Spread the love

صفدرحسین
26فروری ویسے تو ہر سال آتا ہے لیکن 2019 والا فروری کچھ منفرد سا تھا ،کیوں‌کہ اس صبح جب آنکھ کھلی تو موبائل کی سکرین پر پڑنے والی پہلی نظر نے ہی کچھ گڑبڑ ہونے کا احساس دلا دیا ،جہاں‌مقامی صحافیوں کے فیس بک پیچز پر بالاکوٹ کے قریب دھماکوں‌کی آوازیں‌سنائی دینے کی خبریں‌گردش کررہی تھیں‌لیکن ابھی تک واضح نہیں‌تھا کہ ہوا کیا ہے ؟ یکدم ذہن میں‌2 مئی 2011 کا دن ابھر کر آیا ،جب رات کو ایبٹ آباد شہر کے وسط میں‌دھماکے ہوئے لیکن صبح 9 بجے تک کسی کو علم نہیں‌ہوسکا تھاکہ درحقیقت ہوا کیا ہے ،تاوقتیکہ امریکی صدر ابامہ کے اپنے قوم سے خطاب کے بعد پاکستان بھر کے صحافتی حلقوں اور شہریوں‌کو معلوم ہوا کہ رات گئے جو دھماکہ ہوا وہ ایک امریکی ہیلی کے گرنے کا نتیجہ تھا اور القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن ایک امریکی آپریشن کے نتیجے میں‌مارے جا چکے ہیں‌


بالکل اسی طرح‌کی صورتحال 26 مئی کو بھی تھی لیکن جلد ہی بھارتی میڈیا کی ویڈیوز اور خبریں‌سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگیں‌،جس سے اندازہ ہوا کہ اس بار امریکہ تو نہیں‌آیا البتہ بھارتی فضائیہ کے طیارے بالاکوٹ جابہ کے مقام پر چاندی ماری کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں‌واپس چلے گئے ہیں‌.
جب بھارتی چینلز کی خبریں دیکھیں‌تو ایسا محسوس ہوا کہ بالاکوٹ اور اس کے گردونواح‌میں‌خدانخواستہ بھارتی طیارے تباہی کر گئے ہیں‌،اور ہر سو لاشوں‌کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں‌،مقامی ایک دو صحافیوں سے بات ہوئی جو اس وقت بالاکوٹ میں‌ہونے والے ضمنی انتخاب کی کوریج کےلئے جا رہے تھے ان کے بقول وہاں‌تو ایسا کچھ بھی نہیں اور زندگی معمول کے مطابق ہے ،کسان اپنے کھیتوں‌میں‌ہیں‌،اور معمولات زندگی رواں دواں‌ہیں .البتہ کوئی بھی مقامی میڈیا سے وابستہ صحافی ابھی تک کھل کر اس بارے میں‌رائے دینے سے احتراز برت رہا تھا ،کیوں‌کہ پاکستان کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں‌کوئی سرکاری بیان جاری نہیں‌ہوا تھا اور نہ ہی پاک فوج نے کسی ردعمل کا اظہار کیا تھا

اعلان برات

ایک دو گھنٹے بعد جو بیان جاری ہوا اس میں‌بھی کہا گیا کہ بھارت جس بالاکوٹ پر حملے کا دعویٰ‌کررہا ہے وہ آزادکشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع کسی بالاکوٹ گائوں‌کا ذکر ہورہا ہے ،بھارت میں‌اتنی جرات نہیں‌کہ وہ بین الاقوامی سرحد کو پار کرتے ہوئے پاکستان کے شہر بالاکوٹ پر بمباری کا سوچ بھی سکے .
لیکن بھارتی دعوئوں‌کے زیر اثر بین الاقوامی میڈیا نے بھی کھوج لگا لی کہ جس بالاکوٹ کا ذکر ہورہا ہے وہ ضلع مانسہرہ میں ہی واقع ہے .

