میں ایک ایسے مرد کو جانتا ہوں جو سات دہائیوں سے زیادہ ایک عورت سے محبت کی مثال قائم کر کے گیا۔ مذاق میں دوسری بیوی لانے کی بات کرنے والا, کبھی اپنی بیوی کو چند گھنٹے نہ دیکھتا تو بے چین ہوجاتا۔ میں نے دیکھی ہے وہ محبت، مرد کی وہ محبت جو شکوہ کرنے والی کسی عورت کا نصیب نہیں بن سکتی۔ میری دادی ایک خوش قسمت ترین عورت تھی۔

میں ایک ایسے مرد کو جانتا ہوں، جو وجاہت کا مجسمہ تھا، اور تیس سال خاموشی سے ایک بیوی کی محبت میں گذار دیے۔ دنیا بھر کے ائیرپورٹس اس کے قدموں تلے تھے اور خوبصورتی سے فائدہ اٹھانے کا ہر موقع موجود۔ ہر وقت لطیفے سنانے والا بندہ ہر جگہ مقبول تھا۔


کلچر اور ہراسمنٹ ۔۔۔۔۔۔۔محمود فیاض

اس نے الجھ کر پوچھا اچھے مرد ملتے کہاں ہیں ؟


بہت کریدنے پر اس نے بتایا کہ ہوٹل کے اس کمرے میں تین گلاس چڑھانے کے بعد وہ اکیلا تھا جب اسکے میزبان کا بھیجا ہوا “تحفہ” نسوانیت کے مجسمے کی شکل میں اس کے دروازے پر کھڑا تھا۔ اسکے انکار پر “نوکری کرنے والی” کی آنکھوں میں آنسو تھے کہ اس “خدمت” کا معاوضہ اسکی فیملی کے لیے گروسری خریدنے والا تھا۔ تب اس “ہوس زدہ مرد” نے کیا کیا؟

اس کو اپنے کمرے میں اتنی دیر بیٹھنے کی اجازت دی کہ جب تک ایک بھیڑیا اپنی بھوک مٹاتا ہے۔ تاکہ وہ گروسری خرید سکے۔ خود وہ ٹی وی پر اپنی پسندیدہ سٹ کوم دیکھتا رہا۔

میں ایک ایسے مرد سے واقف ہوں جو دو دہائیوں سے ایک ایسی بیوی سے محبت کرتا ہے جو اسکی اپنی بیوی ہے۔ شادی سے پہلے سے آج تک وہ ایک مثالی جسم کا مالک ہے۔ کالج فیلوز اور کولیگز سے لے کر ملنے جلنے والوں تک اس کے لیے بازوئے محبت کھلے تھے۔ مگر اس “ہوس زدہ مرد” کو کبھی ہوس مٹاتے نہ دیکھا گیا۔ مردوں سے زیادہ عورتیں اس کی ایسی “نامردی” پر شکوہ کناں رہیں۔

خلیج کے ممالک میں کام کرتے میں نے ایسے بہت سے ہوس زدہ نوجوان دیکھے۔ جو جسمانی خواہشات کے غلام تھے۔ ہر ہفتے بحرین کے کلبوں میں جا پہنچتے، شراب پیتے، ناچنے والیوں کے ساتھ ڈانس بھی کرتے۔ مگر جب اس سے اگلا مرحلہ درپیش ہوتا تو اکثر کو میں نے واپس کمرے میں آ کر “گندی فلمیں” دیکھ کر ویک اینڈ کرتے دیکھا۔

ہر ایک کے بٹوئے میں ایک تصویر یا ایک وعدہ ضرور رکھا دیکھا۔ بہکتے، بہک کر مڑتے، سب واپس اسی وعدے کی طرف جاتے تھے۔

عورت کی جسمانی خواہشات پر افسانوں کی کتاب لکھ دینے والے کبھی خلیجی ملکوں میں موجود مردوں کی نفسیات کا مطالعہ کریں تو ان میں سے انصاف پسند خودکشی کرلیں۔ پانچ بہنوں کی شادی کرنے کے لیے تپتے صحرا میں دیہاڈی کرنے والا مزدور ویک اینڈ پر گندی فلم دیکھنے والا مرد ہی ہوتا ہے۔

بہت سے تو اسکی توفیق بھی نہیں رکھتے کہ ایک کمرے میں بارہ افراد اوپر تلے سوتے ہیں۔ ایسے مردوں کی پینتیس سال کی عمر میں “ویر میرا گھوڑی چڑھیا” گاتے ہوئے کسی افسانہ نگار کی آنکھ نہیں بھیگتی۔ کیونکہ مرد کو درد (لیبر پین) نہیں ہوتا ، شائد اس لیے۔

