Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:3 Minute, 11 Second

مسرت اللہ جان

پشاور


پشاو ر میں مہمند قوم سے تعلق رکھنے والے افراد کا 40 سال بعد سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا ،جسے اقوام مہمند لویہ جرگہ کانام دیا گیا ہے ۔

اس جرگہ میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے ضلع خیبر کی آٹھ تحصیلوں سے مہمند قوم کے مشران و عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔جن میں بائیزی، حلیمزئی، خوگاخیل، نظر خیل، عیسی خیل سمیت قبیلوں کے مشران شامل تھے- سخت گرمی میں ہونیوالے جرگہ میں پشاور ،اسلام آباد ،لاہورسمیت ملک کے دیگر شہروں میں مقیم مہمند قبائل کے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے

ذرائع کے مطابق لویہ جرگہ کا مقصد افغان سرحد پر واقع گورسل بارڈر کو کھولنے ،مہمند ڈیم میں مقامی نوجوانوں کو ملازمتوں ،مفت بجلی اور ورسک ڈیم کی رائیلٹی کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا اور مہمند قوم کا اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا تھا ۔

البتہ مقررین نے اپنے اپنے خطابات میں ماربل تنازعات، میڈیکل و انجنئیرنگ کالج میں طلباء کے کوٹے، پانی و بجلی کی فراہمی، نادرا کے دفاتر میں خواتین اہلکاروں کی بھرتی، مردم شماری کرنے اور دہشت گردی کے دوران متاثر ہونیوالے گھروں کو رقوم دینے کے مطالبات پیش کئے –


یہ بھی پڑھیں

  1. پشاورمیں طویل تعطل کے بعد کھیل کی سرگرمیوں کا خوشگوارآغاز
  2. پشاورمیں ایڈہاک ڈاکٹر ز کا مستقل ملازمتوں کیلئے احتجاج
  3. امریکی انخلاء اور افغان طالبان کیلئے فیصلے کی گھڑی
  4. اخوندسالاک کابلگرامی مغلیہ سلطنت کےخلاف قبائل کو متحد کرنیوالے صوفی بزرگ

جبکہ مشران نے دیگر مطالبات بھی پیش کئے جن میں شناختی کارڈ کی بندش کی روک تھام، متنازعہ دیہات کو مہمند ضلع سے الحاق رکھنے سمیڈا کے فنڈز جاری کرنے اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے جیسے مسائل پیش کئے گئے-

قومی لویہ جرگہ میں تمام افراد نے خوگاخیل اور دوڑ خیل قوم کیلئے شناختی کارڈ کی بندش اور پاسپورٹ جیسے مسائل پر بات چیت کی اور اس حوالے سے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا. تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل دوبارہ سر نہ اٹھائیں.

صبح نو بجے شروع ہونیوالے اس قومی جرگے میں ابتداء میں ہی مقررین کیلئے واضح ہدایت نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت انہیں محدود وقت میں بات مکمل کرنے اور کسی متنازعہ معاملہ پر بات نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ،

البتہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مشران کی جانب سے اپنے پارٹی نظریات کے پرچار کا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا

جبکہ بعض مقررین نے سٹیج سے متعدد بار تنبہیہ کے باوجود ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بالخصوص مختلف علاقوں میں واقع ایف سی چیک پوسٹوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تاہم انہی میں سے کچھ مقررین نے ان چوکیوں کی موجودگی کی حمایت بھی کی کیوں کہ ان کے خیال میں دہشت گردی کے واقعات بڑھنے کا خدشہ موجود ہے جن کے تدارک کےلئے چوکیوں کی موجودگی ضروری ہے

قومی جرگہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ احساس پروگرام کے تحت خواتین کو ملنے والی رقم مردوں کے ذریعے فراہم کی جائے کیوں کہ اس طرح خواتین کی عزت نفس مجروع ہوتی ہے
اسی طرح جرگہ میں مہمند سے قومی و اسمبلی کی نشتستیں ختم کرنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ ہوا ۔

مہمند لویہ جرگہ کے مشران نے تعلیم کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں مسائل کے حل کیلئے کمیٹیاں قائم کی جائے جو کہ بیس بیس افراد پر مشتمل ہوں، تریالیس مطالبات کی فہرست کو تمام مہمند قوم کے مشران نے سراہا تاہم یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس طرح کا جرگہ بائیزی میں دوبارہ کرایا جائے

جرگے میں تین کمیٹیاں قائم کرنے کا بھی اعلان ہوا جس میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہونگے جو نہ صرف قومی تنازعات حل کرنے کی کوشش کرینگے بلکہ حکومتی فورم پر ایشوز کو بھی اجاگر کرینگے-

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post پشاورمیں طویل تعطل کے بعد کھیل کی سرگرمیوں کا خوشگوارآغاز
Next post مانسہرہ ،گاڑی ندی میں‌گرنے سے 2 بچوں‌سمیت 7 افراد جاں بحق
Translate »