0 0
Read Time:6 Minute, 15 Second

خیبر پختونخوا میں نسوار استعمال کرنے والے بیشتر افراد یہ سمجھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ "نسوار دا خاپیرو نشہ دہ ” یعنی نسوارکا نشہ پریوں کا نشہ ہے ، جن تو کہہ نہیں سکتے کیونکہ خاپیر ی پشتو زبان میں اس لڑکی کو کہتے ہیں جو خوبصورت ہوں .

لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ نسوار کھانے والے خاپیری ہے یا پھر اسے منہ میں ڈالنے کے بعد لوگوں کے حواس پر خاپیری مسلط ہوتی ہیں – خاپیری دیکھنے کی ہماری بھی بچپن سے بڑی خواہش تھی اور ہے بھی جو ابھی تک پوری ہی نہیں ہوئی .

کلچر اور ہراسمنٹ ۔۔۔۔۔۔۔محمود فیاض

سدا بادشاہی خدا کی…….خالدقیوم تنولی

لوگ کہتے تھے کہ شادی کے بعد آپ کے گھر میں خاپیری آئے گی . تو سمجھ آجائے گی . خاپیر ی تو نہیں آئی البتہ بیگم آئی. جو آغاز میں تو خاپیری خاپیری لگی لیکن وقت کیساتھ اب خاپیر ی تو نہیں رہی البتہ جن. سوری ..گھر کی باتیں باہر نہیں کرتے ویسے بھی اسی گھر میں رہنا ہے اور میں کچھ زیادہ ہی شریف آدمی ہوں.

بات نسوار کی ہورہی ہے کیا نسوار پختون معاشرے میں کلچر کی حیثیت رکھتا ہے یا اس کی کوئی تاریخی اہمیت ہے اس بارے میں معلومات نہ تو کسی نسواری کے پاس ہے اور نہ نسوار فروخت کرنے والے کے پاس ، بس نسل درنسل لوگ اس گندگی چیز کو .. نسواریانوں سے معذرت کیساتھ.. منہ میں رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں نشہ ہے.

جو شائد صحیح بھی ہو کیونکہ ہمیں کیاپتہ نسوار میں کتنا نشہ ہوتا ہے. وہ کیا کہتے ہیں گدھے کو کیا پتہ ادرک کا سواد ، گدھا اپنے آپ کو اس لئے لکھ دیا کہ نسواریاں ، یعنی نسوار استعمال کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ نسوار نہیں کرتے وہ نہ تو پختون ہے اور نہ ان کے سر میں انسان کا سر ہوتا ہے

سابق افغان صدر حامد کرزئی کی نسوار لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر جو بعدازاں ایڈیٹنگ کا نتیجہ قرار پائی

تو بجائے اس کے کوئی نسواری ہمیں گدھا کہیں ہم خود کو گدھا تسلیم کرتے ہوئے یہ پوچھنے کی جرات کرتے ہیں کہ اس گندگی چیز کا ہمارے ثقافت سے کیا تعلق ہے اور یہ سوال کلچر اینڈ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ سے بھی ہے ساتھ میں پشاور میں چلنے والی بی آر ٹی کی انتظامیہ سے بھی . کہ کیا تمباکو ، راکھ اور دیگر مرکبات سے بننے والی گولی نما چیز ہماری ثقافت میں ہے بھی کہ نہیں.


گذشتہ دنوں سابق افغان صدر حامد کرزئی کی روس میں اجلاس کے دوران ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں سابق افغان صدر نے ہتھیلی اٹھائی ہوئی ہے اور کسی دل جلے نے اس کے ہاتھ میں نسوار کی ڈبی سے نسوار ڈالنے کی کوشش کو دکھایا ہے-

یہ تصویر بعد میں غلط بتائی گئی اور کہا گیا کہ صدر کرزئی کرونا کی وجہ سے سینی ٹائزر مانگ رہے تھے اور کسی نے اس کے ہاتھ میں نسوار کی ڈبیہ پکڑا دی . جسے لوگ بڑے فخر سے شیئر کرتے رہے کہ پھٹ.. آن.. ہی ہوتا ہے چاہے روس میں ہو یا افغانستان میں یا پاکستان میں

یا پھر جو بھی اس کے پاس عہدہ ہو.وہ اگر نسوار کرے گا تو اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کریگا. ویسے اس وائرل تصویر میں نسوار تھی یا سینی ٹائزر ، دونوں کی ایک ہی بات مشترک ہے کہ دونوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے .ہاں یہ بات ہے کہ نسوار کی شائد اب کم وقعت ہو البتہ سینی ٹائزر کی وقعت زیادہ ہوگئی ہے لوگ پہلے جیب میں نسوار کی شیشے والی ڈبی رکھتی تھے اب لوگ جیبوں میں سینی ٹائزر کے بوتل رکھتے ہیں. کہ کہیں کرونا والے جراثیم انہیں کچھ کہہ نہ دے اور وہ موت کا شکار نہ ہوں.جیسے کہ لوگوں کی موت صرف کرونا میں ہی لکھی ہے کسی اور چیز میں نہیں..

بات کہیں اور نکل گئی ، ہم کلچر اینڈ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ سے یہ سوال کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ کیا نسوار ہمارے کلچر میں ہے اور اگر ہے تو بی آر ٹی والے کون ہوتے ہیں ہمارے کلچر کا مذاق اڑانے والے ، یہ تو نسواریانو ، معذرت کیساتھ پختونوں کیساتھ زیادتی ہے.

آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ نسوار پر اتنی لمبی تحریر کا مقصد کیا اسے پختون ثقافت کیساتھ جوڑنا ہے یا اس بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے میرا مقصد صرف دا خاپیرو نشے یعنی نسوار کے حوالے سے ایک ایشو پر بات کرنا ہے.

خیبر پختونخواہ ٹورازم اتھارٹی نے جو کسی زمانے میں ٹورازم اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ تھی نے ایک ویڈیو بنائی ہے جو کہ بی آر ٹی میں سوار ہوتے ہی مسافروں کو دکھائی جاتی ہیں جس میں مختلف علاقوں کی کلچرل سرگرمیوں کو دکھایا جاتا ہے اس میں نسوار بنانے کے عمل اور پلاسٹک کے تھیلیوں میں اسے رکھنے کا عمل دکھایا گیا ہے ،

اس ویڈیو کو دیکھ کر کبھی کبھار دل میں اس ” خاپیرو ژ”والے نشہ سے مستفید ہونے کو بھی دل کرتا ہے کہ کیا پتہ ہم بھی خاپیرے ہو جائیں یا پھر ہمیں خواب میں خاپیری نظر آجائیں. بی آر ٹی میں سوار ہونے کے بعد یہ ویڈیو آپ کو ہر گاڑی میں کہیں نہ کہیں سکرین پر دکھائے دے گی جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شائد نسوار ہمارے کلچر کا ہی حصہ ہے.

اور اگر نسوار ہمارے کلچر و ثقافت کا حصہ ہے تو پھر پشاور میں چلنے والی روڈ ٹرانسپورٹ بی آر ٹی والے کون ہوتے ہیں جنہوں نے ہر گاڑی میں شیشوں پر لکھا ہوتا ہے کہ نسوار پھینکنے کی ممانعت ہے ، یعنی بی آر ٹی آر ٹی کے سکرین پر نسوار کی مشہوری ہو ، لیکن اگر کوئی خاپیر و والا نشہ کرتا ہو اور وہ اس کی مقررہ مدت کے بعد اسے گاڑی میں گرانے کی کوشش کرے تو اس کی ممانعت ہے ،

یہ تو پختون کلچر کی توہین ہے ویسے بھی ہمیں اپنا کلچر عزیز ہے اور پختونو ں کے حقوق اور کلچر کے دعویداروں کو اس بارے میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے کہ اگر نسوار ہمارا کلچر ہے تو پھر خاپیرو والے نشے کی موٹی موٹی اور گول گول ٹکیہ گرانا ہر جگہ بھی ہمارا کلچر ہے

اگر ایک کلچر کوپروموٹ کیا جارہا ہے تو پھر دوسرے کلچر کیساتھ زیادتی کیوں. اور اگر نسوار ہمارا کلچر نہیں تو پھر . اس کی ویڈیو کیوں بی آر ٹی میں دکھائی جاتی ہے.. یہ وہ سوال ہے جو صاحب اختیار لوگوں کو خود ہی اٹھانے کی ضرورت ہے.
ویسے سوال یہ بھی ہے کہ دا چارسدے نسوار اور دا بنوں نسوار جسے لوگ بڑی فخر سے بازار میں چیخیں مارکر فروخت کرتے ہیں کیا یہ بھی ان علاقوں کی ثقافت کا حصہ ہے.اب ان دونوں علاقوں کی نسوار میں کتنا فرق ہے اس کا تو پتہ اسے استعمال کرنے والوں کو ہی ہوگا . لیکن اسے بازار میں یوں گلے پھاڑ پھاڑ کر فروخت کرنا شائد یہ بھی پھٹ .. آنوں کا کلچر ہے. حالانکہ نشہ آور چیزوں کا استعمال قانون ، اخلاقا اور شرعا غلط ہے لیکن..شائد یہ بھی ایک کلچر ہے.

25 سال سے قلم قافلے میں شامل مسرت اللہ جان نے پشاور یونیورسٹی کے آئی پی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جرنلزم میں 2014 میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ۔خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے واحد صحافی ہیں جنہوں نے ایشین کالج آف جرنلزم چنائی بھارت سے موبائل جرنلزم کی تربیت حاصل کی ،مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور فری لانس صحافی کام کررہے ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھے ان کے کالمز تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں ،پاکستان فیڈریشن کونسل آف کالمسٹ کے صوبائی نائب صدر ہیں

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »