مسرت اللہ جان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ اگر کسی نے مشہور ہونا ہے تو ” پہ جماعت کے غل اوکڑی ” یعنی علاقے کی مسجد میں اسے ” پوٹی “کرنی چاہئے کیونکہ گندگی کرنے والے کو لوگ زیادہ جلدی جان لیتے ۔
خیر یہ تو اس وقت کی بات ہے جب مساجد میں لاﺅڈ سپیکر نہیں ہوا کرتے تھے اب تو ماشاءاللہ. لاﺅڈ سپیکر بھی ہیں حالانکہ جس وقت کا یہ محاورہ ہے اس وقت لوگ گھروں میں قضاۓ حاجت بھی نہیں کرتے تھے بلکہ ایک انگوٹھے اور دو انگوٹھوں کیلئے علاقے سے باہر جایا کرتے تھے
اور پھر خالی وضو کیلئے مسجد میں آیا کرتے تھے اب تو ماشاءمساجد میں ایک اور دو کیلئے انگریزی اور انڈین کموڈ بھی بھی بن گئے ہیں
مگر پھر بھی بعض لوگ ” گند “کئے بغیر نہیں رہتے. شاید یہ سب کرنا ان کا شیوہ ہے.یا پھر وہ اپنی فطرت سے مجبور ہیں.
یہ بھی پڑھیں

  1. خیبر پختونخواہ کے “ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر
  2. پیارے دا جی گل کے نام……از مسرت اللہ جان
  3. ماماگان کی حکومت اور غریب کی تشریف ۔۔۔۔مسرت اللہ جان
  4. صحافت ،مقدس پیشے سے مافیاز کی آماجگاہ تک ۔۔۔مسرت اللہ جان

آپ بھی یقینا سوچ رہے ہونگے کہ لکھنے والے کا پیٹ خراب ہے کہ مسلسل پوٹی کی باتیں لکھ رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لکھنے والے کا دماغ ” ہمارے ہاں پائے جانیوالے لبڑل” کی وجہ سے خراب ہوا ہے

جو سوات کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی جسے نامعلوم افراد نے سر پر چڑھا رکھا تھا بین الاقومی ادارے کے تعاون سے پاکستان کا نام بدنام کرکے چلی گئی اب تو دنیا بھر میں فنڈنگ تعلیم کے فروغ کیلئے اسے ہوتی ہیں لیکن اسکے اپنے علاقے میں جاری کردہ سکول کس حال میں ہے اور کتنی بچیوں کو تعلیم مل رہی ہیں اس بارے میں ہمارے ہاں کے ” لبڑل”خاموش ہیں.

