0 0
Read Time:2 Minute, 46 Second

عتیق الرحمان

ایبٹ آباد


خوش نصیب ہے وہ جو مر گیا ۔ اور خوش قسمت ترین ہے وہ جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ۔
اس سے بڑی بدقسمتی اس دور کی کیا ہو گی کہ سچ بولنے کے لیئے بھی ارد گرد نگاہ دوڑانی پڑتی ہے ۔ جھوٹ البتہ دھڑلے سے کہیں بھی اور کبھی بھی بولا جا سکتا ہے۔ مجال کہ کوئی مزاحم ہو ۔

مذہب سے متعلق لبنان کے عیسائی دانشور خلیل جبران نے کہا تھا کہ میں نے لوگوں کو مذہب کے لیئے لڑتے جھگڑتے اور مرتے مارتے دیکھا ہے لیکن مذہب پر عمل کرتا کوئی نہیں دیکھا۔

قرآن ہماری جان لیکن عمل سے دل پریشان

صحافت ،مقدس پیشے سے مافیاز کی آماجگاہ تک ۔۔۔مسرت اللہ جان

کسے معلوم تھا کہ ایسا زمانہ بھی آئے گا جب لڑنا جھگڑنا اور مرنا مارنا ہی مذہب پر عمل قرار پائے گا ۔ دھرنوں لانگ مارچوں احتجاجوں کے عہد سے قبل کا انسان اس حساب سے خوش نصیب تھا کہ اسے صرف حکومتی کارندوں کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑتا تھا مگر اب اپوزیشنی کارندوں نے بھی ذلالت فراہم کرنیکا کا ٹھیکہ اٹھا لیا ۔

حکومت اور اپوزیشن تو خیر سے جمہوریت کے بدنما چہرے پر یوں بھی داغ ہیں اب تو خیر سے مذہب کے نام پر اٹھنے والے جتھے بھی انسان اور انسانیت کا کچومر نکالنے کا ٹینڈر اپنے نام کروا چکے ۔

راستوں کی بندش ، مارا ماری ، جلائو گھیرائو ، اور ہڑتالوں دھرنوں کو محض اس وجہ سے روا نہیں رکھا جا سکتا کہ معاملہ مذہبی ہے ۔ یا ہم سب کے عقیدے کا سوال ہے۔
جو مولوی لہک لہک کر ہجوم کا خون گرمانے کے لیئے آقا کی ناموس کے واسطے دہائیاں دے رہا ہے اس مولوی کے متولد ہونے سے مبلغ چودہ سو سال قبل تک آقا کی ناموس کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوا تو اب بھی انشاء اللہ کچھ نہ ہو گا
اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کے لیئے ورفعنا لک ذکرک کہا اس ہستی کو آج کے  ملا اور اس کے ڈنڈا بردار پیروکار سے اپنی ناموس کی حفاظت کروانے کی قطعی ضرورت نہیں ۔

کس نے کسے بنایا ، یا کس نے کسے استعمال کیا یہ جانے دیجیئے صرف رانگ نمبرز کی شناخت کیجیئے ۔

جو بھی کہے کہ آقا کی ناموس بچانے کے لیئے مسافروں کو بے ناموس کرو ، دوسرے انسانوں کی املاک تباہ کرو ، سڑکوں پر ٹریفک بند کر دو اسے یہ ضرور کہیں کہ نہیں آقا کی ناموس بچانے کے لیئے آقا کی اخلاقیات پر عمل کرنا ہو گا۔

ستم بالائے ستم سارے ناجائز منافع خور، دھوکے باز ، منافق ، جاہل ، بدتمیز اور سارے بد اخلاق آقا کی ناموس کے نام پر پوری قوم کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

آقا صرف تمہارے نہیں ، ہمارے بھی ہیں ، بروز حشر آقا سے شفاعت کے طلب گار تم ہی نہیں ہم بھی ہیں ۔ اور ہاں یہ خطیبانہ بلیک میلنگ نہیں چلے گی کہ

قیامت کو آقا نے یہ پوچھا وہ پوچھا۔ آقا کچھ نہیں پوچھیں گے ، وہ ہر امتی کے لیئے شافع محشر ہیں ، آقا کی ناموس کا محافظ درود پاک ہے کوئی لٹھ بردار جتھہ نہیں ۔

اللہم صل علی محمد وعلیٰ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم

اور ہاں آخری بات
آج تو صرف فرانس کے سفیر کو نکالنے کا نعرہ لگا ہے کل کلاں دنیا کے نقشے سے فرانس کو مٹانے کا مطالبہ بھی آ سکتا ہے ، کیوں کہ جہالت کی بریکیں نہیں ہوتیں ۔ اس کی ایمرجنسی بریک کالعدم قرار دینا ہی ہے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »