مسرت اللہ جان


پشتو میں ایک مثل مشہور ہے” چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولے دے” اس کے لفظی معنی تو یوں بنتے ہیں کہ گدھا اگر دوسرے گدھے سے قد کاٹھ میں کم ہو تو اس کے کان کاٹنے چاہئیے

پتہ نہیں یہ کس دل جلے نے کہا تھا ؟ لیکن ایک بات کا یقین ہے کہ یہ مثل پختون قوم نے کہی ہے لیکن یہ کونسے وقت میں کہی گئی اس پر تاریخ دان خاموش ہیں

لیکن اس مثل سے ایک بات او ر بھی ثابت ہوگئی کہ جس طرح کے حالات آج کل چل رہے ہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے حالات پختون قوم پر گزرے ہیں..لیکن پھر بھی یہ قوم نہیں سمجھی..

اتنی لمبی تمہید قومی اسمبلی میں پیش آنیوالے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے جس میں موجودہ حکومت کے ممبران اسمبلی جن میں خواتین بھی شامل ہیں نے قومی اسمبلی میں وہ طوفان بدتمیزی برپا کی


یہ بھی پڑھیں

  1. سیاحت کا فروغ،سلاٸیڈز اور کاغذی منصوبے
  2. بےخانماں‌ریڈیوآرٹسٹ اورخوگرحمد کا گلہ
  3. ملالہ کا بیان ، ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور لائسنس برانچ
  4. برقی ووٹنگ یا انتخابی عمل کیسے بدلا جائے؟ راحت ملک

جس میں انہوں نے کتابوں کو ایک دوسرے پر مارنے اور پھینکنے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ، جس طرح کا ہمارا دفاع ہے اس طرح کے دفاعی وزیر نے بھی اپنی بساط کے مطابق مخالفین پر کتاب پھینکنے کی بھرپور سعی کی

اور ایک دوسرے کو نشانہ بنایا. اس عمل کی صرف تبدیلی والی سرکار ذمہ دار نہیں بلکہ دوسری پارٹی بھی اسی طرح ہی ملوث اور ذمہ دار ہیں

تاہم تبدیلی والی سرکار پر اس معاملے میں بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس عہدہ اور طاقت ہے اور عہدے اور طاقت والے ہمیشہ جھک کر ملتے ہیں اور یہی بڑا پن بھی ہے

لیکن جس طرح کی صورتحال قومی اسمبلی میں دیکھنے کو ملی اس سے یہ ثابت ہوا کہ پرانے والے تو تھے ہی لیکن اب تبدیلی والے بھی اسی سے کم نہیں.

یعنی وہ پشتو مثل چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولو دے. والی صورتحال ہے.

مزے کی بات تو یہ ہے کہ جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے وہ سوشل میڈیا پر ہوئی یعنی عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے پی ٹی وی ، اے پی پی سمیت پرائیویٹ ٹی وی چینل بھی اس طرح قومی اسمبلی کو کوریج نہیں دی جس طرح دینی چاہئیے تھی

تاکہ پتہ تو چلتا کہ اسمبلی میں بھیجے جانے والے ان ممبران اسمبلی کی کارکردگی کیسی ہے؟ویسے ویڈیو میں ایک دوسرے پر کتابیں پھینکنے والوں کی تعداد کم و بیش دو درجن ہے ،

جن میں ایک صاحب سیٹیاں بجانے والے بھی نظر آئے ، ماشاءاللہ ..جس سے اندازہ ہوا کہ سیٹی بجا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے والے کیسے کیسے لوگ اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں

جن کا بنیادی کام تو کچھ اور تھا لیکن مزے کی بات تو یہ ہے کہ اسمبلی میں قانون سازوں کو عقل سکھانے کے بجائے یہاں پر تعینات سیکورٹی اہلکار بیچ بچاﺅ میں مصروف رہے.

اگر بازار میں اس طرح کی صورتحال پیش آتی،کسی سکول میں اس طرح کا واقعہ پیش آتا ، کسی ہسپتال میں اس طرح کی صورتحال پیش آتی ، تو کیا سیکورٹی اہلکار اس طرح بیچ بچاﺅ کراتے یا پھر ” غریبوں کوہتھکڑیاں” لگتیں .

