آزادی ڈیسک

پاکستان کشمیریوں کیلئے کچھ مخصوص رعایات کے عوض بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے ،لیکن مذاکرات کے آغاز سے قبل پاکستان بھارت سے کشمیر کے حوالے سے کچھ اقدامات کی توقع رکھتا ہے ۔

عالمی خبررساں ادارے الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دوطرفہ پیش رفت سے آگاہ ایک اعلیٰ پاکستانی سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان دوطرفہ مذاکرات کاسلسلہ آگے بڑھانا چاہتا ہے

اگرچہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان فروری 2019 میں کشمیر میں ہونے والے ایک بم حملے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حالات بدستور تنائو کا شکار ہیں البتہ رواں سال کے دوران دوطرفہ خطوط کے تبادلے ،2003 کے سیزفائر معاہدے کی تجدید اور کئی ایسے شواہد سامنے آئے جس سے دونوں طرف کی برف پگھلتی ہوئی دکھائی دی ہے


افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا پر بھارت پریشان

متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں پاک بھارت خفیہ مذاکرات

ٹوئٹرپر بھارت نوازی کا الزام،کشمیریوں کی آواز متعدد اکائونٹس معطل


تاہم پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان کشمیر کے معاملے پر اپنے موقف پر قائم ہے جو کہ ایک عالمی طور پر مسلمہ متنازعہ خطہ ہے ،لیکن اس وقت پاکستان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ کشمیری امن اور معمول کے مطابق زندگی گزار پائیں

پاکستان بھارت سے کیا چاہتا ہے ؟

اس حوالے سے پاکستانی اہلکار نے کچھ ایسی شرائط کی طرف اشارہ کیا ہے جن کی بنیاد پر پاکستان بھارت کیساتھ دوطرفہ تعلقات آگے بڑھانا چاہتا ہے

ان میں سب سے پہلی شرط کشمیر کی آبادیاتی خدوخال میں تبدیلی کے قوانین کا مستقل خاتمہ ہے جہاں اپریل 2020 میں بھارت نے نئے قوانین کے ذریعے پورے بھارت سے شہریوں کو کشمیر میں مستقل رہائش کی اجازت دیدی ہے

دوسرا بھارت کو کشمیر میں بند تمام سیاسی قیدیوں اور ان لوگوں کو فوری رہا کرنا ہوگا جنہیں اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد لاک ڈائون کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا

تیسرا کشمیر میں مواصلات اور شہریوں کی نقل حرکت پر عائد پابندی کا فوری خاتمہ کرنا ہوگا

چوتھا اگست 2019 میں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کی بحالی اور پاکستان کیساتھ کشمیر کی عالمی مسلمہ متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنا

پانچواں بھارت کو کشمیر میں تعینات لاکھوں فوجیوں کو ہٹانا ہوگا ،کیوں کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہزاروں اضافی سیکورٹی اہلکار متنازعہ علاقے میں تعینات کیئے گئے

پاکستانی اہلکار کے مطابق یہ وہ نکات ہیں جو مذاکرات کیلئے ماحول کو سازگار بنا سکتے ہیں ،اگلے مرحلے میں بھارت جو بھی شرائط رکھتا ہے وہ کشمیریوں کیلئے قابل قبول ہونا چاہییں کیوں کہ کشمیریوں کے بغیر پاکستان کا آگے بڑھنا ممکن نہ ہوگا

پاکستان کے ایک اور اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بھی انہی نکات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا اگر بھارت ان باتوں پر رضامند نہیں ہوتا تو یہ ابتداء سے پہلے انتہا ہوگی

اس حوالے سے بھارت کے ترجمان دفتر خارجہ آرندم باگچی اور پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کوئی تبصرہ نہیں کیا البتہ پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی اب بھارت کے کاندھوں پر ہے

انہوں نے کہا بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کےلئے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے کیوں کہ بھارت 5 اگست 2019 کو کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اور غیر اخلاقی فیصلہ کرتے ماحول کو پراگندہ کرچکا ہے اس لئے ماحول کی بحالی بھی اب بھارت کی ذمہ داری ہے

آرٹیکل 370 ہمارا درد سر نہیں

اگرچہ پاکستان کے مطالبات میں سے آرٹیکل 370 کی بحالی کا ذکر غائب ہے ،اس حوالے سے پاکستانی حکام کا موقف تھا کہ آرٹیکل 370 ہمارا دردسر ہے ہی نہیں کیوں کہ پاکستان نے کشمیر میں کبھی بھارتی آئین کو تسلیم ہی نہیں کیا

وہ آرٹیکل 370 کو بحال کرتے ہیں یا ختم کرتے ہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ،ہمارا مقصد صرف کشمیری شناخت کو برقرار رکھنا ہے

کیا کشمیریوں کی زندگی میں بہتری آئی ہے؟کیا آپ واضح طور پر کشمیر کو عالمی طور مسلمہ تنازعہ تسلیم کرتے ہیں یا آپ جو بھی کہیں پاکستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں

تاہم دہلی میں قائم کونسل فار سٹریٹجک اینڈ ڈیفنس ریسرچ کے بانی ہیپی مان جیکب کے مطابق 370 کا معاملہ پاکستان کی سوچ میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ اس معاملے پر بھارت کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا

ان کے خیال میں پاکستان کی شرائط ایسی بھی نہیں ہیں جن پر بات نہ ہوسکے ،یہ قابل عمل شرائط ہیں

اگرچہ حالیہ مہینوں کے دوران بھارت نے کشمیر میں کچھ پابندیاں نرم کی ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماورائے عدالت قتل اور بزور طاقت گمشدگیوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں

فروری میں 18 ماہ کی پابندی کے بعد کشمیر میں انٹرنیٹ بحال ہوا ،جبکہ وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کے خاتمے کو عارضی قرار دے چکے ہیں

نومبر اور دسمبر میں بھارتی حکومت نے کشمیر میں لوکل باڈیز کے انتخابات کروائے تھے جس میں مودی مخالف اتحاد کو بھاری اکثریت حاصل ہوئے ،تاہم مبصرین ان انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھا چکے ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت انتخابات کا انعقاد بھارتی حکومت کی جانب سے صرف یہ ظاہر کرنے کی کوشش تھی کہ وادی میں حالات اب معمول کے مطابق ہیں

پاکستانی صحافی سرل المائیڈا کے خیال میں بھارت شاید ہی ایسے کوئی اقدامات اٹھائے جو پاکستان کے دبائو میں آکر دکھائی دے رہے ہوں البتہ اس بات کا امکان ہے کہ بھارت کشمیر میں کچھ سیاسی اقدامات اٹھائے جنہیں پاکستان مذاکرات کی بحالی کے موزوں قرار دیدے

واضح رہے کہ رواں ماہ کے دروان عالمی خبررساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ اسی سال جنوری میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور بھارت کے انٹیلی جنس حکام کے درمیان خفیہ ملاقات ہوئی تھی جس کے نتیجے میں فروری میں سیزفائرمعاہدے کا اعلان ہوا

 

Translate »