اسلام آباد: بیورو رپورٹ

مرسی کور پاکستان نے کمیونیل ڈیزیز کنٹرول (CDC) سندھ کی ٹیم کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔جس کا مقصد سندھ میں گلوبل فنڈ کے تعاون سے جاری ٹی بی پروگرام کے تحت مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
سی ڈی سی سندھ کے وفد کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر انجم سومرونے کی جبکہ ان کے ہمراہ ڈاکٹر شانتی پی پی ایم کوآرڈینیٹر اور نذیربھی شریک تھے

۔

مرسی کور کے وفد کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر عارف جبار خان نے کی جن کے ساتھ ڈاکٹر عدیل طاہر ڈائریکٹر، ٹی بی پروگرام، نظار عباسی سینئر پروگرام مینیجر اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں صوبے میں جاری سرگرمیوں وپیش رفت کا جائزہ لینے اور صوبے بھر میں ٹی بی کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ کی ترجیحات طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مرسی کور نے اپنے کام کے دائرہ کار اور کامیابیوں کو پیش کیاجن میں معیاری ٹی بی خدمات تک رسائی میں قابلِ ذکر بہتری شامل ہے۔


اجلاس کے دوران سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے کے لیے جدید اور مؤثر حکمتِ عملیوں پر بھی غور کیا گیا جن میں نجی شعبے میں ڈی سینٹرلائزڈ ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی (DR-TB) مراکز کے قیام کی تجویز شامل تھی تاکہ مریضوں کو علاج تک آسان رسائی اور تسلسل فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کا ایک اور مقصد جدید تشخیصی آلات کا جائزہ لے کر ٹی بی کی ابتدائی تشخیص کو بہتر بنانا اور صحت کے نظام کی کارکردگی میں اضافہ کرنا تھا۔ اس موقع پر سی ڈی سی سندھ کی ٹیم کو مجوزہ مطالعات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی تاکہ عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات سے ہم آہنگی اور نیشنل ٹی بی پروگرام کی منظوری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں سی ڈی سی سندھ نے منتخب اضلاع میں نئے پروجیکٹ کے نفاذ پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت صوبے میں مؤثر، بروقت اور مریض دوست ٹی بی خدمات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔
اجلاس میں سنٹرل مینجمنٹ یونٹ کے سینئر نمائندگان نے بھی شرکت کی جن میں ڈاکٹر فیصل سراج (پروگرام مینیجر)، ڈاکٹر نیاز کھوسہ (ڈائریکٹر، نیشنل ریفرنس لیبارٹری) اور مسٹر فیصل خانزادہ (سینئر مالیکیولر بایولوجسٹ) شامل تھے، جس سے مختلف شراکت داروں کے درمیان ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس نوعیت کے اجلاسوں کو سہ ماہی بنیادوں پر باقاعدہ بنایا جائے تاکہ مؤثر رابطہ کاری، معلومات کے تبادلے اور پروگرام کے دیرپا اثرات کو یقینی بنایا جا سکے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *