Spread the love

آزادی نیوز
گلگت بلتستان کی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے عبوری طورپر صوبے کا درجہ دینے اور قومی اسمبلی ،سینٹ اور دیگر وفاقی اداروں میں‌نمائندگی کا مطالبہ کردیا ہے
تمام اراکین کے اتفاق رائے سے منظور ہونے والی اس قرارداد کے ذریعے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو ایک عبوری صوبائی حیثیت دینے اور حقوق کے تحفظ کیلئے آئین پاکستان میں‌ترمیم کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے
جبکہ گلگت بلتستان کے نمائندے اور عوام مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں‌ان کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھنے پر کاربند ہیں

گلگت بلتستان اسمبلی سے منظور ہونے والی قرارداد کا عکس

مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے نئے ہتھیار،غاصب فوج کی نیند اڑ گئی

غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا

جامعہ ہریپور میں کشمیر ڈیسک قائم،کاز کو اجاگر کرنا ہوگا،سردار مسعود

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق کی 20 ماہ بعد رہائی


ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ

واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں‌ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں‌زیادہ نشستیں پاکستان تحریک انصاف نے جیت کر وہاں‌حکومت بنائی تھی.


وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے اپنے ایک ٹویٹ میں‌گلگت بلتستان اسمبلی سے قرارداد کی متفقہ منظوری کو ایک تاریخی لمحہ قراردیا ،اور کہا کہ یہ عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کا سنگ میل ثابت ہوگا .انہوں نے قرارداد کی منظوری کیلئے کوشش کرنے والے تمام اراکین اسمبلی کو بھی مبارکباد دی
گلگت بلتستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا اگر اسمبلی کے کسی فیصلے پر عمل نہیں‌ہوتا تو اسمبلی کی بے توقیری ہوگی .میں‌اسمبلی کو کسی صورت بے توقیر نہیں‌ہونے دوں گا ،اسمبلی کے ہر فیصلے پر عملدرآمدکروانا ہماری ذمہ داری ہے
جبکہ وزیر اعلیٰ‌گلگت بلتستان محمد خالد خورشید خان نے عوام کے آئینی حق کےلئے حکومت اور اپوزیشن کی متفقہ رائے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے علاقے اور عوام کی ترقی کےلئے اتحاد کو برقرار رکھنے پر زور دیا .انہوں نے کہا یہ کسی ایک فرد،جماعت کا انفرادی مطالبہ نہیں‌بلکہ گلگت بلتستان کی ساری عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں‌ان کا آئینی حق دیا جائے اور آج کا دن اس حوالے سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے جب عوام کے منتخب نمائندوں‌نے اتفاق رائے سے عوام کے دیرینہ مطالبہ کیلئے آواز اٹھائی ہے

سوشل میڈیا پر شہریوں کا ردعمل

دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آرہی ہیں‌،بعض‌اس بات پر خوش ہیں‌کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے وہاں‌کے عوام کی آئینی حیثیت مضبوط ہوگی ،جبکہ بعض‌کے خیال میں‌اس فیصلے سے کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور ہوگا.

Translate »