م ص ایمن
کوئی فلم دیکھنا چاہے تو وہ سینما کا رخ کرتا ہے کہ سینما فلم بینی کے لیے ہی بنایا گیاہے۔ مسجد، سجدہ گاہ۔ اپنے رب کی عبادت تو کہیں بھی کی جاسکتی ہے لیکن مسجد صرف اور صرف اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ اور کتب خانے؟ کتب خانے مطالعہ کے لیے مخصوص ہیں۔صحت مند معاشرے کے لیے کتب خانوں کا وجود ناگزیر ہے۔
انتہائی معذرت کے ساتھ محاورے اور ضرب الامثال کا سہارا لوں گا۔ صاحبان علم ان محاورات ضرب الامثال سے مستثنیٰ ہیں کہ”گدھا کیا جانے زعفران کا بھاؤ۔“ کہا جاتا ہے کہ گدھے کو چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے اس کی راہ میں زعفران کا کھیت آجائے تو گھاس پتے سمجھ کر اسے بھی وہ چر جائے گا۔ زعفران کی قدر محبت کے تعویذلکھنے والا جانتا ہے۔
بندر کے ہاتھ ادرک لگ جائے تو وہ اسے لیے قلابازیاں کھاتا رہے گا۔ وہ نہیں جانتا کہ ادرک کے فوائد کیا ہیں اور سواد کیا ہے؟۔ادرک کا ادراک کسی باورچی کو ہی ہوسکتا ہے
جس طرح ہیرے کی قدر جوہری جانتا ہے اسی طرح کتابوں،کتب خانوں کی اہمیت اہل علم جانتے ہیں۔ کتابوں کے صفحات میں، اخبارات میں پکوڑے لپیٹ کر دینے والے نہ کتاب کی قیمت جانتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر۔ رب العالمین نے اپنے خاص خاص بندوں کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے کتاب کا تحفہ ہی دیا ہے۔ قرآن اللہ کا دیا ایسا ہی ایک تحفہ ہے جو آج تک محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے اس لیے وہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔
”خان بابا ۔۔۔ پھول وہی دیتے ہیں جنھیں دل درکار نہ ہو۔“
معاشرتی رہن سہن،رسم وراواج سے آگاہی کے لیے تحریر بالخصوص کتاب اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مثلاً آج کی نسل نہیں جانتی کہ پاکستان کس قدر صعوبتوں سے حاصل ہوا ہے؟
کتاب میں محفوظ ہے۔ کتاب بتائے گی کہ پاکستان کیسے حاصل ہوا۔
دوستوں میں بحث ہوتی ہے دلائل دے کر قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔دلائل تسلیم نہ کرنے والا کہتا ہے ”کس کتاب میں لکھا ہے؟“
اس کا مطلب ہے کسی کتاب میں لکھا ہوا ہے تو تسلیم کرلوں گا وگرنہ نہیں۔ یعنی جوکچھ لکھا گیا محفوظ کردیا گیا۔سند رہ گئی۔ کسی معائدے کی تحریر کے آخر میں لکھا جاتا ہے:
”لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے“
اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ معائدہ کرنے والے موجود رہیں یا نہیں۔ ان کا حافظہ کام کررہا ہے یا نہیں؟ لکھاہوا موجود ہے اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
لکھا ہوا محفوظ کرنے کے لیے کتاب کی اور کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے کتب خانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام افراد کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ صاحب علم کے پاس جاتے ہیں اور صاحبان علم کتاب سے رجوع کرتے ہیں اور کتاب کہاں ملتی ہے؟
کتب خانوں میں!۔
کتب خانوں میں نادر ونایاب کتب کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے جو بوقت ضرورت کام آتا ہے۔کتب خانے صحت مند معاشرے کی علامت ہیں۔ کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی علم کی ضرورت ہے۔ کتاب کی اہمیت سے جوواقف نہیں ہیں وہ کتاب میں،اخبار میں پکوڑے لپیٹ کر تو دے سکتے ہیں اس کے علاوہ کتاب ان کی زندگی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔
آج اگر کسی سے پوچھا جائے کہ اردو کا سب سے پہلا اخبار کون سا ہے؟ کہاں ہے؟ کہیں محفوظ بھی ہے یا نہیں تو معدودے چند ہی بتاسکیں گے۔
اردو کا پہلا اخبار ”جام جہاں نما“ تھا۔یہ کچھ دن اردو میں چھپا لیکن اسے اردو کا قاری میسر نہ تھا۔ فارسی زبان کا دور دورہ تھا۔ اس لیے اسے فارسی زبان میں منتقل کردیا گیا اور پھر ایک ماہ بعد ہی اردو کی ضرورت سمجھی گئی اور اسے دوبارہ اردو اخبار کردیا گیا۔اسے حکومت برطانیہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس کی لوح پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی مہر ثبت ہو اکرتی تھی۔اس اخبار کی چند”گفتنی“خبریں آپ کی خدمت میں۔ ”ناگفتنی“ خبروں کی تعداد زیادہ ہے۔
اُس وقت کے اخبار سے اس معاشرے کا آئینہ دکھائی دیتا ہے۔ چند خبریں
دو فروری اٹھارہ سو پچیس کی خبر ہے:
ستی کی خبر:نیپال کے کاغذ سے سمجھا گیا (کاغذ کا مطلب ہے اخبار، آج کل ہم انگریزی میں اخبار کو پیپر یا نیوز پیپرکہتے ہیں تو اس کا مطلب یہی کاغذ ہوتا ہے) سمجھا گیا کہ بھیم سین جو اس راج کا مختار تھا۔ اس کا بھتیجا وزیر سین پالیا کی طرف گیا تھا،وہ مرگیا۔ دونوں جروواں (دوبیویاں) اس کی لاش کے ساتھ جل گئیں اور اچنبھے کی بات یہ ہے کہ تین لونڈیوں نے ان کے ساتھ اپنے جسم کو جلا دیا ایک انوکھی خبر یہ لکھی ہے کہ نیپال میں ایک شخص کی جورو نے اپنے کل کی لاج چھوڑ کر کسی غیر کے ساتھ بیل میل کیا تھا جب اس کے شوہر نے جانا کہ عورت بد چلن ہوگئی ہے اس کے یار کو مار ڈالا۔وہ عورت کہ برسوں سے اپنے یار کی محبت کی آگ میں جل بھن رہی تھی اس کی لاش سے لپٹ کر ایسے بے دھڑک آگ میں گھسی کہ راکھ کے سوا اس کے بدن پر کچھ نشان نہ رہا۔
۲فروری 1825؁ء
کبھی کبھی دلچسپ خبریں بھی شامل اشاعت کی جاتیں۔
ایک خبر:
فرانس کے ملک میں بونا پارٹ نے ایک نانبائی کو فوج کے ساتھ لڑائی پر بھیجا تھا اس کی جورو نے سات برس تک اپنے شوہر کی کچھ خبر نہ پائی تب اُ س کی زندگی سے مایوس ہوکر گھبرائی (اس سے پتہ چلتا ہے اس زمانے میں گھبرانے کی عام اجازت تھی)آخر اس نے شہر کے حاکم سے اپنی پریشانی ظاہر کی دوسرے نکاح کی اجازت پائی اور نئے شوہر کے ملنے سے اپنے کلیجے کی آگ بجھائی۔ نئے نکاح کے دو ہفتے بعد اس کا پہلا خصم بھلا چنگا وطن میں آیا اور اپنی جورو کو دیکھ کر خدا کا شکر بجالایا جورو اسے دیکھ کر بہت شرمائی اور اپنے کیے پر بہت پچھتائی۔ تب اس نے کہا کہ مت شرما۔ دعا کر حاکم مجھے بھی دوسرے نکاح کی اجازت دے دے۔ آخر اس نے حاکم کے حکم سے دوسری رنڈی (اس زمانے میں بیوہ کو رنڈی کہاجاتا تھا اور جس کی بیوی مرجاتی وہ رانڈ کہلاتا تھا۔ آج کل شوہر مرجائے تو بیوی بیوہ کہلاتی ہے اور شوہر کنوارا) چھ برس بعد نئی جورو مرگئی اور پہلی جورو کا نیا(یعنی چھ سال تک وہ نیا ہی تھا) خصم بھی مرگیا۔ پھر وہ دونوں آپس میں نکاح کرکے خوشی سے گزران کرنے لگے۔
03 جون 1828ء
ان خبروں سے اس وقت کا لب ولہجہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اس زمانے میں طرز معاشرت کیا تھی۔ زبان سادہ اور بیان سلجھا ہوا تھا۔

م ص ایمنؔ مہتمم ایمن لائبریری کراچی

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »