0 0
Read Time:2 Minute, 40 Second

اعجاز علی


فارسی زبان کی معروف نعت تنم فرسودہ جاں پارہ جسے عشاق محمد آج بھی اسی وجد میں ڈوب کر سنتے اور پڑھتے ہیں جس عشق نبی صلی اللہ و علیہ وسلم میں ڈوب کر پندرہویں صدی میں خراساں جام(موجودہ افغانستان کے صوبہ غور) کے رہنےوالے معروف صوفی شاعر و مصنف نورالدین عبدالرحمن جامی نے ڈوب کر لکھا تھا

اپنے خاندان کے ہرات ہجرت کے بعد عبدالرحمن جامی کی پرورش اور تعلیم وہیں ہوئی ،اور انہوں نے ایک ہفتے میں مکمل قرآن پاک حفظ کرلیا ۔وہ عظیم صوفی بزرگ خواجہ عبداللہ انصاری ،مولانا رومی اور ابن العربی کی تعلیمات سے متاثر ہوئے ،

اپنی زندگی میں انہوں نے پچاس سے زائد کتابیں لکھیں ،لیکن ایک نعت تنم فرسودہ نے عالم گیر شہرت پائی جسے آج بھی دنیا بھر میں عشاق محمد صلی اللہ و علیہ وسلم انتہائی عقیدت سے پڑھتے اور سنتے ہیں

اس نعت کو لکھنے کے بارے میں ایک دلچسپ کہانی قصوں کا حصہ ہے جس کے مطابق جب مولانا عبدالرحمن جامی مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ کے بعد مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کررہے تھے

تو اس وقت کے گورنرمکہ کو حضرت محمدصلی اللہ وعلیہ خواب میں آئے اور انہیں کہا کہ مکہ سےآنے والے عبدالرحمن جامی نامی شخص کو مدینہ میں داخل ہونے سے روک دو ،کیوں کہ اس نے جو نعت لکھی ہے ،

اگر وہ انہوں نے وہاں آکر پڑھی تو انہیں اس سے مصافحہ کرنا پڑیگاانہوں نے گورنر سے یہ بھی فرمایا کہ وہ ہر جمعرات کو مجھ پر 100 بار درود شریف اور 11 بار اپنی نعت پڑھیں تووہ ان سے خواب میں ملاقات کا شرف بخشیں گے ۔

کہا جاتا ہے کہ جب اپنے وطن واپس لوٹے تو انہیں خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ کا دیدار نصیب ہوا ۔
نعت شریف اور اردو ترجمہ
تنم فرسودہ جاں پارہ زہجراں یا رسول اللہ
دلم پژمردہ آوارہ ز عصیاں یا رسول اللہ
اے رسول خدامیں آپ کے فراق میں تڑپ رہا ہوں اور میری روح مضمحل ہے
گناہوں نے میرے دل کو افسردہ کررکھا ہے اور گمراہی پر آمادہ ہے
چوں سوئے من گذر آری ،من مسکیں ز ناداری
فدائے نقش نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ
آپ مجھے اگر مہماں نوازی کا موقع عنایت فرمائیں
تو آپ کے نعلین کے نشانوں پر یہ عاجز اپنی جاں وار دے
زجام حب تومستم ،با زنجیر تو دل بستم
نمی گویم کہ من ہستم سخنداں ،یا رسول اللہ
میں آپ کے عشق کے جام میں مست ہوں اور میرا دل آپ کی محبت کی زنجیر سے بندھا ہوا ہے
میں یہ نہیں کہتا کہ میں کوئی سخنداں ہوں بلکہ یہ آپ کی محبت کااعجاز ہے
زکردہ خویش حیرانم،سیاہ شد روز عصیانم
پشیمانم ،پشیمانم ،پشیماں یا رسول اللہ
میں اپنے کئے پر نادم ہوں ،میرے اعمال گناہ سے سیاہ ہوچکے
اور اے اللہ کے رسول میں اس پر نادم ہوں ،نادم ہوں
چوں بازوئے شفاعت راکشائی بر گناہگاراں
مکن محروم جامی را در آں ،یارسول اللہ
اے اللہ کے رسول آپ کی شفاعت کے بازو گناہگاروں کےلئے کھلے ہیں
تو جامی کو اس شفاعت سے محروم نہ کیجیو
آمین


یہ فری لانس پاکستانی صحافی اعجاز احمد کی سلام ویب کیلئے لکھی تحریر ہے جسے اردو ترجمہ کے بعد قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے


ترجمہ :صفدر حسین

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »