0 0
Read Time:3 Minute, 47 Second

عمران حیدر تھہیم
جیسا کہ مَیں نے چند دن قبل کچھ دوستوں کے استفسار پر عرض کیا تھا کہ گورے کوہ پیماؤں کی عادت وہ کسی بھی مُہم جُوئی کے دوران کسی بھی ناخُوشگوار واقعے یا حادثے کے متعلق بالکل نہیں بولتے اور خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ لیکن جُونہی سیزن ختم ہو جاتا ہے یا پھر یہ لوگ جُونہی اپنے اپنے وطن پہنچتے ہیں تو بولنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب بھی تقریباً ویسا ہی ہو رہا ہے۔
میری اس بات کی تصدیق کےلیے میرا مشورہ ہے کہ جو لوگ انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں وہ ذرا مشہور کینیڈین ہائی آلٹیٹیوڈ فوٹوگرافر اور فلم میکر ایلیا سیکلی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ eliasaikaly اور اُنکی تازہ ترین پوسٹ مُلاحظہ کریں۔

instagram

علی سد پارہ کے ٹو کی آغوش میں ہمیشہ کیلیےسو

 گئے، بیٹے کا باضابطہ اعلان

 سدپارہ کی یاد میں ادارہ، 30لاکھ امداد کا اعلان

کے ٹو حادثہ کےکونسے پہلو فوری اور مستند تحقیقات کے متقاضی ہیں ؟

یاد رہے کہ ایلیا سیکلی وہی  ہیں جنہوں نے 2019 سیزن میں ماؤنٹ ایورسٹ پر نیپالی شرپاؤں اور کمرشل کمپنیوں کی جانب سے کلائنٹس کو خجل کرنے اور پیسے کمانے کے لالچ میں اُن کی زندگیوں کو ہائی آلٹیٹیوڈ پر جان بُوجھ کر خطرات میں ڈالنے سے متعلق آواز بُلند کی تھی۔

نیپالی شرپا دراصل ماؤنٹ ایورسٹ کے ہائیر کیمپس پر غیر مُلکی کلائنٹس کی آکسیجن چوری کر لیتے ہیں اور پھر ڈیتھ زون میں مہنگے داموں بیچ کر مسیحا بننے کا ناٹک کرتے ہیں اور دُنیا کو یہ باور کرواتے ہیں کہ ہم نے ہائی آلٹیٹیوڈ پر اتنے لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ نیچے نیپالی میڈیا بھی ان شرپاؤں کو ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ اِس گھناؤنے کھیل میں سارے نہیں لیکن چند ایک امیر شرپاؤں اور اُنکی کمپنیوں کا گروہ ملوّث ہے۔ اُنہی کمپنیوں میں SST بھی شامل ہے جو موجودہ K2 مُہم جُوئی پر بھی کپیسٹی سے زیادہ کلائنٹس لے کر آئی تھی۔

مُلاحظہ کیجیے Russian Climb والوں کی نیپالیوں کی summit push سے چند گھنٹے قبل 15 جنوری کی ٹویٹ جس میں لکھا گیا ہے کہ bottleneck سے اُوپر snow ہے اور Denis Urubko کہہ رہا ہے کہ اُسے تین سال پہلے ice ملی تھی۔
یہ ٹویٹ میرے اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ نیپالیوں کو bottleneck پر powder snow مِلی تھی اِس لیے عین ممکن ہے اُنہوں نے رسّی لگائی ہی نہیں اور free climb کرکے summit پر پہنچے اور واپس آئے۔

ایلیا سیکلی کینیڈا سے جان سنوری اور علی سدپارہ ٹیم کی کلائمب پر ڈاکیومنٹری بنانے آیا۔ اگر آپ ایلیا سیکلی کے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر لگی پوسٹس کی ٹائم لائن کا اُسکی پاکستان آمد کے وقت سے مُلاحظہ کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ایلیا ایک بےباک اور صاف گو بندہ ہے۔ K2 حادثے سے قبل ایلیا سیکلی جان سنوری ٹیم کے پیچھے پیچھے 4 فروری کی رات کو نیپالی کمپنی SST کے کلائنٹ کلائمبرز کے بعد کیمپ 3 یعنی 7300 میٹر تک پہنچ چُکا تھا۔ وہاں اُسے معلوم ہوا کہ اُس نے جو کسیجن کیمپ 3 پر پاکستانی پورٹرز کے ذریعے ڈمپ کروائی تھی وہ وہاں سے نیپالیوں نے چُوری کر لی ہے۔ اس گھمبیر صُورتحال اور اِتنی بُلندی پر موت کے خطرے کو بھانپتے ہوئے ایلیا سیکلی نے اپنی اور اپنے ساتھی پاکستانی پورٹرز کی جان بچانے کی غرض سے عین اُسوقت نیچے آنے کا ہنگامی فیصلہ کیا جب جان سنوری اور علی سدپارہ ٹیم اُوپر جا رہی تھی۔ اپنی اُترائی کے دوران ایلیا نے بلغارین کوہ پیما اتاناس سکاتوف کو اپنی آنکھوں کے سامنے گِرتے اور مرتے دیکھا۔ وہ اس سارے حادثے اور نیپالیوں کے کردار کا چشم دید گواہ ہے۔ اب نیپالی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ایلیا سیکلی کی آواز دب جائے لیکن میرا اندازہ ہے کہ نہ صرف ایلیا بلکہ بہت سے دوسرے کلائنٹ کوہ پیما آنے والے دنوں میں K2 حادثے پر کُھل کر بولیں گے جبھی ممکن ہوگا کہ اس المناک حادثے کی تفصیلات اور حقیقت سامنے آئے۔ بصورتِ دیگر تو گلگت۔بلتستان حکومت نے ابھی تک اس بابت کسی انکوائری کا نہ تو فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی امکان ظاہر کیا ہے۔


عمران حیدر تھہیم گذشتہ دس سال سے کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے شعبہ سے وابستہ ہیں ،اور اس حوالے سے اپنی ایک منفرد اور مستند رائے رکھتے ہیں


 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »