اسٹاف رپورٹر
ایبٹ آباد جیل میں ایک قیدی کی جانب سے قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے واقعہ کے بعد شہر میں‌رات گئے امن و امان کی صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا تاہم چند مقامات پر دوسرے روز بھی پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری رہا

.
ایسی صورت میں‌جبکہ شہر میں‌گذشتہ کئی روز سے سیکورٹی الرٹ جاری کیا جا چکا تھا اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں‌پر سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری تھا ،جیل واقعہ کے فورابعد‌چند‌گھنٹوں‌میں‌شہر بھر میں‌ہونے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ اور بدامنی اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئی ہے جن پر مختلف پہلوئوں‌سے تفتیش کاعمل یقینا شروع ہوچکا ہو گا .
یہ بات واضح ہے کہ علماء کرام .تاجر رہنمائوں‌اور سیاسی قیادت کی اکثریت کی جانب سے اس معاملہ پر انتہائی دانشمندانہ اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ،لیکن اس کے باوجود شہر میں رات گئے تک احتجاج کی قیادت کرنے والے لوگ کون تھے ؟
جیل کے اندرسے یہ بات شہر میں‌کن کن لوگوں‌تک پہنچی اور کس کے ذریعے پہنچی اور ان کا اس سارے معاملہ میں‌کیا کردار رہا ؟

ایبٹ آباد جیل میں قرآن پاک کی مبینہ بیحرمتی ،شہر میں‌شدید کشیدگی

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھنی چاہیے جنہوں نے اپنے دیگر مفادات کے لئے مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے شہر کو بدامنی کا شکار کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش کی .
سب سے اہم اور بڑا سوا ل ،جیسا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے بھی یہ وضاحت جاری کی جا چکی ہے کہ ملزم کو الگ سیل (چکی)میں‌بند رکھا جار ہاتھا اور وہاں‌وہ کئی ماہ سے موجود تھا اور باقی قیدیوں کا بھی اس میل جول نہیں‌تھا اسے قرآن پاک کس نے دیا ؟یا اسے مذہبی مواد تک رسائی کیسے حاصل ہوئی ؟


کہیں‌یہ معاملہ کسی سطح‌پر بھی ذاتی مخاصمت یا نااہلی کا تو نہیں تھا ؟
کیوں کہ جو معاملہ محکمانہ طور پر نمٹایا جاسکتا تھا اور اس کا تدارک بھی ممکن تھا اسے عوام میں‌لاکر اشتعال پھیلانے کی کوشش کیوں‌کر کی گئی ؟
دوسری جانب ملزم عمران عرف بلا کے خلاف قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام کے تحت تھانہ سٹی میں ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ،واضح رہے کہ گرفتار ملزم کے خلاف اس سے قبل 2019 میں‌ایبٹ آباد کے نواں‌شہر تھانہ میں‌مذہب کی توہین کے تحت مقدمہ درج ہوا جس کیس میں وہ اس وقت جیل میں‌موجود ہے

ملزم عمران کے نفسیاتی علاج کا ڈاکٹر کا جاری شدہ نسخہ

تاہم اسی روز چند دستاویزات منظر عام پر آئیں‌جن کے مطابق ملزم نفسیاتی مریض‌ہے اورکچھ عرصہ وہ ہریپور سنٹرل جیل کے نفسیاتی وارڈ میں‌زیر علاج بھی رہ چکا ہے ،جبکہ جیل انتظامیہ کے مطابق نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ملزم کو دیگر قیدیوں سے الگ ایک سیل میں‌رکھا جاتا ہے اور اسے دیگر قیدیوں سے الگ اوقات میں سیل سے باہر نکالا جاتا ہے
واقعہ کیسے رونما ہوا ؟
ذرائع کے مطابق گذشتہ روز جب ملزم کو سیل سے نکالا گیا تو اس دوران بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا ،جس پر وہاں‌موجود دیگر قیدیوں نے اسے زدوکوب کرنے کی کوشش کی اور اس پر تشدد بھی کیا گیا ،تاہم پولیس نفری کی بروقت آمد کی وجہ سے ملزم کی جان بچ گئی اور اسے وہاں‌سے نکال کر کسی دوسرے مقام پر منتقل کردیا گیا .
تاہم جب ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس دوران ایک اہلکار نے اسے قیدیوں‌کے ہاتھوں‌سے چھڑوالیا ،جبکہ ایک دوسرے اہلکار نے واقعہ کی اطلاع باہر میڈیا اور چند لوگوں‌کو دی ،جنہوں نے دیگر شہریوں‌کو بھی جیل کے باہر جمع کرتے ہوئے ملزم کو حوالے کرنے کےلئے احتجاج شروع کردیا ،لیکن پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے اور یوں احتجاج کا سلسلہ شہر کے دیگر حصوں‌تک بھی پھیل گیا .
اور مشتعل مظاہرین نے شہر کے وسط سے گزرنے والی شاہراہ ریشم کو مختلف مقامات پر رکاوٹیں‌کھڑی کرتے ہوئے سڑک بند کردی جس سے شہر میں‌بدترین ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی ،جو رات گئے پولیس کی کوششوں سے بحال ہوپائی .
احتجاج کے دوران جیل کے قریبی علاقوں‌میں‌پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوا ،جنہیں‌منتشر کرنے کےلئے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج کرنا پڑا تھا .

ملزم عمران کون ہے ؟

نواں‌شہر جوگنی سے تعلق رکھنے والا ملزم عمران عرف بلا اب تک کارلفٹنگ ،منشیات سمیت درجنوں‌دیگر مقدمات میں‌ماخوذ ہونے کی وجہ سے جیل کاٹ رہا ہے اور اس پر اس سے قبل بھی جب ملز م ہریپو ر جیل میں‌زیر علاج تھااس پر توہین مذہب کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں‌

Translate »