راحت ملک

کوئٹہ

19فروری2021ءکو سیالکوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں جو کچھ ہوا تھا الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ اس پر خط تنسیخ پھر چکی ہیں پھر 10اپریل کو اس حلقے میں اچانک دوبارہ پولنگ کرائی گئی

اور جو انتخابی نتیجہ سامنے آیا ہے وہ حکمران پی ٹی آئی کیلئے ناخوشگوار رہا بلکہ کئی سنجیدہ سوالات کا مجموعہ ثابت ہوا۔ کیونکہ اس سارے عمل میں حکومت کو تین بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے

پہلی ناکامی تو 19فروری کے روز انتخابی کامیابی کیلئے مرتب کی گئی حکمت عملی کی صورت دیکھنی پڑی جب پولنگ والے دن حلقہ میں بدامنی کا مظاہرہ ہوا دو کارکن شہید ہوئے۔

فائرنگ موٹر سائیکل سوار نوجوان ٹی وی کیمروں میں تو صاف دکھائی دیے البتہ ان میں سے کوئی بھی انصاف کے کٹہرے تک تاحال نہیں پہنچا

گھر کے سدھار کی باتیں اور خطےکے مستقبل کا ممکنہ نقشہ

الیکشن کمیشن تحریک انصاف کا اگلا نشانہ

پھر 20 پریزائڈنگ افسر معہ انتخابی عمل دھند کی زد میں کہیں کھو گئے الیکشن کمیشن کی اتھارٹی کو پنجاب کی صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے ذریعے بھرپور طور پر چیلنج کیا گیاجو حکمران جماعت کی اعلیٰ قیادت کی رضا مندی کے بغیر ممکن نہیں تھا

چنانچہ الیکشن کمیشن نے پورے حلقے کے انتخابی نتائج منسوخ کر کے از سر نو شفاف پرامن رائے شماری کرانے کا حکم دیا حکومت نے ای سی کے افیصیلےکو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا مگر اعلیٰ عدلیہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا

جو حکومت کے لیے ناکامی دوسری ناکامی تھی۔ اگر پہلی بدانتظامی پر مبنی دھاندلی پر استوار تھی تو دوسری قانونی میدان میں قواعد و ضوابط سے لاعلمی پر دلالت کرتی تھی

سابق صدر آصف علی زرداری فاٸل فوٹو

اس دوران حکومتی حلقے وزیراعظم وزراءاور مشیران و معاونین خصوصی کی فوج نے خصوصی اہتمام کے ساتھ الیکشن کمیشن پر تنقید کی بارش کی ۔وزراء نے الیکشن کمیشن پر پرامن شفاف انتخاب کرانے میں ناکامی کا الزام لگایا اور اس سے مستعفی ہو جانے کا مطالبہ کیا

حالانکہ جو کچھ ہوا تھا وہ صوبائی حکومت کے ایماءاور ڈسکہ انتخاب کے نگران سابق معاون خصوصی کی بصیرت کا نتیجہ تھا۔ مستعفی تو وزیراعلیٰ ، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ہونا چاہیے تھا لیکن حکمران جماعت انتخابی دھاندلی کی سکیم کی ناکامی کا سارا ملبہ الیکشن کمیشن کے سر تھونپ کر گویا خود غسل ٍ نجابت فرمالیا۔

شاید اسی موقع کی مناسبت سے محاورۃ کہا جاتا ہے کہ زورآور مارے اور رونے بھی نہ دے۔

پی ڈی ایم اجلاس کے بعد رہنمائوں کی پریس کانفرنس فاٸل فوٹو

اب جبکہ ملک میں ہائی برڈ بندوبست کے مطابق گنگا الٹی بہہ رہی ہے تو حاکمین کے احکامات بھی مخالف سمت چلنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ حکومت کے لیےتیسری ناکامی 10 اپریل 2021 کی عوامی رائے شماری کے بعد سامنے آئی جب نون لیگ نے 19ہزار ووٹوں کی برتری سے انتخابی معرکہ سر کر لیا۔

حکومت آخری وقت تک انتخابی نتائج اور ووٹرز کا ذہنی سیاسی رجحان بدلنے کے لیے کوشاں رہی ترقیاتی فنڈز کے اجراءاور اسجد ملیہی کے وفاقی وزیر بنایے جانے کا لالچ دیا گیا جو کارگر ثابت نہیں ہوا امکان ہے کہ ڈسکہ کی کامیابی کراچی کے ضمنی انتخاب پر بھی اثر انداز ہوگی اور مفتاح اسماعیل کامیاب ہو سکتے ہیں یہ بیانیہ 10 اپریل کے نتیجہ کے فوری بعد ابلاغی ذرائع میں سنائی دیا ہے۔

