آزادی ڈیسک

گذشتہ ماہ دونوں جنوبی ایشیا کے ایٹمی صلاحیت کے حامل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا سیز فائر معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی
مذاکراتی عمل میں شریک اسلام آباد اور دہلی کے نمائندوں کیمطابق معاملات اگلے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں

امریکی آن لائن جریدے بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا ایک ماہ قبل پاکستان اور بھارت کے فوجی سربراہان کی جانب سے 2003 کے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کے بیانات نے دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا ،جس کے 24 گھنٹے کے دوران ہی متحدہ عرب امارت کے ایک اعلیٰ سفارتکار ایک روزہ پر نئی دہلی میں نمودار ہوئے

اگرچہ 26 فروری کو ہونے والی ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان سے دورے کے اصل مقاصد کے بارے میں نشاندہی ہوتی ہے جن میں کہا گیا کہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد کی بھارتی ہم منصب سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے دوطرفہ دلچسپی کے امور پر بات چیت کی ہے

تاہم ان معاملات سے آگاہ سفارتی حلقے جنہوں نے اپنے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا اس امر کی تصدیق کی کہ
بند دروازوں کے پیچھے متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں تقریبا ایک ماہ سے جاری خفیہ مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ممالک سیز فائر معاہدہ کی پاسداری پر رضامند ہوگئے
اور یہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں ہونے والے دو ایٹمی صلاحیت کی حامل طاقتوں کے مابین امن کے وسیع روڈ میپ کا محض ابتدائیہ ہے ۔


ڈل جھیل سرینگر   تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیا کی دوبڑی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگی کا باعث اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی میں بنیادی رکاوٹ ہے
Image by Mohd Rashid from Pixabay

ڈل جھیل سرینگر :تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے مابین تین جنگوں کی وجہ ہے جبکہ دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل ہے

 

جبکہ اگلے مرحلے میں دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی ہے ،جوکہ 2019 میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد سے منقطع تھے ،جب پاکستان نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کےخلاف نے احتجاجا اپنا سفیر واپس بلالیا تھا ۔
جبکہ اگلا اور مشکل مرحلہ دو طرفہ تجارت کی بحالی اور دونوں ممالک کے مابین برطانوی راج سے آزادی سے اب تک تین جنگوں کی بنیاد بننے والا کشمیر کے تنازع کا حل ہے
اور کئی دہائیوں سے مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کی سیاست کا اہم محور رہا ہے اور اس مسئلہ کو بالخصوص انتخابات کے دوران ایک سیاسی کارڈ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ،
سفارتکار کے مطابق اس لئے اس مرحلہ میں تعلقات کی زیادہ سے زیادہ بہتری صرف سفارتی تعلقات اور لاہور واہگہ کے زمینی راستے کے دوطرفہ تجارت کی بحالی کا ہی امکان ہے


وزیراعظم عمران خان فائل فوٹو

تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق یہ حالیہ سالوں کے دوران دوطرفہ تعلقات کی بحالی کیلئے ٹھوس کوشش ہیں ،کیونکہ بائیڈن انتظامیہ افغان مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنا چاہتی ہے ،جہاں پاکستان اور بھارت پہلے ہی اپنے رسوخ کو بڑھانے کےلئے ایک دوسرے سے نبرد آزما رہے ہیں .جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی چینی بھارت سرحد پر توجہ دینے اور فوجی وسائل جمع کرنے کے خواہاں ہیں .دوسری جانب معاشی الجھنوں میں پھنسی پاکستانی قیادت بھی امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی نظر میں اپنی ساکھ بہتربنانے کی خواہاں ہے

اگرچہ پاکستان اور بھارت دونوں کے وزرائے خارجہ نے مذاکرات یا متحدہ عرب امارات کے کردار کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے ایسی علامات سامنے آئیں جن سے دونوں جانب سے برف پگھلنے کے آثار دکھائی دینے لگے

جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی راہ میں بنیادی رکاوٹ یعنی کشمیر جیسے بنیادی مسئلہ سمیت تمام مسائل کے حل کی بات تو اس کے اگلے روز ہی پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے خطاب میں بھارت کو ماضی دفن کرکے آگے بڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج تمام حل طلب مسائل کے حل کےلئے مذاکرات کیلئے تیار ہے

ہفتے کے روز جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے کرونا پازیٹو کی خبرعام ہوئی تو بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،جو کہ دوطرفہ بڑھتی گرمجوشی کا اشارہ دکھائی دیتا ہے

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کیساتھ قدیم تاریخی،تجارتی و سفارتی تعلقات رکھنے والے ملک متحدہ عرب امارات نے شیخ محمد بن زائد النہیان کی قیادت میں حالیہ عرصہ کے دوران مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل کےلئے کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ،اور اب وہ ایشیا میں بھی تجارت اور سفارت سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کا خواہاں نظر آتا ہے


پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ فائل فوٹو

پاکستان اور بھارت کے مابین سفارتی تعلقات اس وقت منقطع ہوگئے تھے جب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک خودکش حملے میں 40 بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کے بعد بھارت نے پاکستانی حدود کے اندر فضائی حملہ کیا

گذشتہ ماہ دونوں ممالک کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں بنیادی مسائل پر بات چیت پر رضامندی کشمیر اور دہشت گردی کے موضوعات پر مذاکرات کےلئے رضامندی کا اظہار ہے

 

تاہم گذشتہ کئی ماہ کے دوران ہونے والے معاملات اس سارے منظر نامے میں متحدہ عرب امارات کے کلیدی کردار کی نشاندہی کررہے ہیں
جب گذشتہ سال نومبر میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے امارات کے دو روزہ دورے کے دوران ولی عہد شیخ زائد سے ملاقات کی ۔جس کے فوری بعد پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی امارات کا دورہ کیا

جبکہ 25 فروری کے اعلان سے تقریبا دوہفتے قبل اماراتی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلیفون پر بات کی اور چند روز بعد ہی بھارت نے سری لنکا کے دورے پر جانے والے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیدی،جس کا سلسلہ 2019 سے منقطع تھا

دوسری جانب سیز فائر کے فوری بعد متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں شامل تھا جس نے دونوں ممالک کیساتھ اپنے مضبوط تاریخی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے فائر بندی اعلان کا خیر مقدم کیا ۔اور امن کیلئے دونوں ممالک کی جانب سے کی جانے والے کوششوں کی تعریف کی

جبکہ امریکی ترجمان خارجہ نیڈپرائس پاکستان اور بھارت کو ایک میز پرلانے کیلئے امریکی کردار کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تووہ کنی کترا کر نکل گئے تاہم انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ افغانستان ،کشمیر اور دیگر مقامات پر اپنا تعمیری کردار ادا کرے .انہوں نے کہا یقینی طور پر افغانستان دیگر سرحدوں پر پاکستان کو اہم کردار ادا کرنا ہے ،اور ان معاملات پر توجہ دے رہے ہیں


اس رپورٹ کا ماخذ  بلومبرگ ڈاٹ کام

Translate »