صفدر حسین

گذشتہ روز جب یہ خبر نظر سے گزری کہ وزیر اعظم صاحب کرونا ویکسین یافتگان کی صف میں شامل ہوگٸے ہیں تو دلی طور پر اطمینان بھی ہوا کہ نیازی صاحب خیر سے ساٹھ کے ہو چکے ہیں اس لیے اب وہ کھلنڈرے نوجوان نہیں رہے بلکہ ایک بردبار اور جہاندیدہ عالمی رہنماٶں کی صف میں شامل ہونے والے ہیں۔

لیکن ہماری خوشی و اطمینان سے حالات کو اتنی ہی پرخاش ہے جتنی کہ ہمارے سند یافتہ محبان وطن کو سیاست یا جمہوریت سے ۔کیونکہ آج یہ خبر بھی گردش کرنے لگی کہ محترم عمران خان کا کرونا پازیٹو آ گیا ہے

پہلے تو ہم نے اس خبر کو پی ڈی ایم کے سوشل میڈیا مجاہدین کی کارستانی سمجھا لیکن جب قومی و بین الاقوامی میڈیا پر بھی یہ خبر تسلسل کے ساتھ نشر ہونے لگی ۔
تو دل بہت ملول ہوا اور دل سے یہ دعا نکلی کہ خداۓ مہربان خان صاحب کو اپنی امان میں رکھے اور انہیں قوم کی خدمت کا بھرپور موقع عطا فرماٸے کہ ابھی بھی چند آنکھوں میں نٸے پاکستان کا خواب دیکھنے کی رمق باقی ہے


اعلان برات


۔لیکن برا ہو حاسدین انقلاب و دشمنان خواب کا کہ انہوں نے ایک روز قبل ویکسین کے فورا بعد ہی کرونا مثبت آنے کی خبر کا تعلق فوری طور پر فارن فنڈنگ کیس میں پیشی سے جوڑ دیا ۔ممکن ہے یہ بات بدخواہوں کی ہزاروں دیگر باتوں کی طرح جھوٹ کا پلندہ ہی نکلے

۔کیونکہ اس سے قبل بھی خان صاحب نے آٸین و قانون کی پاسداری کے متعدد بار عملی نمونے پیش کیے

بہرحال ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام انسانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے

اگرچہ اس بات کا متذکرہ بالا خبروں سے کوٸی تعلق نہیں لیکن عملی زندگی کا ایک مشاہدہ ہے اس لیے بیان کیے دیتے ہیں تاوقتیکہ اگر کہیں کسی کو کوٸی دقت پیش آنے لگے تو حالات کے سدھار کیلیے مجرب و آزمودہ استادی نسخہ پر بھی غور کیا جاۓ تو اس کے حالات کے سدھار کی قوی امید ہے

یہ اس زمانے کا قصہ ہے جب ہم گاٶں کے ایک سرکاری سکول میں کچی پہلی کے اعلی تعلیمی مدارج طے کر رہے تھے ۔

ہماری کلاس میں ایک لڑکا ہوتا تھا جس کی گرج دار آواز میں گالیاں اور پہاڑے گاٶں کے دوسرے کونے میں بھی سننے کی شہادتیں پاٸی جاتی تھیں
لیکن نجانے کیوں تختی لکھنے کے معاملے میں ہمیشہ اس کی جان جاتی۔ استاد جی جب بھی پوچھتے تو اس کے بستے سے پراٹھے کے علاوہ ایک نہ ایک بہانہ ضرور نکلتا

رفتہ رفتہ اس کے پاس حیلے بہانوں کا سٹاک بھی ختم ہو گیا۔تو اس نے طبی وجوہات کی آڑ میں پناہ لینا شروع کردی

ادھر استاد جی کلاس روم میں قدم رنجہ
فرماتے ادھر وہ عظیم طالبعلم کبھی کان پر ہاتھ رکھ ساون بھادوں کی جھڑی لگا دیتے کبھی اسے شدید چکر و متلی کی شکایت محسوس ہونے لگتی
ایک دن جونہی تفریح کے بعد تختی چیک کروانے کا سلسلہ شروع ہوا وہ اپنی جگہ پر لوٹ پوٹ ہونا شروع ہو گیا ۔
استاد جی نے پوچھا کیا ہو گیا ہے ؟
اس نے زمین پر لڑھکنیاں کھاتے جواب دیا استاد جی میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے میں مر رہا ہوں
استاد جی چند لمحے اسے دیکھتے رہے پھر بولے اچھا آج میں تمہیں گولی دیتا ہوں پھر کبھی کہیں درد نہیں ہوگا

انہوں چار لڑکوں کو حکم دیا کہ اسے جہاز بنا دو

اور پھر کہو کی شمک سے اسے ایسی آٹھ دس گولیاں دیں کہ اگلے پانچ سال کے دوران ہم نے شاید ہی اسے کبھی سردرد کی شکایت کرتے ہوٸے بھی دیکھا ہو
لیکن پراٸمری سکول کے پورے دور میں لڑکے اسے اصل نام کے بجاۓ گولی استاد کہہ کر بلاتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Translate »