اسی گومگو میں ایبٹ آباد شہر پہنچے تووہاں‌ لوگوں‌کے تاثرات کچھ اچھا نہ ہونے کی نشاندہی کررہے تھے ،عام لوگوں‌میں‌قدرے مایوسی اور غم و غصہ پایا جاتا تھا انہیں‌بھارتی طیاروں‌کےآنے کا اتنا دکھ نہیں‌تھا جتنا ان کے صحیح سلامت واپس جانے پر افسوس ہو رہا تھا .عام شہریوں‌کے ذہنی کرب کی حالت وہی تھی جو 2011 میں تھی لیکن خاموشی اور بے بسی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا .تھوڑی دیر بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ہوئی جس میں‌انہوں‌نے بتایا کہ بھارتی طیاروں‌لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی کوشش کی جو ناکام بنادی گئی اور بھارتی طیارے اپنا اضافی وزن عجلت میں گر کر بھاگ نکلے ہیں‌.
26 فروری کا دن مجموعی طور پر پوری پاکستانی قوم کے لئے ایک صبر آزما اور اعصاب شکن دن تھا ،ایک طرف حکومتی و فوجی سطح پر اطمینان اور تحمل کاماحول تھا تو دوسری جانب بھارتی میڈیا کے منہ سے اڑتی جھاگ اور ان کی قیادت کی لن ترانیاں خون کھولائے جارہی تھیں‌.جہاں‌سارے چینلز پروار رومز قائم کئے جاچکے تھے اور ازکاررفتہ قسم کے فوجی جرنیل خیالی دشمن کو مارے جانے کے قصے یوں‌چٹخارے مار تے ہوئے بیان کررہے تھے جیسے وہ رات کو خود جہازوں‌کے نیچے لٹک کر سارے مناظر دیکھ رہے ہوں‌.اگر تو بھارتی میڈیا یا مودی سرکار کے مشیران گوئبل کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کررہے تھے تو مجھے یہ یقین ہے اگر گوئبل زندہ ہو جاتا اور وہ اپنے نظریہ پروپیگنڈہ کی یوں‌درگت بنتا دیکھ لیتا یقینا بھارتی پروپیگنڈہ کرنے والوں‌کا آخری ٹھکانہ یا تو ہٹلر کا کوئی گیس چیمبر ہوتا یا کم از کم ان کی باقی زندگی کسی بیگار کیمپ میں‌گزر جاتی.کیوں‌کہ وہاں‌جو تجزیہ نگار اور فوجی ماہرین دعوے کررہے تھے ان کا زمین پر کوئی وجود نہ تھا اور نہ ہی بعد میں‌کبھی ان کا ثبوت پیش کیا جاسکا .
لیکن جس جگہ پر حملے کے وہ دعوے کررہے تھے وہاں‌مکمل طور پر امن وسکون تھا ،ماسوائے ان چند درختوں کے زخمی ہونے کے جو بھاگتے جہازوں‌کے گرائے لوڈ کی زد میں‌آگئے تھے بھارتی حملے کا کوئی نام و نشان نہ تھا .ایبٹ آباد شہر میں‌جن لوگوں‌سے ملاقات ہوئی خاص طو ر پر 65 اور 71 کے غازی ایک بار پھر دشمن پر جھپٹنے کو بے چین دکھائی دے رہے تھے ،
حقیقت تو یہ تھی کہ اپنی پاک فوج کی صلاحیتوں اور بہادری پر بھرپور بھروسے کے باوجود اندر سے بے چینی محسوس ہورہی تھی کہ دشمن بچ کر کیسے نکل گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے یہاں تک آنے کی جرات کیسے ہوئی ؟
خیر یہ جلتے کڑھتے یہ دن بھی گزر ہی گیا .
اگلے روز یعنی 27 فروری کی صبح پوری پاکستانی قوم جس کے ردعمل کے انتظار میں‌دنیا دم سادھے بیٹھی تھی کیا منظر پیش کرے گی ،ان ہی سوچوں‌میں غلطاں ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں‌داخل ہوا تو پروڈیوسر صاحب نے ایک پروگرام میں‌مع کچھ ضروری ہدایات کے بیٹھنے کی ہدایت کی ،ریڈیو پر جنگی ترانے چل رہے تھے ،عمارت کے اندر اور باہر ایک جنگی ماحول سے بنا ہوا نظر تو آرہا تھا لیکن اس میں‌بھی سنجیدگی اور تحمل کا پہلو غالب تھا
پروگرام میں بیٹھے ساتھ ساتھ موبائل فون پر انٹرنیٹ کے ذریعے تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھی ہوئی تھیں‌،شاید دس یا ساڑھے بجے کا وقت ہوگا کہ یکایک ماحول میں ہیجان انگیز کیفیت پیدا ہوتی دکھائی دینے لگی
جہاں‌ٹی وی کی سکرینوں‌پر تازہ ترین کی پٹی چلتی دکھائی دے رہیں تھی اور پھر وہ کچھ ہو گیا جس نے پاکستانی قوم کا سرفخر سے بلنداور دنیا کو حیرت میں‌مبتلا کرکے رکھ دیا