سوات جیسے علاقے سے تعلق رکھنے والے لڑکی نے ایک بین الاقوامی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو نہ تو پشتون روایات میں ہیں اور نہ ہی اسلام میں. لیکن اس نے چونکہ مشہور ہونا ہے اس لئے وہ پہلے بھی ملک سے بھاگ گئی تھی اور نامعلوم افراد اور موم بتی مافیا سمیت موم بتی آنٹیوں نے اسے سپورٹ کیا. اب وہی خاتون اپنے آپ کو ان کرنے کی خاطر ایسی باتیں کررہی ہیں-
اپنا جسم اپنی مرضی کرنے والے افراد سمیت ہمارے ہاں کے لبڑل اس لڑکی کو سپورٹ کررہے ہیں ، ا س کا دفاع سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے اور ایسے ایسے توجیحات پیش کی جارہی ہیں جتنی کہ ہمارے ہاں تبدیلی والی سرکار کے “یوتھیے” بھی نہیں کرپا تے.
کچھ لوگوں کا یہ موقف ہے کہ میگزین نے اپنی مرضی کا بیان چھاپ دیا ہے ، متعلقہ لڑکی کے والد نے بیان دیا ہے کہ اس کی بیٹی کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے لیکن یہ کوئی ظاہر نہیں کررہا ہے کہ متعلقہ میگزین کو کیا نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ آپ نے غلط چیزیں چھاپی ہیں اور اس کی تصحیح کی جائے .
یا پھر ایسا کوئی اقدام جس سے یہ ظاہر ہو کہ کہ میگزین کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے. ویسے ان لوگوں کیلئے عرض ہے جو متعلقہ لڑکی کے مجہول بیان کو معانی پہنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ انگریزوں کا میگزین ہے ہمارے ہاں کے اخبارات نہیں ، جھوٹ ہم بولتے ہیں اور پھر دھڑلے سے اس جھوٹ پر کھڑے بھی ہوتے ہیں –
جھوٹ پر یاد آیا . صوبائی حکومت نے زیادہ تر ڈیپارٹمنٹ آن لائن کردئیے ہیں مگر کچھ ڈیپارٹمنٹس کی آن لائن کارکردگی بس اتنی سی ہے کہ تصاویر ان کی اپ ڈیٹ ہوتی ہیں لیکن ڈیٹا سارا پرانا ڈالا جاتا ہے شائد آن لائن ڈیٹا ڈالنا محکموں کے اہلکاروں کی بس کی بات نہ ہو.یا پھر وہ مینوئل طریقے سے کام نکالنا جانتے ہوں. ویسے مینوئل طریقے سے بہت ساروں کے فائدے بھی ہیں.
مینوئل طریقے سے کام نکالنے والے میں وزیراعلی خیبر پختونخواہ کے پاس اضافی ڈیپارٹمنٹ ٹورازم اتھارٹی بھی ہے جن کی ویب سائٹ تو آن لائن ہے مگر ا س پر ڈیٹا موجود ہی نہیں جبکہ جو میگزین ڈالے گئے ہیں وہ 2017 کے ہیں ایسے میں ٹورسٹ اور ٹورازم سیکٹر کتنی ترقی کرے گا یہ تو واقفان حال ہی کو پتہ ہوگا-
یہ واحد ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے متعدد پراجیکٹ صوبے بھر میں چل رہے ہیں مگر رشتہ داروں میں پھنسے اس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی اتنی ہمت نہیں کہ اس ڈیپارٹمنٹ کے پریس ریلیز جاری کریں کہ کرونا کے باعث کتنا نقصان ہوا؟
کتنی بہتری آئی ، اب کیا ہورہا ہے ، میڈیا کو آگاہ کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ، حالانکہ اس ڈیپارٹمنٹ میں میڈیا کے نام پر کئی افراد تنخواہیں لے رہے ہیں ان میں کنسلٹنٹ سے لیکر میڈیا مینجر تک شامل ہیں لیکن ان کی ڈیوٹی ..اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھنا شائد کسی کی ہمت ہی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب اس ڈیپارٹمنٹ میں زیادہ تر “ضم ہونیوالے ” اضلاع میں ایک مخصوص ضلع کے لوگ زیادہ ہیں. جو ہر چیز سنبھالے ہوئے ہیں.

اور ہاں سنبھالنے پر یاد آیا کہ گذشتہ دنوں وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر میں لائسنس برانچ پر چھاپہ مارا تھا اور تین سو روپے کی بجائے ایک ہزار روپے لینے والے افراد معطل کردئیے تھے وزیراعلی خیبرپختونخواہ کا اقدام قابل تحسین ہے
لیکن یہ کلرک اور دیگر اہلکار کیا پورے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو سنبھالے ہوئے تھے کہ سارا نزلہ کلرکوں پر گرگیا اور کیا کلرک یہ سارا مال اپنے جیبوں میں لیکر جاتے تھے کیا اوپر والوں کوحصہ نہیں ملتا تھا؟
اس بارے میں تو کچھ بھی نہیں ہوا . ہاں ایک نقصان یہ ہوا کہ تقریبا تین ہفتے گزر گئے ابھی تک اس لائسنس برانچ میں نے اہلکار تعینات نہیں کئے گئے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پشاور کو بھوکے ننگے عوام کا کتنا احساس ہے .
ویسے وزیراعلی صاحب! آپ عوامی نمائندے ہیں آپ سے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ لائسنس برانچ کب کام شروع کردے گا کیونکہ ڈپٹی کمشنر تو بادشاہ آدمی ہیں ان سے پوچھنے کی ہمت کسی میں نہیں۔
اللہ آپ کا بھلا کرے بہت سارے لوگوں نے ہزاروں روپے دئیے ہیں کہ ان کا لائسنس بن جائے اب اگر یہ برانچ اسی طرح بند رہی تو پھر وہ لوگ جنہوں نے پیسے مخصوص لوگوں کو دیٸے جھگڑوں پر اتر آئے ہیں کہ پیسہ واپس نکالو.لائسنس نہیں بنا سکتے۔
اس لئے وزیراعلی صاحب.. آپ ہی کچھ کریں۔

 

25 سال سے قلم قافلے میں شامل مسرت اللہ جان نے پشاور یونیورسٹی کے آئی پی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جرنلزم میں 2014 میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ۔خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے واحد صحافی ہیں جنہوں نے ایشین کالج آف جرنلزم چنائی بھارت سے موبائل جرنلزم کی تربیت حاصل کی ،مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور فری لانس صحافی کام کررہے ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھے ان کے کالمز تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں ،پاکستان فیڈریشن کونسل آف کالمسٹ کے صوبائی نائب صدر ہیں
Translate »