Image by Comfreak from Pixabay

آزادی ڈیسک
پشاور میں بچوں کی عدالت نے 8 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے مرتکب امام مسجد کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنادی ہے ۔
مقامی میڈیا کے مطابق مجرم قاری سعید نے دو سال قبل آٹھ سالہ بچی کو زیادتی کانشانہ بنایا تھا ،جو عدالت میں جرم ثابت ہونے کے بعد مجرم کو سزا سنائی گئی ہے ،جبکہ عائدکیاجانے والے جرمانہ بچی 18 سال کی عمر کے بعد حاصل کرسکے گی


ٹک ٹاک پر پھر پابندی عائد ،مواد معاشرے کیلئے قابل قبول نہیں‌،عدالت

اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پشاور کا چارلی چپلن


مجرم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (3) کے تحت سزا سنائی گئی ہے
جج ودیہ مشتاق کی عدالت سے جاری ہونے والے عدالتی حکم میں جج نے لکھا مجرم ایک امام مسجد ہے ،جس نے اپنے ایک کمرے میں کمسن بچی کیساتھ جرم کا ارتکاب کیا

جبکہ مجرم امام مسجد کو متاثرہ بچی کو تین لاکھ روپے سیونگز سرٹیفکیٹس کی صورت میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو متاثرہ بچی 18 سال کی عمر میں حاصل کرسکے گی

مجرم نے جو مسجد میں نماز جمعہ کی امامت بھی کرواتا رہا ہے ،اسلامیات میں ماسٹرز ڈگری حاصل کررکھی ہے
مجرم نے انتہائی سنگین جرم کا ارتکاب کیا ،بچی کو زدوکوب کیا اور اس پر تشدد کرکے اسے زیادتی کا نشانہ بنایاعدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ گواہی دینے والے بچے کا بیان پراعتماد ،متاثر کن اور سچائی پر مبنی پایا گیا

جبکہ میڈیکل رپورٹ بھی اس گواہی کی سچائی کی شہادت دیتی ہے اور کوئی ایسے شواہد نہیں پائے گئے جن سے ثابت ہوکہ پولیس نے ملزم پر جھوٹا الزام عائد کیا ہو


واضح رہے کہ متاثرہ بچی کے والد نے 14 مارچ 2019 کو ملزم کےخلاف 14مارچ 2019 کو مقدمہ درج کروایا تھا 
جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ گھر میں موجود تھے
جب ان کی کمسن بچی روتی ہوئی گھر آئی اور اس نے بتایا کہ اسے امام صاحب نے تعویذ دینے کے بہانے اپنے کمرے میں بلایا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنایا


تاہم ابتدائی طور پر ملزم نے اس معاملے کو امام مذہبی رنگ دینے اور احمدیوں پر الزام عائد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے اس الزام کو ثابت نہ کرسکے
اگرچہ عدالت میں استغاثہ نے واقعہ کو حادثاتی رنگ دینے کی بھی کوشش کی ،تاہم وکیل صفائی نے شواہد کیساتھ ثابت کیا کہ ملزم نے واقعی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا

جبکہ متاثرہ بجی نے عدالت میں بتایا تھا کہ وہ اپنے والد سے پیسے لیکر دکان پر جا رہی تھی کہ اسے امام مسجد نے اپنے پاس بلایا اور ایک جاننے والے کیلئے تعویذ دینے کا بتا کر کمرے میں لیکر گیا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں گھر آکر اس نے اپنے والدین کو اس واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا

Translate »