تحریر : سدھیر احمد آفریدی
سرحد بندش کی بنیادی وجہ
گزشتہ سال 11 اکتوبر کو مختلف سرحدی پوائنٹس پر پاک افغان فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد طورخم ،چمن، غلام خان اور خرلاچی وغیرہ سرحدی تجارتی گزرگاہوں کو بند کرنا پڑا۔پاکستان کی طرف سے مسلسل افغان رجیم پر الزام دھرا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے
اور جب تک افغان رجیم دہشت گردوں کی پاکستان میں یہ دراندازی بند کرنے کی بین الاقوامی ضمانت نہیں دیگی تب تک آمدورفت اور تجارت کے لئے سرحد بند رہیگی۔ پاکستان سمیت عالمی برادری یہ بھی الزام لگا رہی ہے کہ افغانستان نے دہشت گرد پال رکھے ہیں جن سے خطے اور پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے۔
افغانستان کیا کہہ رہا ہے؟
افغانستان کے موجودہ امیر ہیبت اللہ اخونزادہ نے حکم جاری کیا ہے کہ افغانستان کے اندر امن ہے، مستحکم رجیم قائم ہے اور فی الوقت دارالحرب نہیں لہذا کسی جہاد اور قتال کی ضرورت نہیں اور اگر کسی نے افغانستان سے باہر پڑوسی ممالک میں کارروائی کی تو وہ جائز نہیں ہوگی اور اس کو جرم تصور کیا جائیگا افغان رجیم نے بھی گزشتہ ماہ مختلف اضلاع سے سینکڑوں علماء جمع کئے تھے اور ان سب نے بھی بالاتفاق فتویٰ جاری کر دیا کہ اب افغانستان کی کسی ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں لہذا پڑوسی ممالک میں کوئی بھی کارروائی از روئے شریعت درست نہیں ہوگی
اور ایسے کسی بھی فعل کو ریاست افغانستان کے خلاف غداری اور سازش سمجھا جائیگا اور ایسے عناصر کے خلاف افغان رجیم سخت کارروائی کریگی۔ افغان امیر المومنین ہیبت اللہ اخونزادہ اور افغان علماء کی متفقہ رائے یقیناً پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک کے لئے حوصلہ تھی مگر کافی نہیں۔ افغان رجیم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ افغانستان سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہو رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ شاید بوجوہ افغان رجیم اپنے ملک کے اندر دہشتگردی کی نیٹ ورک ختم کرنا نہیں چاہتی یا بے بس دکھائی دیتی ہے بحر حال خالی فتووں سے تو کام نہیں چلے گا۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور خصوصاً
قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کی جتنی بھی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کے تانے بانے افغانستان سے ملتی ہیں۔ اب اس کی وجوہات معلوم نہیں کہ پاکستان کے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کی یہ لہر کیوں ختم نہیں ہو رہی ؟ کیا خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے عوام خدانخواستہ مرتد ہوچکے ہیں یا کیا جو سیکیورٹی اہلکار وغیرہ شہید کئے جاتے ہیں انہوں نے کوئی غیر اسلامی کام کئے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں
- پاک فوج پر تنقید جرم قرار،اپوزیشن کی مخالفت
- امریکی انخلاء اور افغان طالبان کیلئے فیصلے کی گھڑی
- افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے اور سابق افغان صدر اشرف غنی کے افغانستان سے بھاگ جانے کے بعد دیگر شعبوں کی طرح پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی سخت متاثر ہوئی ہے
پاکستان تو ایک اسلامی ریاست ہے اس کے ننانوے فیصد لوگ مسلمان ہیں اور پختونخوا کے عوام تو پھر راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اس لئے عام لوگ حیران ہیں کہ یہاں اگر عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا سیکیورٹی اور پولیس کے آفسران اور اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو اس کی منطق کیا ہے، اس کا جواز کیا ہے اور اس سے حاصل کیا ہوگا یقیناً دونوں طرف سے جو کوئی ایکشن ہوتا ہے تو پاکستانی پختون اور مسلمان ہی مرتے ہیں۔
دہشت گردی کے مضر اثرات
جب بھی قبائل علاقوں یا پختونخوا کے کسی دوسرے حصے میں کوئی دہشت گردی ہوتی ہے،کوئی حملہ ہوتا ہے یا کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکار مقامی آبادی میں پہلے سرچ آپریشن کرتے ہیں، پھر پکڑ دھکڑ کرتے ہیں اور بعد میں صفائی کے لئے چھوٹے بڑے آپریشن کی نوبت بھی آتی ہے
جس کے نتیجے میں ہزاروں پختون بے گھر،پریشان حال اور ذلیل ہو جاتے ہیں جن میں ہر عمر کے لوگ، بچے، بوڑھے اور خواتین سب شامل ہوتے ہیں۔املاک اور گھروں کو نقصان پہنچتا ہے، معاشی مشکلات پیش آتی ہیں، نئی نسل تعلیم سے دور رہ جاتی ہے،نوجوان بے روزگار ہو جاتے ہیں اور بدقسمتی سے پختون خواتین بے پردہ ہوکر بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتی ہیں