یقینا ہتھکڑیاں ہی لگتیں ، ایف آئی آر درج ہوتی ، لیکن ، چونکہ اسمبلی میں جا کر ” لوگوں پر قانون” لاگو نہیں ہوتا اس لئے دو درجن افراد میں صرف ” سات افراد ” کی نشاندہی ہوگئی جن پر پابندی لگ گئی. یعنی اللہ اللہ خیر صلا..

ایک اور چیز جو ” چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولو دے” اس مثل کے بارے میں یقین ہوا کہ تبدیلی والی سرکار کا پہلا تجربہ اسی پختونخواہ میں ہوا تھا اور نوجوانوں کیساتھ ساتھ مخصوص نسل کے خواتین نے ڈی چوک سے لیکر پشاور کے مختلف گراﺅنڈز اور سٹیڈیم میں ناچ ناچ کر اسی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا.

اب اسی صوبے کے لوگ سب سے زیادہ چیخیں مار رہے ہیں لیکن اگر یہی لوگ اپنے اسلاف کے مثل ” چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولو دے” پر توجہ دیتے تو کم از کم وہ تبدیلی والی سرکار کو سپورٹ نہ کرتے

جس کی وجہ سے آج قومی اسمبلی میں اس طرح کی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہیں ، کچھ لوگ اسے مارشل لاءکیلئے راستہ ہموار کرنے کا ڈرامہ کہہ رہے ہیں کچھ سیاست نابالغوں پر بات کررہے ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ “جیسی روح ویسے فرشتے” ، یعنی جس طرح ہم لوگ ہیں اس طرح کے ہمارے ” لی ڈر”نما نمونے بھی ہیں

ؒنمونے پر یاد آیا لاہور میں ایک مذہبی شخصیت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جس میں نازیبا حرکات دکھائی دے رہے ہیں- اخلاقی پستی کی انتہا یہ ہے کہ جو خود متاثر ہے وہ اپنی صداقت بیان کرنے کیلئے ویڈیو بناتا ہے اور پھر اسے وائرل کیا جاتا ہے .

ابھی تک ا س بارے میں مذہبی جماعتیں بھی خاموش ہیں ، سوائے مخصوص پارٹی کے جس کیساتھ مخصوص مولوی کا تعلق بھی ہے . اللہ تعالی شیطان کے وار سے ہر انسان کو بچائے. انسان خطاکار ہیں .

لیکن کیا ہم اس بارے میں بات اس لئے نہیں کرسکتے کہ متعلقہ شخص کا تعلق ایک مذہبی پارٹی سے ہے ، لیکن کیا صرف ایک شخص کے ذاتی کردار کی وجہ سے مدارس کو نشانہ بنانا ٹھیک ہے اس بارے میں ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ،

جس شخص نے غلط حرکت کی ہے چونکہ وہ مذہب کی آڑ میں اپنا مکروہ کام کررہا تھا اس لئے اسے اسی مذہب کی طرف سے متعین کردہ سزا دی جائے

اور یہ سزا بھی سرعام دی جائے تو کم از کم مستقبل میں کوئی بھی شخص اس طرح کی حرکت نہیں کرسکے گا.

مذہب کی آڑ میں گندا دھندا اور ردعمل

ویسے ایک بات جو سمجھنے کی ہے کہ مسلسل سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی اس مکروہ ویڈیو کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟اس بارے میں سیکورٹی اداروں کو بھی جانچ پڑتال کرنی ہوگی

ٹھیک ہے جس شخص نے غلطی کی اسے سزا دی جائے لیکن ساتھ میں دنیا بھر میں مدارس کو بدنام کرنے والے ایسے افراد کا محاسبہ بھی کیا جائے جوصرف اپنا بغض نکالنے کیلئے مدارس پر آوازیں اٹھا رہے ہیں.

انہی مدارس نے ایسے علماءکرام پیدا کئے ہیں جن کے ساتھ بیٹھنا،جن کے پاس بیٹھنا بھی لوگ اپنے لئے اعزازسمجھتے ہیں

اور یہ سب اعجاز ان کی قرآن اور حدیث کیساتھ محبت ہے.جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے انکے محبت کو عام لوگوں کے دلوں میں بسا دیا ہے.

معذرت کیساتھ موٹے پیٹوں والے سرکاری مولوی نہیں جن کے آگے پیچھے ہوٹر ہوتے ہیں اور وہ اپنے مذہبی وابستگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں..

Translate »