اعجاز علی


ترکی کا دعویٰ ہے کہ معاہدہ لوزان کی مدت 2023 میں ختم ہورہی ہے ،اگرچہ اس معاہدہ پر کوئی اختتامی تاریخ درج نہیں ہے ،تاہم ترک امور سے شغف رکھنے والوں کے درمیان اس وقت معاہدہ کی مدت تکمیل اور اس کے بعد ممکنہ منظر نامہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے

اس بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں کہ کیا ترکی ایک بار پھر خلافت عثمانیہ کی نشاۃ ثانیہ کی طرف لوٹ رہا ہے ؟

خطے کا مستقبل کا سیاسی و جغرافیائی نقشہ کیا ہوگا ؟
کیا ترکی ایک بار اپنے سابقہ علاقوں پر رسوخ حاصل کرسکتا ہے ؟
اس کے علاوہ بھی کئی سوالات ہیں جو مختلف حلقوں میں زیر بحث ہیں


رحیم اللہ یوسفزئی دنیائے صحافت کا معتبر و محترم نام

ارطغرل رزم و بزم کا نیا عنوان کیسے بنا ؟


معاہدہ لوزان ہے کیا ؟
معاہدہ لوزان کے نتیجے میں پہلی جنگ عظیم کے بعدترکی اور دیگر سلطنتوں جن میں برطانیہ ،یونان ،جاپان اور جمہوریہ فرانس کے درمیان جنگ کا باقاعدہ اختتام ہوا ۔جبکہ اسی معاہدہ کی روسے اٹلی اور سربیا اور رومانیہ کے درمیان بھی جنگ بندی ہوئی ۔امن معاہدہ کے نام سے اس معاہدہ پر 23 جولائی 1923 کو دستخط ہوئے

اس سے قبل سلطنت عثمانیہ نے 1920 میں فرانس کے شہر سیور میں اتحادی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل بہت سی قوموں کو آزادی مل گئی ،لیکن اس معاہدے کو ترک قوم نے مسترد کر دیا ، ترک قوم پرستوں نے سخت مزاحمت کی اور اتحادی قوتوں کےخلاف خونریز مزاحمتی جنگ کا آغاز کردیا ،ترکی نے 1922-23 کی خونریز جنگ کے بعد یونان کو شکست سے دوچار کردیا

یہی وجہ تھی کہ جنگ کے خاتمے اور امن کے حصول کےلئے معاہدہ سیور کی داغ بیل ڈالی گئی ،جس میں جدید ترکی کی سرحدوں کا تعین ہوا
،ترکی سلطنت عثمانیہ کے غیر ترک علاقوں سے دستبردار ہوگیا ،جس کے جواب میں اتحادی قوتوں نے ترکی کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کرلیا

معاہدہ لوزان کی اہم شقیں
یہ معاہدہ 17 دستاویزات میں 143 آرٹیکلز پر مشتمل تھا ،جس میں عالمی قوانین کی روشنی میں معاہدہ کے فریقین کے مابین تمام امور پر اتفاق رائے ہوگیا
جس کے تحت
معاہدہ سیور کو منسوخ کردیا گیا ،خلافت عثمانیہ کی نئی حد بندی کرتے ہوئے جدید ترکی کا قیام ممکن ہوا

اسلامی خلافت کا نظام ختم کرتے ہوئے نئے سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی گئی ،جس کے پہلے سربراہ مصطفیٰ کمال پاشا بنے جو 1923 سے 1938 تک اس کے سربراہ رہے

اسی معاہدہ کے ترکی کی سمندری گزرگاہوں سے آمدورفت کے قوانین طے پائے ،جبکہ تجارت ،رہائش اور عدالتی نظام کے بارے میں بھی شرائط کا تعین کیا گیا

اس کے ساتھ ساتھ پہلی جنگ عظیم میں شکست سے پہلے کے عثمانی علاقوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کیا گیا

جدید ترکی کے ساتھ بلغاریہ اور یونان کیساتھ سرحدوں کا تعین ہوا ،ترکی شام کے چند شہروں عرفہ ،ادنہ ،غازی ٹپ ،کلس ،مارش کے سوا شام ،لیبیا ،سوڈان ،قبرص ،مصر ،عراق سے دستبردار ہوگیا جبکہ سلطنت عثمانیہ 1914 میں ہی سوڈان اور مصر کے سیاسی و معاشی حقوق سے دستبردار ہوچکا تھا

معاہدہ لوزان کے تحت یونان کی مسلم اقلیت جبکہ ترکی کی عیسائی اقلیت کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ، تمام شہریوں کے بلاتفریق رنگ نسل مذہب یکساں حقوق تسلیم کیئے گئے

ترکی میں موجود عیسائی آبادی اور یونان کی مسلمان آبادی کا بھی آپس میں تبادلہ کیا گیا

جاری ہے۔۔۔۔۔


اعجاز علی فری لانس صحافی ہیں۔ انہوں نے جرمنی سے یوروپین اسٹڈیز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے اور ان سے ijazsrsp@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

Translate »