کیوں کہ رات کی تاریکی میں چوروں‌کی طرح چھپ کر آنے والے دشمن کو دن کے شفاف اجالے میں‌دن دیہاڑے وہ منہ توڑ جواب دیدیا گیا جس کا کسی کو گمان تک نہ تھا ،
بھارتی چینلز کے وہ سٹوڈیوز جہاں تھوڑی دیر قبل فتح و سرشاری کے شادیانے گونج رہے تھے ان میں‌عجیب طرح کی بے چینی اور خالی پن نظر آرہا تھا جبکہ اس کے برعکس پاکستانی چینلز دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ بیٹنگ پر اترتے نظر آئے ،کیوں کہ بھارتی پائیلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری کی ویڈیوز اور تباہ شدہ طیارے کی تصاویر نے ان کے دعوئوں‌کو تصدیق کا جواز فراہم کردیا تھا ،جوں ہی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں‌عالمی نشریاتی اداروں‌کی خبریں اور تجزیے بھی بھارتی دعوئوں‌کے برعکس پاکستان کی بیان کردہ حقیقت کو تسلیم کرتے دکھائی دینے لگے .بین الاقوامی نشریاتی ادارے جو ابھی تک بھارتی فضائی حملے میں‌مارے جانے والے 350 مبینہ دہشت گردوں‌کی لاشوں‌کی گنتی پوری نہیں‌کرپارہے تھے انہیں‌پاکستان کی قید میں موجود ونگ کمانڈر ابھی نندن اور ان کے تباہ شدہ طیاروں‌کاملبہ زیادہ حقیقت کے قریب ترین دکھائی دینے لگا تھا ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی خبروں‌میں‌اور تجزیوں میں‌دوایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی ممکنہ جنگ اور اس کے اثرات کے بارے میں زیادہ فکر مندی دکھائی دے رہی تھی

26 اور 27 فروری 2019 ء اب ماضی کا حصہ ہے ،لیکن دونوں ممالک کے درمیان سات دہائیوں کی کشمکش کا ایک سنگ میل بھی ہے .ہمیشہ ایک جنگ محاذ‌پر اور دوسری میڈیا پر لڑی جاتی ہے ،اور ایسے دور میں‌جبکہ ٹیکنالوجی عام ہے اور لوگوں‌کا اطلاعات تک رسائی کا دائرہ وسیع ہے وہاں‌حقیقت کو چھپانا ممکن نہیں‌رہا .یہی وجہ ہے کہ 26 فروری کو پاکستان اگر دفاعی پوزیشن پر تھا تو 27 فروری کو بھارت ہزیمت سے دوچار تھا،کیوں کہ ایک طرف صرف دعوے اور جھوٹ تھا تو دوسری جانب حقیقت اور سچائی تھی ..


کوچہ قلم میں نووارد

Translate »