Spread the love

آزادی نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام میں ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے میں نے پاک فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں۔

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزرا کے ہمراہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کررہے ہیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام میں نہ خوف ہے اور نہ احتیاط کررہے ہیں اس لیے وبا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ویکسین کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ویکسین کے حصول کی پوری کوشش کررہے ہیں، پہلے بین الاقوامی سطح پر بھارت سے ویکسین دیے جانے کا فیصلہ ہوا تھا جہاں دنیا کے دوسرے نمبر پر ویکسینز بنتی ہیں لیکن انہوں نے 2، 3 ممالک کو دی اور اب اتنے برے حالات ہیں کہ وہ اب کسی کو نہیں دے رہے۔


سابق آئی جی خیبرپختونخواہ ناصر درانی کورونا سے بازی ہارگئے

خیبرپختونخواہ ،نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

26کورونااموات،ایوب میڈیکل کمپلیکس کی تمام او پی ڈیز بند


وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے چین سے ویکسین مانگی ہے لیکن وہاں بھی طلب بہت زیادہ ہے باقی دنیا میں ہر جگہ ویکسین کی کمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ویکسین آ بھی جائے تو اس کا اثر ہونے میں ایک سال کا عرصہ لگے گا، اگر ہم آج سے ٹیکے لگانے شروع کریں تو کیسز کے نیچے آنے میں وقت لگے گا لیکن سب سے زیادہ فرق ایس او پیز سے پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک قوم مل کر اس وبا کا مقابلہ نہیں کرے گی ہم اس سے نہیں جیت سکتے، گزشتہ برس جس طرح لوگوں نے ایس او پیز پر عمل کیا اس میں اور آج کے وقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ لہر کے دوران شاید ہی کوئی ایس او پیز پر عمل کررہا ہے لہٰذا اب ہم سختی کریں گے اور اُمید ہے کہ عوام ایس او پیز پر عمل کریں گے تو سب سے خوفناک چیز یعنی شہروں کا لاک ڈاؤن نہیں کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے حالات دیکھیں کہ وہاں کس طرح آکسیجن کی کمی ہے، ہسپتال بھرے ہوئے ہیں کئی مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں کورونا وائرس کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میری اپیل ہے کہ اگر ہم نے احتیاط نہیں کی تو زیادہ سے زیادہ ہفتے، 2 ہفتوں میں ہمارے بھی بھارت جیسے حالات ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے ہسپتالوں میں بھارت والے حالات اس لیے نہیں ہوئے کہ کیوں کہ ہم نے گزشتہ برس ہسپتالوں کی گنجائش میں اضافہ کردیا تھا، اگر گزشتہ سال والی گنجائش ہوتی تو آج پاکستان میں بھی بھارت والے حالات ہوتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں جس طرح کورونا وائرس کے کسیز میں جس طرح تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے میری اپیل ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں، ہم بار بار ایس او پیز کا کہتے ہیں پر لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے لیکن صرف ماسک لگانے سے ہمارا 50 فیصد مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم آج سے عید تک عوام ایس او پیز پر عمل کرلیں تو شاید ہمیں وہ اقدامات نہیں اٹھانے پڑیں گے جو بھارت کو کرنا پڑا یعنی شہروں کا لاک ڈاؤن کرنا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کا تجربہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں سب سے کمزور اور غریب طبقہ پس جاتا ہے مجھے لوگ آج بھی کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کردو لیکن ہم دیہاڑی دار طبقے کے لیے اس فیصلے سے رکے ہوئے ہیں لیکن کب تک رکے رہیں گے یہ آپ پر منحصر ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ ‘کورونا کی انتہائی تیزی سے بگڑتی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے شہروں میں فوج طلب کر لی ہے تاکہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کرایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عمومی معمولات متاثر ہوں گے، ہم آکسیجن کے استعمال کی 90 فیصد صلاحیت پر پہنچ گئے ہیں، لاہور کورونا سے بدترین متاثر ہے احتیاط کریں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں

Translate »