0 0
Read Time:1 Minute, 41 Second

نیوز ڈیسک
انقرہ
ترکی کے مرد آہن طیب اردگان کے مستقبل کے ارادے کیا ہیں ؟اس بات کا اگرچہ اندازہ تو کچھ نہیں لیکن ان کے مخالفین طیب اردگان کے ترک آئین کی تشکیل نو کے حالیہ بیان کو کافی مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں ،اور انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ طیب اردگان کا نئے آئین کے تصور کے پس پردہ شاید واحد شخصی حکومت کی گرفت زیادہ مضبوط کردیگا ۔

2003 سے وزارت عظمیٰ اور پھر صدر کی صورت میں مسند اقتدار پر براجمان طیب اردگان 2017میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے آئینی ترمیم کے بعد 2028تک اقتدار میں رہنے کی راہ ہموار کرچکے ہیں ،لیکن2016 میں ناکام ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور اور سزائوں پر مغربی ممالک اور ان کے مخالفین طیب اردگان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے رہے ،لیکن ترکی کی جانب سے ان الزامات کو ہمیشہ سختی کیساتھ مسترد کیا جاتا رہا ہے اور ان اقدامات کو قومی سلامتی کیلئے ناگزیر قراردیا ۔تاہم 2023 کے انتخابات سے قبل نئے آئین کی بات کو چھیڑنا ان کے مخالفین کو الجھن میں ڈالنے کا سبب بن رہا ہے ۔انقرہ میں ہونے والے اتحادی جماعتوں کیساتھ کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے ترک صدر اردگان نے کہا :اب وقت آگیا ہے کہ ترکی نیا آئین تحریر کرے اور اس آئین کو بدل دے جو آئین کے باغیوں (فوجی بغاوتوں )کے ہاتھوں لکھا گیا ۔ترکی میں اس وقت 1982میں بنایا جانے والا آئین رائج ہے جو ایک فوجی بغاوت کے بعد بنایا گیاتھا ۔
f
طیب اردگان کا کہنا تھا ترکی کے مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے آئین ہمیشہ آمروں کے ہاتھوں بنے ،اور اب وقت آگیا ہے کہ ترکی ایک نئے آئین کے بارے میں بحث کاآغاز کرے ،اور اگران کی اتحادی جماعتوں کسی متفقہ نکتہ پر پہنچ جانتی ہیں تو نئے آئین کے حوالے سے مستقبل قریب میں اقدامات اٹھائے جائیں گے ،اور اس سلسلے میں تمام معاملات شفاف انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچائے جائیں گے ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »