تحقیق و تحریر : خالد قیوم تنولی

عمر خیام مکمل نام غیاث الدین ابوالفتح عمر ابن ابراہیم الخیام نیشاپوری لیکن عمر خیام نیشا پوری کے نام سے معروف ایک ہمہ جہت شخصیت جو بیک وقت شاعر‛فلسفی‛ ریاضی دان‛ماہر فلکیات‛ عالم دین‛ ماہر معدنیات و لسانیات و طب و قانون اور مؤرخ تھا۔ بوعلی سینا کے اس پیروکار نے سلجوق حکمران سلطان جلال الدین ملک شاہ کے عہد میں سرکاری سرپرستی میں شاعری‛ ریاضی‛ ہیئت ‛معدنیات اور فلسفہ کے ارتقا و فروغ میں نمایاں ترین خدمات سرانجام دیں۔ بے شمار مقالات قلم بند کیے۔ وہ رومی ‛ عطائی اور سنائی کے مقابلے میں کم درجہ مفکر تاہم اس کے تفکر کا ایک انداز بشری میزان ہے جو ہمیں اس کے فکر کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔


muslimheritage-umar-al-khayyam-omar-khayyam-umar-al-khayyam
muslimheritage-umar-al-khayyam-omar-khayyam-umar-al-khayyam

”خان بابا ۔۔۔ پھول وہی دیتے ہیں جنھیں دل درکار نہ ہو۔“

18مئی 1048ء اس کی تاریخ پیدائش اور نیشا پور مقام پیدائش ہے۔ نو عمری میں ثمرقند اور کچھ مدت بلخ میں گزری جہاں اس وقت کے جید عالم شیخ محمد منصوری کے تلامذۂ خاص میں رہا۔ بعد ازاں امام موافق نیشاپوری کی مصاحبت بھی حاصل رہی۔ تحصیل علم کے بعد مہارت میں افزونی کی خاطر بخارا منتقل ہوا اور وہیں ازمنۂ وسطیٰ کے اہم ریاضی دان اور ماہر فلکیات کی دائمی شہرت سے ہمکنار ہوا۔
تقریباً ایک ہزار رباعیات اس سے منسوب ہیں تاہم مختلف کتب میں یہ تعداد اختلافی ہے۔ اس کی رباعیات کے ترجمے انگریزی ‛ فرانسیسی ‛ جرمن‛ ترکی‛اطالوی‛ روسی‛ سویڈش‛عربی اور اردو زبان میں ہو ئے جن میں سب سے زیادہ مقبولیت 1859ء میں کیے گئے Edward Fitzgerald کی کتاب Rubaiyat of Omar کو حاصل ہے جس نے عمر خیام کی کھوئی ہوئی شہرت کو ازسرِ نَو بحال کیا مگر باعثِ افسوس امر یہ بھی ہےکہ فٹز جیرالڈ نے الحاقی یا نجی خیالات کی آمیزش سے کلام عمر خیام کو آلودہ کیا یعنی غیر متعلقہ کفریہ اور ملحدانہ کلمات کو اس سے منسوب کردیا۔ اس کے جواب میں ایرانی معروف سکالر صادق ہدایت کی 1934ء میں “ترانہ ہائے خیام” نامی کتاب نے ایران کی جدید نسل کو عمر خیام سے بہ طریقِ نَو متعارف کرایا۔



