Image by 4144132 from Pixabay

آزادی ڈیسک

مصر میں چند روز قبل ماہرین آثار قدیمہ نے صدی کی اہم ترین دریافت کی ہے جو کہ قریباً سو سال قبل دریافت ہونے والے فرعون مصر طوطن آموخ کے مقبرے سے بڑی دریافت قرار دی جارہی ہے

ماہرین کو الاقصر کے صحرائی علاقے میں فراعنہ مصر کے سنہری دور سے تعلق رکھنے والے ایک شہر کے آثار ملے ہیں جو قریبا 3 ہزار برس قدیم ہے

معروف ماہرمصریات زاہی ہواس نے اعلان کیا کہ انہیں وادی شاہان کے قریب گمشدہ سنہری شہر کے آثار مل گئے ہیں

السیسی نے فراعنہ مصر کےشاہی جلوس پر کروڑوں ڈالر کیوں پھونک ڈالے؟

اسرائیل کیساتھ تعلقات فلسطین میں امن سے جڑے ہیں ،سعودی عرب

 

یہ شہر فرعون آمون خاطب ثالث کے دور سے تعلق رکھتا ہے جو طوطن آموخ اور ملکہ اے  کے زیر سایہ بھی آباد رہا

اس شہر کی دریافت مصر کی عہد جدید کی سب سے بڑی دریافت قرار دی جارہی ہے ،جو قریباً مکمل حالت میں ہے ،جس کی دیواریں محفوظ ہیں ،جبکہ گھروں کے اندر روزمرہ استعمال کی اشیاء ،برتن ،زیورات اور منقش ظروف کے علاوہ فرعون آمون خاطب کی مہرلگی اینٹیں بھی مکمل حالت میں ملی ہیں  ۔

ہاپکین یونیورسٹی سے وابستہ ماہر آثار قدیمہ و ماہرمصریات بیٹسی برین کے بقول یہ گذشتہ صدی میں فرعون طوطن آموخ کے مقبرے کی دریافت کے بعد دوسری بڑی دریافت ہے،جس میں انہیں ایک مکمل شہر جس کی دیواریں اور روزمرہ اشیاء کے علاوہ زیورات بھی ملے ہیں

محکمہ آثارقدیمہ کے سابق وزیر زہی ہواس کے مطابق بہت سی غیر ملکی ٹیمیں بھی اس شہر کی تلاش میں سرگرداں تھیں لیکن انہیں اس کا سراغ کبھی نہیں مل پایا

2020 میں ان کی ٹیم نے الاقصر کے قریب رعمسیس سوم اور آمون خاطب کے مقبرے کے درمیان اس شہر کی تلاش شروع کی اور ابتدائی ہفتوں کے دوران ہیں انہیں اینٹوں کے آثار ملنا شروع ہوگئے

جب مزید کھدائی کی گئی تو یہ ایک مکمل شہر تھا جو اب بھی انتہائی محفوظ حالت میں ہے

In Photos: Egyptologist Zahi Hawass announces discovery of 3000-year-old 'Lost Golden City' in Luxor: https://t.co/8sJycT7zdc pic.twitter.com/AwdHuGJnGB

— Talking Pyramids💬 (@Bennu) April 8, 2021

">
خزانوں سے بھرے مدفن

سات ماہ کی مسلسل کھدائی کے دوران بہت سی اشیاء اور عمارات واضح ہوچکی ہیں جن میں مکمل سازوسامان کیساتھ بیکری اور انتظامی عمارات شامل ہیں

اور ان میں موجود سامان ہزاروں سال گزرنے کے باوجود آج بھی اسی طرح مکمل حالت میں موجود ہے جیسے ان کے مالک ابھی یہ سامان چھوڑ کرگئے ہوں ۔

بیٹسی برائن کے مطابق اس شہر کی دریافت سے ہمیں آج سے ہزاروں سال قبل کے ایک امیرترین شہر کے طرز رہن اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو نئے انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی

امریکہ میں قائم قدیم مصری ورثہ اور آثارقدیمہ فنڈ کے سربراہ پیٹر لوکوویرا نے کہا یہ انتہائی اہم دریافت ہے ،جس سے ملنے والے آثارنے ہمیں ایک اور اہم دریافت کی یاد دلا دی ہے یہ ایک طرح کا مصر کا پومپیئ شہر ہے جسے آثارقدیمہ کا پارک بنانے کی ضرورت ہے .
فرعون مصر آمن خوطب کا زمانہ 1354 قبل مسیح کے لگ بھگ ہے جسے موجود عراق و شام کے دریائے فرات سے لیکر سوڈان تک پھیلی سلطنت ملی،اس نے تقریبا چالیس سال تک حکومت کی اور اس کا دور کئی عظیم الشان تعمیرات کے حوالے سے معروف رہاجن میں اس کی اہلیہ اور اس کے دوعظیم پتھر سے بنے مجسمے بھی شامل ہیں جو آج بھی الاقصر شہر میں موجود ہیں ۔
نئے شہر کو دریافت کرنیوالی ٹیم کے مطابق انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں انہیں مزید قیمتی خزانے اور انکشافات کی توقع ہے کیوں کہ انہیں کئی مقبروں اور تعمیرات کے مسدود راستے ملے ہیں جن پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ وہ جلد ان مقبروں تک رسائی حاصل کرلیں گے

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے مصر میں 22 فراعنہ مصر کے حنوط اجسام کو عظیم الشان جلوس کی شکل میں مصری تہذیب کے نئے عجائب گھر میں منتقل کیا گیا تھا ۔جن میں چار فرعون ملکائوں کے تابوت بھی شامل تھے،اسی جلوس میں فرعون مصر آمون خاطب ثالث اور اس کی ملکہ تے ای بھی شامل تھی

 

Translate »