پتہ نہیں پڑھنے والے کی عمر کیا ہے، مگر لکھنے والا چوتھی دہائی پار کرنے کے قریب ہے۔ میں نے ساری زندگی میں دس سے بھی کم دوسری شادی والے مرد دیکھے ہیں۔ اور ان میں سے ایک بھی خوش نہیں تھا۔ اگر مرد اتنا ہی بے وفا، ظالم، اور ہوسناک درندہ ہوتا ہے تو ہر دوسرے گھر میں تین چار عورتیں تو اسکی ہوس کا سامان کرنے کو موجود ہوتیں۔

مگر ہمارے معاشرے میں ہزاروں میں سے ایک مرد اگر دوسری شادی کر بھی لیتا ہے تو اکثر اسکی وجہ خوبصورتی یا کم عمری نہیں ہوتی بلکہ موجودہ رشتے کی تلخیوں سے فرار ہوتا ہے۔ ورنہ رشتے نبھانے کا جتنا کریڈٹ عورت کو دیا جاتا ہے، ہزار موقعوں (اور بے وفائیوں ) کے باوجود “اپنے بچوں کی ماں” سے رشتہ نبھانے والے مرد کو بھی اسکا کچھ حصہ دینا تو بنتا ہے۔

صرف ایک بات ہے جو مرد کے حق میں نہیں جاتی کہ وہ دل پھینک ہوتا ہے۔ یہ بھی لفظی مجبوری ہے، اصل میں ہر خوبصورتی اس کا دل کھینچ لے جاتی ہے۔ اسکی جڑیں ہرگز کسی پدرسری معاشرے میں نہیں ہیں، ہوتیں تو مغربی ملکوں کی عورتیں اسقدر عدم تحفظ کا شکار نہ ہوتیں۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ فطرت نے مرد کو عورت کی طرف مائل کرنے کے لیے جو جذبات عطا کیے ہیں وہی مرد کے لیے باعث آزار ہو گئے ہیں۔ محبت میں وہ اپنے پر باندھ لیتا ہے مگر فطری بھنورہ دوسرے پھولوں کی کشش سے بے چین بھی ہو سکتا ہے۔

عورت کی فطرت میں قدرت نے بننا سنورنا رکھا ہے اور مرد کی فطرت میں اس بناؤ سنگھار سے متاثر ہونا۔ حیرت سے میں سوچتا ہوں کہ شادی کے بعد عورت زیادہ بننے سنورنے لگتی ہے، اور مرد کو “تہذیب” کے کھوپے چڑھا دیے جاتے ہیں۔ عورت ببانگ دہل سنورتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ میرا حق ہے،

اس کے لیے وہ شوہر کی نظر کی محتاج بھی نہیں رہتی کہ سر محفل سب اسکی خوبصورتی سے متاثر ہوں تو یہ “تہذیب” ہے۔ مگر مرد کا کنکھیوں سے کسی دوسرے “پھول” کا سنگھار دیکھنا ، ہوسناکی کا درجہ پا لیتا ہے۔

مذہب کی بات مت کیجیے گا، وہاں مرد نظریں نیچے رکھتے ہیں تو عورت بازار کے کنارے کنارے کاندھے سے جلباب لٹکائے چلتی جاتی ہے۔ میں آپ کی توجہ فطری مجبوریوں کی طرف دلا رہا ہوں۔ عورت کا سنگھار فطری مجبوری سمجھا جاتا ہے، اس فطری مجبوری کی جڑیں نسلی بقا کے اسی فریضے میں ہیں جس کے تحت مرد میں سنگھار کی طرف مائل ہونے کی فطرت رکھی گئی ہے۔

آخری بات۔ مختصر فقروں میں کوشش کرتا ہوں۔
عورت انسان ہے، اسکی جسمانی ضرورت شادی ہے۔ جتنی جلد ہو سکے۔ تو مرد ؟ اسکو پینتیس سال کا کرنے والا معاشرہ کونسا ہے؟
عورت انسان ہے، محبت کر سکتی ہے مگر بالاخر اپنے ماں باپ کی لاج کے لیے وہیں شادی کرلیتی ہے جہاں اسکے ماں باپ چاہتے ہیں۔ تو مرد ؟ مرد ہرجائی درندہ کیوں، جو محبت تو کسی اور سے کرتا ہے، مگر شادی اپنے ماں باپ کی مرضی سے کر لیتا ہے؟

عورت انسان ہے۔ ٹھیک ۔ مرد انسان نہیں ہے کیا؟


دیس فرنگ سے صحافت کی سند پانے والے محمود فیاض لکھنے پڑھنے کا شغل رکھتے ہیں ،سوشل میڈیا کے میدان پر کھل کر کھیلتے ہیں ، سیاست سمیت تمام موضوعات پر طبع آزماٸی کرتے ہیں ۔

Translate »