آزادی ڈیسک
قاہرہ میں واقع ایک قدیم تاریخی مسجد میں جنات کی موجودگی کی خبروں نے نمازیوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ۔سرکاری حکام سے مدد طلب کر لی گٸی۔
مصری اخبار الیوم کی ایک رپورٹ کے مطابق قاہرہ کے شمال میں واقع قیلوب نامی شہر کی ایک قدیم مسجد جامع الظاہر بیبر س کے کنویں سے آنے والی آوازوں نے شہریوں کوحیرت اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے جس سے نمازی بھی اب مسجد آنے سے گریز برتنے لگے ہیں ۔

تیرہویں صدی میں ہی تعمیر ہونے والی اسی مسجد کے نام سے ایک مسجد قاہرہ شہر میں بھی موجود ہے
اطلاعات کیمطابق صدیوں قدیم اس مسجد کے برآمدے کی داہنی طرف واقع وضو کیلیے بناۓ جانےوالے کنویں کو نمازیوں نے استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں اس کنویں میں کسی مافوق الفطرت مخلوق کا ڈیرہ ہے۔

واضح رہے کہ عہد وسطی اور بعد از اسلام بھی نیک و بد جن و دیگر ماوراٸی مخلوقات کا قوی تصور موجود رہا ہے ۔
اخبار نے ایک شہری محسن علی کے حوالے سے بتایا کہ جب آپ کنویں کےقریب جاتے ہیں تو آپ کو خوف کا احساس ہوتا ہے اور آپ عدم تحفظ کاشکار ہو جاتے ہیں۔
ان کے خیال میں اس کنویں کی تہہ میں خزانہ موجود ہے جس کی حفاظت جنات کر رہے ہیں اور جوبھی خزانے تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسے ماردیتے ہیں
تاہم ابھی تک یہ دعوی ثابت نہیں ہو سکا کہ اس مبینہ خزانے کو نکالنے کی کوشش کسی کی جان گٸی ہو ۔

ایک اور شہری محمد سلیم کے مطابق خوف کی وجہ سے کوٸی بھی کنویں میں اترنے کا خطرہ مول نہیں لیتا
مسجد کی حدود میں 60 سال سے زیادہ عمر کا امرود کاایک درخت بھی موجود ہے جس کا پھل خاص طور پر کھانسی کا مجرب نسخہ تصور کیا جاتا ہے
شہروں کی جانب سے حکام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ جنات کے حوالے سے پاٸے جانے والے شبہات کےازالے کیلیے فوری اقدامات کیے جاٸیں تاکہ شہریوں بے خوف خطر اپنی عبادات کی ادائیگی کر سکیں ۔

مذکورہ مسجد معروف مملوک سلطان الظاہر بیبرس بن عبداللہ البنقادری کے دور میں 1272 سے 1274 کے درمیان تعمیر ہوئی تھی جنہوں نے منگول اور صلیبی حملہ آوروں کے خلاف انتہائی کامیابی سے مصر کا دفاع کیا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »