آزادی ڈیسک

برطانیہ کے ایک سیاسی گروپ تحریک کشمیر نے الزام عائد کیا ہے کہ سوشل رابطوں کی ویب سائیٹ ٹویئٹر پاکستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے ٹوئٹر اکائونٹس کو بغیر کوئی وجہ بتائے معطل کررہا ہے ،جبکہ اس کے برعکس بھارتی گروپوں کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے

اس گروپ کے سربراہ فہیم کیانی کے مطابق سوشل میڈیا وہ جگہ ہے جہاں کشمیریوں سمیت تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےخلاف آگاہی فراہم کی جاسکتی ہے ،تاہم کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے والے ٹوئٹر اکائونٹس کو بڑی تعداد میں بند کیا جارہا ہے

انہوں نے بتایا کہ بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے والے معروف ٹویٹر اکائونٹس سٹینڈ ودھ کشمیر اور کشمیر سیوتاس کے علاوہ تحریک کشمیر برطانیہ کی سیکرٹری اطلاعات ریحانہ علی کا ٹوئٹر اکائونٹ بھی معطل کردیا گیا ہے

مقبوضہ کشمیر میں 3 حریت پسندوں کی شہادت ،مظاہروں کا سلسلہ شروع

مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے نئے ہتھیار،بھارتی فوج کی نیند اڑ گئی

جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹوئٹر کے آئی ٹی عملے میں بڑٰی تعداد میں بھارتی لوگ موجود ہیں اس کے علاوہ اس کے دفاتر بھی بھارت میں واقع ہیں ،لیکن ٹوئٹر کو اپنی جانبدارانہ پالیسی کو روکنا ہوگا ۔

فہیم کیانی کے بقول ایسے تمام اکائونٹس ٹوئٹر کی پالیسی کے خلاف قرار دے کر بند کئے گئے حالانکہ یہ سچ نہیں

آپ کسی بھی کشمیری سے پوچھیں تو وہ آپ کو یہی بتائے گا کہ گذشتہ سالوں کے دوران ان میں سے ہر ایک کے ایک یا دواکائونٹس بند کئے گئے ،جبکہ اس کے برعکس منظم انداز میں کشمیریوں کی تضحیک کرنے والے یا انہیں ہراساں کرنے والے بھارتی اکائونٹس کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت ہے

فہیم کیانی نے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی اور کشمیری اکائونٹس کے مقابلے میں بھارت نواز پالیسی ترک کردے

تحریک کشمیر برطانیہ کے ڈائریکٹر شعبہ اطلاعات یحییٰ اختر نے بتایا کہ ریحانہ علی کا ٹوئٹر اکائونٹ یوم پاکستان کے دن پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بند کیا گیا

حالانکہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں ،ان کا اکائونٹ اس لئے بند کیا گیا کیونکہ وہ تحریک کشمیر کی سرکردہ کارکن ،ایک قانون دان ،لیکچرر اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ وائس فار کشمیر کے نام سے ایک ٹوئٹر اکائونٹ بھی چلا رہی تھیں جسے بند کردیا گیا

جو آزادی اظہار پر بڑھتی ہوئی قدغن کا اظہار ہے

انہوں نے کہا کشمیر کاز کےلئے ریحانہ علی کی جدوجہد مثالی ہے جو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے علاوہ کشمیریوں کےخلاف استعمال ہونے والے ظالمانہ قوانین کےخلاف آواز اٹھا رہی تھیں

سچ کو سامنے آنا چاہئے

یحییٰ اختر کے بقول ریحانہ علی کی آواز غاصب بھارتی حکمرانوں کیلئے خطرہ تھی جس وہ خاموش کروانا چاہتے تھے

انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں ،صحافیوں اور ٹویٹر صارفین پر زور دیا کہ وہ ریحانہ علی کے اکائونٹ کی بحالی کیلئے مہم چلائیں ،جنہوں نے ٹوئٹر کی کسی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی

انہوں نے ہمیشہ سچ کا علم بلند کیا اور انسانیت اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کیلئے سچ کو سامنے آنا چاہیے

اس حوالے سے ریحانہ علی نے بتایا کہ ٹوئٹر نے ان کا ذاتی اور کام کا اکائونٹ بغیر کوئی وجہ بتائے معطل کردیا

حالانکہ میرے تمام ٹوئٹس کشمیریوں پر لاگو کئے جانے والے بھارتی ظالمانہ قوانین کے خلاف حقائق پر مبنی تھے ،لیکن یہ بھارت کیلئے ایک خطرہ تھا کیونکہ وہ ان مظالم کو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے

اسی مقصد کیلئے بھارت نے کشمیر پر 15 ماہ سے زائد عرصہ سے میڈیا بلیک آئوٹ کررکھا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے میرا ٹوئٹر اکائونٹ بے بنیاد اور جھوٹے الزام کے تحت بند کروایا

انہوں نے کہا اگر ٹوئٹر نے ان کا اکائونٹ بحال نہ کیا تو وہ برطانوی شہری ہونے کے ناطے ٹوئٹر کےخلاف عدالت جائیں گی

کیوں کہ اس طرح ٹوئٹر نے ذاتی اظہار رائے کی آزادی کےلئے انسانی حقوق کی شق 10 کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے

 

Translate »