Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:2 Minute, 21 Second

آزادی ڈیسک
گذشتہ ایک سال سے بھارتی حراست میں موجود معروف کشمیری حریت پسند رہنما محمد اشرف صحراٸی چل بسے ۔
وہ جموں کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج تھے ۔77 سالہ اشرف صحراٸی تحریک آزادی کشمیر کے مضبوط وکیل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی بھارتی استبداد کے خلاف لڑتے ہوۓ گزار دی ۔
ٹوئٹرپر بھارت نوازی کا الزام،کشمیریوں کی آواز متعدد اکائونٹس معطل
غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا

آل پارٹیز حریت کانفرنس نے الزام عاٸد کیا کہ اشرف صحراٸی کافی عرصہ سے صحت کے مساٸل سے دوچار تھے جنہیں سنگین طبی مساٸل کے باوجود بھارتی حکام نے زیر حراست رکھا ہوا تھا
کانفرنس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مختلف بھارتی جیلوں میں موجود سینکڑوں سیاسی اسیران کی رہاٸی کیلیۓ متعدد بار درخواستیں کی جا چکی ہیں
لیکن کورونا کے بدترین بحران سے دوچار بھارت سیاسی قیدیوں کی جانوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈال رہا ہے
پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی تحریک حریت کے رہنما اشرف صحراٸی کو بھارتی حکام نے گذشتہ ایک سال بغیر کسی مقدمے کے جیل میں بند کر رکھا تھا
1960 کے عشرے سے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم اپنی جدوجہد کا آغاز کرنیوالے اشرف صحراٸی کا شمار حریت رہنما سید علی گیلانی کےقریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا ۔جنہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ قید و بند میں گزارا

واضح رہے کہ 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آٸینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اب تک ہزاروں سیاسی رہنما اور کارکنان جبری حراست میں ہیں ۔

اشرف صحراٸی کے صاحبزادے جنید اشرف جو کہ حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر تھے 2019 میں سرینگر میں بھارتی فوج کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوگٸے تھے جس کے بعد اشرف صحراٸی کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا
جبکہ اہلخانہ کیمطابق ادھم پور جیل میں موجود اشرف صحراٸی سے ان کے اہلخانہ کو پچھلے پانچ ماہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی
ان کے بیٹے مجاہد صحراٸی نے بتایا کہ گذشتہ شام انہیں ان کے والد کی خراب طبیعت کے بارے میں آگاہ کیا گیا
اور بتایا گیا کہ وہ ہسپتال منتقل کر دیے گٸے ہیں جس پر میں جموں پہنچا لیکن ابھی تک میت ہمارے حوالے نہیں کی گٸی
مجاہد نے مزید بتایا کہ ان کے والد کو مختلف امراض لاحق تھے ۔لیکن جیل میں حراست کے دوران ان کی حالت مزید ابتر ہوگٸی ۔ہم گھر سے ان کیلٸے دواٸیں بھیجتے تھے
ہم نے عدالتوں میں متعدد بار انہیں طبی امداد کی فراہمی کیلٸے درخواستیں داٸر کیں لیکن ہمیں کوٸی کامیابی نہیں ملی
آخری بار ہماری دوہفتے قبل ان سے بات ہوٸی تھی جس میں انہوں جسم میں درد اور کمزوری کا بتایا ۔ انہیں مناسب خوراک بھی نہیں مل رہی تھی لیکن اس کے باوجود وہ روزے رکھ رہے تھے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post دو مئی 2011 کی روداد ،صحافیوں کی زبانی
Next post پیارے دا جی گل کے نام……از مسرت اللہ جان
Translate »