علاوہ ازیں ایک فرانسیسی مستشرق فرانزٹو سین کی مساعی بھی لائق تحسین ہیں جس نے براہ راست فارسی سے رباعیات خیام کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا جو ایک رسالے میں طویل عرصہ تک طبع ہوتا رہا۔
اس کا عہد یونانی ارسطا طالیسی فکر سے متاثر تھا مگر اس نے ارسطا طالیسی فکر سے انکار میں یہ موقف قائم کیا کہ ” میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں کون ہوں۔” اور اسی موقف کو اس کی رباعیات میں بھی بخوبی بھانپا جا سکتا ہے۔ اس کی رائے کی کارکردگی کو اس کے معاصرین و دیگر ابوالفضل بہیوقی‛ نظامی عروضی‛ عطارنیشاپوری اور نجم الدین رازی جیسے فلاسفہ و فضلاء نے بھی قابل توجہ جانا۔
فلسفۂ ریاضی کے حوالے سے تین اہم تصورات اس سے وابستہ گردانے جاتے ہیں ۔ یعنی :
ریاضی میں ترتیب کا منبع اور فطری جہان کے ساتھ اس کی مطابقت اور مماثلت کیونکر ہے؟
اقلیدس میں بدیہی مسلمہ سچائی کی اہمیت اور ماہر ریاضیات کے فلسفے پر اعتماد کرنے کی ناگزیریت
اور اپنے پیش رو ابن سینا و جملہ فلاسفروں کے فنی و فکری ماحاصل کی بنیاد پر مادی وجود اور ریاضیاتی وجود کے مابین فرق کوواضح کرنا۔
بحیثیت ریاضی دان اس نے الجبرا کے کئی معروف اصول وضع کیے۔ مثلاً … مساواتِ مکعب وغیرہ۔ 1077ء میں “شرحِ ما اشکل من فصادرات کتاب اقلیدس” جو بہت بعد میں یورپ میں
On the Difficulties of Euclid‛s Definations
کے عنوان سے طبع ہوئی۔
بطور فلکیات دان اس نے سلطان جلال الدین ملک شاہ اول کے حکم پر ایک شاندار رصد گاہ تعمیر کروائی اور اس ضمن میں فلکیاتی علم کو خاطر خواہ فروغ دیا۔ سلطان نے ایرانی نظام تقویم کی تشکیل کی غرض سے جو مجلس بلائی عمر خیام اس کا رکن تھا ۔ لہذا جلالی کیلنڈر کا آغاز ہوا جو گیارہویں سے بیسویں صدی تک مروج رہا۔ معروف گریگورین کیلنڈر سے عمر خیام کا تیار کردہ جلالی کیلنڈر زیادہ درست سمجھا جاتا ہے۔ آج جدید ایرانی کیلنڈر اسی کی شمار کردہ گنتی اور حساب کا مرہون منت ہے۔
اس کے دینی عقائد اور نقطۂ نظر کے متعلق مختلف اور متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ تاہم اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد و توصیف میں جو مقالہ ” الخطبات الغراء” قلم بند کیا اس میں راسخ العقیدہ‛ مقلد اور ابن سینا کے وحدت الٰہی کے نظریہ سے متفق ہونے کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
دنیائے سائنس نے اس کی علمی خدمات کا ‛ان سے استفادے کے بعد بہ انداز دگر اعتراف کیا ہے۔ چاند پر واقع ایک آتش فشاں کے دہانے کو اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔
ایک روسی آسٹرولوجسٹ نے جو نیا سیارہ دریافت کیا اسے “عمر خیام 3095” کا نام دیا باقی یورپ میں جو مے خانے اور شبینہ عشرت گاہیں اس کے نام سے موسوم کی گئیں ان کا اس کی ذات و کردار سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ اہل یورپ کا فکری مغالطہ ہے۔



وہ 4 دسمبر 1131ء کو بیاسی برس کی عمر میں خراسان میں فوت ہوا اور نیشا پور میں امام زادہ مشروق کے مقبرہ سے متصل گلشن خیام میں مد فون ہوا جہاں آسمان آج بھی اس کی لحد پر شبنم افشانی کرتا ہے۔

استفادہ :-
1: شعر العجم / شبلی نعمانی
2: ایک نادرۂ روزگار ہمہ دان شخصیت / پیر اکرم
3: ابن حنیف / خیام اور مغربی مغالطے
4: حسین جاجوئی / رباعیات عمر خیام
5: مضامین ۔از /جمیل یوسف
6: خمریات / احمد جاوید


خالد قیوم تنولی خطہ شمال کے اردو اور ہندکو ادب کا شناسا چہرہ،جو لطافت و حساسیت سے جذبہ سے لبریز تحاریر کے زریعے معاشرتی پہلوٶں کو اجاگر کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »