مسرت اللہ جان

ہمارا شمار شہر کے ان سفید پوشوں میں ہوتا ہے جن کی زندگی الحمد للہ اچھی گزر رہی ہے. یہ بھی اللہ تعالی کا شکر ہے. لیکن کبھی سر کو چھپاتے ہیں تو پائوں نکل آتا ہے پائوں کو چھپاتے ہیں تو سر چادر سے باہر نکل آتا ہے اور اگر دوہرا ہوا کر لیٹتے ہیں تو پھر ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ “ہماری تشریف ” چادر سے باہرہوتی ہے اور اگر تشریف چادر سے باہر ہو جائے تو پھر ہر حکومت آتے جاتے لات مارتی رہتی ہیں-اب تو تشریف پر لاتیں مارنے کی اتنی عادی ہوگئی ہیں کہ اگر حکومت آئے اور تشریف پر لات نہ مارے تو ہمیں خود ہی خارش ہونے لگتی ہے کہ ہمیں مار نہیں پڑی..

ماشاء اللہ تبدیلی کے نام پر یہ حکومت جو لائی گئی ہے بقول ہمارے بہت سارے دوستوں کے یہ ماما گان کی وجہ سے آئی ہیں-ہمیں ماما گان سے یہ امید نہیں کیونکہ ماما تو بہت پیار کا رشتہ ہے اور ماں کے بھائی کو ہمارے ہاں ماما کہتے ہیں جسے اردو میں ماموں کہتے ہیں اب اگر یہ ماما گانو کی وجہ سے آئی ہے تو پھر صبح شام ہماری یعنی عوام کی تشریف پر ” لاتیں “کیوں پڑ رہی ہیں .اس کی سمجھ اس حکومت کے آنے سے اب تک ہمیں سمجھ میں نہیں آرہی .کہ آخر ماما گان اس حکومت کے پیچھے کیوں ہیں.

مزید کالمز 

صحافت ،مقدس پیشے سے مافیاز کی آماجگاہ تک ۔۔۔مسرت اللہ جان

پریوں کانشہ نسوار اور پختون ثقافت ۔۔۔۔مسرت اللہ جان

سمجھ ہمیں نہیں آرہی کہ تین دن سے انٹرنیٹ کی سروسز مکمل طور پربند ہیں اور اس بارے میں کوئی پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکتا ، نہ ہی کسی ادارے نے یہ بتانے کی کوشش کی کیوں انٹرنیٹ کی سروسز کو بند کیا گیا ہے .

رمضان المبارک میں انٹرنیٹ کی سروس بند ہے چلو بہت سارے لوگوں کی جان چھوٹ گئی ، ویڈیونہیں دیکھیں گے ، سوشل میڈیا پر کچھ اور نہیں ہوگا – لیکن ایک طرف اس ملک میں سب کچھ آن لائن کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ، سکولوں سے آن لائن کلاسز کی باتیں ہورہی ہیں لیکن حال یہ ہے کہ تین دن سے پشاور شہر میں انٹرنیٹ کی سروسز بند ہے اور نہ ہی کسی ٹیلی کام کے ادارے نے ریاست کے لنگڑے لولے ستون یعنی صحافت کو آگاہ کیا ہو ،

یا پھر کسی سرکاری ادارے نے یہ بیان دیا ہو کہ انٹرنیٹ کی سروسز کیوں بند کی گئی ، کتنے دن بند رہے گی ،اس کا فائدہ کیا ہے اور اس کے نقصانات کیا ہیں.اس بارے میں مکمل طور پر خاموشی ہیں- نہ ہی لنگڑے لولے ریاستی چوتھے ستون کی اس کی ضرورت محسوس کی کہ عوام کو درپیش اس مسئلے کے بارے میں جان سکیں اور کوئی خبر دے سکیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

اللہ جانے اس میں حقیقت کتنی ہے لیکن ہم نے سکولوں میں پڑھا کہ “پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے” چھیالیس سال سے اسلام اسلام کے نام پر ہر کوئی چیخیں ما ر رہا ہے لیکن جو بھی چیخیں مارتا ہے اسلام کے حوالے سے کچھ اور تو نہیں کرتا لیکن ہاں “اسلام آباد “ضرور پہنچتا ہے.ویسے اسلام آباد کا اپنا ہی نشہ ہے. بن پیے ہی عام آدمی نشے نشے میں رہتا ہے اور اگر بندے کی اوقات گریڈ اٹھارہ سے اوپر ہوں تو پھر تو “کیا ہی بات ہے” پوں پوں پاں کرتی ہوئی گاڑیاں ، وی آئی پی پروٹوکول ، میک اپ زدہ چہرے ، منافقت بھرے لہجے اور بہت کچھ..

Image by Gerd Altmann from Pixabay

اپنی پہلی بات پر آتے ہیں. ہم جس علاقے میں رہائش پذیر ہیں وہاں پر انٹرنیٹ کی سروس تین دن سے بند ہے ہم بھی خاموش کہ چلو حکومت ایک جماعت کی وجہ سے ایک دن دو دن بند رکھے گی تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوگا لیکن آج اتفاقا شہر کے ایک پوش علاقے میں جانے کا اتفاق ہوا اور عادتا موبائل فون کی موبائل ڈیٹا کو آن کیا تو پتہ چلا کہ یہاں تو انٹرنیٹ کی سروسز بالکل موجود ہے.

یعنی ایلیٹ کلاس کیلئے ٹیلی کام کمپنیوں کے سروسز الگ ہیں اور ہم جیسے “کمی کمینوں “کیلئے الگ . حالانکہ ہم جیسے کمی کمین جنہوں نے انٹرنیٹ کی سروسز لی ہوتی ہیں ایلیٹ کلاس سے زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے ساتھ یہ دوہرا معیار کیوں..

اس دوہرے معیار پر ایک قصہ یاد آیا کہ ایک شہر میں میلہ لگا ہوتا ہے ایک ہماری طرح کا پینڈو اس میلے میں جاتا ہے تو اس کی ٹوپی کوئی چوری کرلیتا ہے . واپسی پر جب کوئی اس سے پوچھتا ہے کہ میلہ کیسا تھا تو پینڈو جواب دیتا ہے کہ ” میلہ میلا کچھ نہیں تھا صرف میری ٹوپی چوری کرنے کیلئے سارا میلہ لگایا تھا”

سو انٹرنیٹ کی سروسز بند کرنے کا کچھ اور ہو نہ ہو ، یہ ہمارے انٹرنیٹ کی پیکجز کو ہضم کرنے کیلئے سارا ڈرامہ ان ٹیلی کام کمپنیوں نے شروع کیا ہے. پشاور کے پچاس لاکھ کی آبادی نے کروڑوں روپے کی پیکچز انٹرنیٹ کی مد میں کئے لیکن تین دن سے انٹرنیٹ کی سروسز نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند ہیں.

لوگ کہتے ہیں اس کے پیچھے نامعلوم لوگ ہیں. لیکن نامعلوم لوگوں کو اس سے کیا ملے گا یہ وہ سوال ہیں جو انہیں خود عوام سے کرنے کی ضرورت ہے. ویسے عوام اب اتنی بے وقوف بھی نہیں. بھلے سے زبان پر کچھ کہتی نہیں لیکن سمجھتی سب ہے.

اور ہاں کیا ٹیلی کام کمپنیاں بشمول یوفون ، زونگ ، ٹیلی نار سمیت دیگر جنہوں نے موبائل انٹرنیٹ کی سروسز بند کی ہوئی ہیں کیا ان تین دنوں کا ڈیٹا شہریوں کو فراہم کرینگی یا پھر کروڑوں کی رقم ” ڈکار “لیں گی.

ہمیں تو اپنے ہفتہ واری پیکج کا غم کھائے جارہا ہے .ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ورنہ ایک عدد کیس ” تمام ٹیلی کام کمپنیوں”کے خلاف صارف عدالت میں کردیتے ہیں کہ کس کھاتے میں انہوں نے شہریوں سے کروڑوں روپے تین دن میں ڈکار لئے اور بغیر کوئی سروس. یہ بہانہ بھی نہیں بنایا جاسکتا کہ صورتحال خراب ہے، امن و امان کا مسئلہ ہے اور انٹرنیٹ کی سروسز بند کی گئی ہیں.

سوشل میڈیا پر پابندی اس لئے لگ گئی ہیں کہ “سچ کوئی برداشت نہیں کرسکتا” اور اس ملک میں سچ لوگ صرف اتنا بولتے ہیں جتنے میں ان کا فائدہ ہو. باقی سچ پاکستان میں یا تو شرابی بولتے ہیں یا پھر پاگل.. اور دونوں کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں..

گذشتہ دنوں سے ایک کارٹون انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل تھا جس میں بتایا جارہا تھا کہ ” بادشاہ سلامت”جو ننگے پھر رہے ہیں اس کے آگے پیچھے لوگوں کے منہ پر کپڑے باندھ دئیے گئے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ “بادشاہ سلامت”کو ننگا کہنے پر دو سال قید ہوگی. بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی.

اگر بادشاہ سلامت خود کپڑے پہن لے تو پھر معاشرے میں شہریوں کے آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کی ضرورت نہیں. ویسے ایک علاج اس کا اور بھی ہے.بادشاہ سلامت برداشت کرتے رہیں. لوگ کب تک ننگے کو دیکھیں گے اور کب تک باتیں کرینگے. آخر لوگ بھی عادی ہو جائیں گے.. اس لئے .. اب عوام کی تشریف پر مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے

25 سال سے قلم قافلے میں شامل مسرت اللہ جان نے پشاور یونیورسٹی کے آئی پی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جرنلزم میں 2014 میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ۔خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے واحد صحافی ہیں جنہوں نے ایشین کالج آف جرنلزم چنائی بھارت سے موبائل جرنلزم کی تربیت حاصل کی ،مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور فری لانس صحافی کام کررہے ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھے ان کے کالمز تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں ،پاکستان فیڈریشن کونسل آف کالمسٹ کے صوبائی نائب صدر ہیں

Translate »