تو کیا یہ قابل رحم صورتحال نہیں؟ کیا اللہ تعالٰی روز محشر ان مظالم کا حساب کتاب نہیں لیگا؟ ضرور پوچھا جائیگا اور ہر کسی کو اپنے سیاہ اور ظالمانہ عمل و کردار کا جواب دینا ہوگا اور ایسے ظالموں کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔
طورخم بارڈر کی بندش کے نتائج
گیارہ اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی گزرگاہیں بند پڑی ہیں یقیناً اس سے نہ صرف دونوں ممالک کا اربوں اور کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے عوام بھی کافی پریشان اور نقصانات اٹھا چکے ہیں۔
سب سے زیادہ طورخم سمیت دیگر تجارتی اور آمدورفت کی گزرگاہوں کی بندش کی وجہ سے بارڈر کے آس پاس قبائل برباد ہوگئے، ان کی معاشی زندگی صفر ہوچکی ہے، ان کے آپسی تعلقات اور رشتے بھی برے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔
چونکہ قبائلی علاقوں کے اندر پاکستانی حکمرانوں نے شروع سے قصداً عمداً کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے ہیں، کوئی صنعتیں نہیں لگائی ہیں قبائلی خطے میں زندگی کی بنیادی ضروریات آج بھی ناپید ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مشکلات سے بھری زندگی گزار رہے ہیں اس لئے سرحدی راستوں کی بندش سے ان کی چھوٹی موٹی معاشی اور روزگار کی سرگرمیوں پر بہت برا اور منفی اثر پڑا ہے۔
جو غریب مزدورکار روزانہ کچھ کما کر گھروں کے چولہے جلا سکتے تھے آج ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور ان کے گھروں میں فاقے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز بھی پریشان ہیں اور سب سے بڑھ کر سرحد کی بندش کی وجہ سے کارخانے دار اور صنعت کار پریشان ہیں جن کی مصنوعات اور پراڈکٹس کی برآمدات کے لئے واحد بڑی منڈی افغانستان ہے جس پر آج ایران، انڈیا اور مرکزی ایشیا کے ممالک کی مصنوعات نے قبضہ کر رکھا ہے۔
خدا سے تو حکمران ڈرتے نہیں اور عوام لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کے لئے نکلتے نہیں جن سے ڈر کر حکمران طبقات قبائل کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے ان کو باعزت روزگار اور معاش کے مواقع فراہم کریں۔ اتنی لمبی چوڑی تحریر سے یہ ثابت کرنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بند کرنے سے پاکستان کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے
اور افغانستان تو ویسے بھی تباہ حال ہے لہذا ایک تباہ حال ملک کے ساتھ پنگا لینا دانش مندی نہیں دوسرا یہ کہ افغان رجیم کا قیام اور برسر اقتدار طبقہ تو پاکستان کی حمایت سے وجود میں آئے ہیں لہذا جو فصل آپ نے بوئی ہے اب اس کے ثمرات سے مستفید ہونے کی فکر کریں تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان اگر بضد رہیگا اور افغانوں کو سرنگوں کرنے کی کوشش کریگا تو شاید جلد یا بدیر کامیاب ہو جائے لیکن جس نفرت کی فصل بوئی جا رہی ہے وہ مستقبل قریب اور مستقبل بعید میں پاکستان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
افغان قوم کی اپنی فطرت ہے ان کے ساتھ زبردستی کرنے سے کچھ نہیں ملیگا ان کے ساتھ نرمی اور بھائی چارے کا رویہ اپناوگے تو بہتر نتائج ملیں گے۔
افغانستان کا حکمران طبقہ بھی یہ ذہن نشین کر لیں کہ پاکستان کی حمایت اور تعاؤن کے بغیر ان کا طویل عرصے تک اقتدار سے چمٹے رہنا ناممکن ہے افغانستان کے مقابلے میں پاکستان انتہائی طاقتور،منظم اور خودکفیل ملک ہے افغانستان تو ایک لینڈ لاک ملک ہے جس کا سارا دارومدار پڑوسی ممالک پر ہے
پاکستان کے علاوہ موجودہ حالات میں ایران اور تاجکستان بھی افغان رجیم کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں بلکہ ناراض ہیں۔ اس لئے افغان رجیم ضد اور انا چھوڑ دیں اور پاکستان سے براہ راست بامعنی اور بامقصد مذاکرات کریں پاکستان کی ریاست کو باور کرائیں کہ افغانستان سے کوئی دہشت گرد کارروائی کے لئے سرحد پار نہیں کریگا
اور مل کر بارڈر کی سیکیورٹی کے لئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اور مکینزم بنائیں تاکہ دونوں ممالک امن سے رہے اور دہشت گردی کا قلع قمع ہو سکے امن ہوگا تو ترقی ہوگی اور خوشحالی آئیگی آئیے نئے سال کی ابتداء دونوں پڑوسی ممالک بامقصد اور بامعنی مذاکرات سے کریں خیر سگالی کے طور پر تجارتی راستے کھول دیں لوگوں کی آمد و رفت کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور نفرتوں کو ختم کر کے بھائی چارے اور محبت کی فضاء پیدا کریں۔۔۔۔