دوسری جانب انہی ذرائع ابلاغ میں جہاں پی ڈی ایم کو ناکام سیاسی تحریک قرار دیا جارہا ہے تو میڈیا پرسن کی دلیل بڑی دلچسپ اور ذومعنی ہے کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت کا برقرار رہنا اس کی دلیل ہے۔ تو ساتھ ہی حزب اختلاف بالخصوص نون لیگ کی جانب سے ضمنی انتخابات میں شرکت کو پی ڈی ایم کی پارلیمانی اداروں سے مستعفی ہونے کی پالیسی سے برعکس ثابت کرنے کیلئے کھیسانے انداز میں تنقید کی جاتی ہے۔ یہ تضاد ٍ فکری ابلاغی تجزیات کے غیر سیاسی پن کی عمدہ مثال ہے۔
پارلیمان سے استعفے اجتماعی احتجاج کا انتہائی موثر انداز ثابت ہوگا لہذا ضمنی انتخاب میں شرکت کر کے اور حکومتی امیدوار کو شکست سے دوچار کرنا ، عوامی سطح پر حکومت کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف اور اس دعوے کی تائید کا ٹھوس عمل ہے کہ 2018ء میں پیٹی آئی کو جو انتخابی کامیابی ملی تھی

وہ عوامی ووٹ کی بجایے کسی دوسری” شے “کا کرشمہ تھا پارلیمان سے زیادہ سے زیادہ ارکان کا احتجاجاً مستعفی ہونا حکمران جماعت کی نااہلی اور پارلیمانی جمہوری اداروں کے اندر سے اس پر اظہاربیزاری ہوگا

چجانچہ جتنی زیادہ تعداد میں ارکان پارلیمنٹ مستعفی ہونگے اسی نسبت سے اس عمل کے اثرات مرتب ہونگے لہذا ضروری ہے کہ آنے والے دنوں کی متذکرہ حکمت عملی کو موثر اور وژن کا حامل بنانے کیلئے ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرنا لازمی ہے

بصورت دیگر حکومت کو ضمنی انتخابات کے ذریعے اسمبلیوں میں اپنی عددی پوزیشن مستحکم بنانے کا سنہری موقع مل سکتا ہے نہیں بھولنا چاہئے کہ ان ضمنی انتخابات میں جیتنے والے امیدواروں کو جو حزب اختلاف پی ڈی ایم سے وابستہ ہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انہیں مستقبل قریب میں استعفی دینا ہے

اسی طرح انکے ووٹرز کو بھی علم ہوتا ہے کہ جسے وہ اپنا ووٹ دے رہے ہیں اس نے حلقے کے ترقیاتی مسائل حل نہیں کرنے بلکہ کسی بھی وقت اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دینا ہے اس احساس اور علم کے علی الرغم عوام اگر حزب اختلاف کے امیدوار کو جتواتے ہیں تو دراصل وہ اس نقطہ نظر کو تقویت دینے میں شریک ہوتے ہیں

کہ ان کا نمائندہ موجودہ مسلط شدہ ہائی برڈ نظام کی اذیت سے انہیں نجات دلانے میں کردار ادا کرے گا میرا خیال ہے کہ ضمنی انتخاب میں شرکت اور فتح مندی دراصل حالیہ سیاسی مزاحمتی تحریک کی حکمت عملی سے پوری ہم آہنگ ہے اس میں تضاد تلاش کرنے والے شاید اپنی خواہشات کے اسیر ہوتے ہیں

یہ دلیل بھی منطقی طور پر جائز نہیں کہ نون لیگ نے ضمنی انتخاب میں شرکت کر کے جناب زرداری کی پارلیمان میں رہتے ہوئے مزاحمت کرنے کی پالیسی کی تائید کی ہے جناب زرداری کی پالیسی ہائی برڈ نظام کے اندر داخل ہونے کا انداز ہے

جبکہ پی ڈی ایم حکومت کی بجائے اس ہائی برڈ نظام کی شکست و ریخت کیلئے عوامی و پارلیمانی ذرائع بروئے کار لانا چاہتی ہے اس کا حصہ بننا غرض و غایت نہیں بلکہ اندر اور باہر ( عوامی جمہوری اور جمہوری پارلیمانی ) دو طرفہ دباؤ براے کار لانا چاھتی ہے اس کے خاتمے کے لیے دونوں اطراف مجتمع شدہ توانائی استعمال کرنا ہے

اس لئے میں تصاد کے برعکس اس عمل میں وحدت اور اتحاد فکر و عمل کے امکانات دیکھتا ہوں ڈسکہ کے انتخاب نے حکومت اور عوام کے درمیان موجود چیلنج کو موثر طور پر گہرا اور نمایاں کر دیا ہے بلاشبہ چند جماعتوں کے پی ڈی ایم قافلے سے راہیں جدا کرنے سے اس کی مقدار میں کمی آئی ہے لیکن پی ڈی ایم تتر بتر تو نہیں ہوئی بلکہ اس کی کوالٹی میں اضافہ ہوا ہے ہم آہنگی باھمی اتفاق بڑھا ہے جس کے فوائد جلد سامنے آئیں گے ۔

Translate »