اہل خانہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں ہر ایک فرد کا ان کی حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا گیا اور اُمید ظاہر کی گئی کہ مشن جلد بحال ہوجائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے جان اسنوری، محمد علی اور کے پی موہر کی کوہ پیمائی میں دلچسپی، ان کی خیریت کے حوالے سے اپنی فکرمندی کا اظہار کیا، جنہوں نے مدد کی پیشکش کی (خصوصاً ایلیکس گوان) اور وہ جنہوں نے ان کی حفاظت کے لیے دعائیں کیں اور تلاش کے لیے مذکورہ مقام پر ڈرونز کے استعمال کے خیالات پیش کیے۔

بیان میں کہا گیا کہ برطانوی نژاد امریکی کوہ پیما وینیسا او برائین جو پاکستان کی خیر سگالی سفیر بھی ہیں اور جان اسنوری کے ساتھ کے ٹو بھی سر کرچکی ہے وہ ایک ورچوئل بیس کیمپ کے ذریعے لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش اور امداد کی کوششوں میں تعاون اور ان کے خاندان کو معاونت فراہم کررہی ہیں۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ‘ہم خوش نصیب ہیں کہ ورچوئل بیس کیمپ پر ہمیں ہائی ریزولوشن سیٹیلائٹ ایس اے آر امیجری موصول ہوئی، ایس اے ٹی امیجری ماضی میں کیے گئے ریسکیو آپریشنز میں استعمال کی گئی ہے لیکن کسی نے اس طرح اس کا استعمال پہلے کبھی نہیں کیا، اس نے ہمیں ان علاقوں کے بہترین مناظر فراہم کیے جہاں سخت موسمی حالات کی وجہ سے ہیلی کاپٹرز ناقابل رسائی ہیں۔

موسمِ سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتا ہونے والے کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کے لیے فضائی نگرانی کے ذریعے کیا جانے والا سرچ آپریشن مسلسل تیسرے روز پیر کو بھی جاری رہا تھا لیکن خراب موسم کے باعث روک دیا گیا تھا۔

ریسکیو مشن میں بلندو بالا چوٹیاں سر کرنے والے مقامی کوہ پیماؤں میں شمشال سے فضل علی اور جلال، اسکردو سے امتیاز حسین اور اکبر علی، رومانیہ کے الیکس گوان، نذیر صابر، چھانگ داوا شیرپا اور موسم سرما میں کوہ پیمائی کرنے والی ایس ایس ٹی ٹیم کے دیگر اراکین شامل تھے۔

نیپال سے تعلق رکھنے والے چنگ داوا شیر پا اور لکپا دیندی شیر پا کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں کے-ٹو کے بیس کیمپ سے لے جایا گیا تھا لیکن ٹیموں کو واپس لوٹنا پڑا۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں چھانگ داوا شیرپا نے کہا تھا کہ ‘آرمی ایوی ایشن 5 اسکواڈرن کی مدد سے پاک فوج کے ٹو ہیلی کاپٹروں میں کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پرواز کی گئی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »