نیوز ڈیسک
امریکہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے امریکی صحافی ڈینئیل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم عمرسعید شیخ کو جیل سے ریسٹ ہائوس منتقل کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ،جبکہ عدالت زبانی حکم میں‌عمرشیخ کو ان کے اہل خانہ سمیت ریسٹ ہائوس منتقل کرنے اور انہیں‌سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دے چکی ہے ،جس کے بعد آئندہ چند روز میں‌انہیں کراچی منتقل کئے جانے کا امکان ہے تاہم انہیں دیگر لوگوں سے رابطہ کرنے کی سہولت حاصل نہیں ہوگی.
واشنگٹن میں‌صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی محکمہ داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وہ ڈیئنیل پرل اغوا و قتل کیس پر ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،جبکہ کیس میں ملوث افراد کے جیل سے منتقلی کے فیصلے پر انہیں‌ تشویش ہے
انہوں نے کہا 29 جنوری کو امریکی سیکرٹری سٹیٹ انٹونی بلنکن اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل میں‌ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں‌لانے کےلئے ہر ممکن اقدامات پر اتفاق کرچکے ہیں
ترجمان نے کہا پاکستانی عدالت کے فیصلہ کا پاکستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،تاہم اس واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں‌لانے کیلئے اسلام آباد کی کاوشیں قابل تعریف ہیں .جبکہ پاکستانی حکومت 28 جنوری کے فیصلے پر نظرثانی کی دربخواست میں‌فریق بننے کی درخواست کرچکی ہے .
واضح رہے کہ 28 جنوری کو سپریم کورٹ کے سہہ رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے شیخ عمر اور ان کے دیگر ساتھیوں کی رہائی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کسی شیخ عمر،شیخ فہد ،نسیم احمد اور سید سلمانن ثاقب کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف سندھ حکومت اور مقتول صحافی کے والدین نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی .تاہم امریکی حکومت نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستانی حکومت شیخ عمر اور ان کے دیگر ساتھیوں کی رہائی کو رکوانے کےلئے ہر ممکن کردار ادا کریگی .
جبکہ ترجمان نے ایک بار پھر اس پیشکش کا اعادہ کیا کہ امریکی حکومت شیخ عمر اور ان کے ساتھیوں پرخلاف انسانیت کے جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے تیار ہے
واضح رہے کہ 38 سالہ امریکی صحافی ڈینئل پرل کو کراچی میں 2002 میں اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا .

Translate »