آزادی ڈیسک


بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں مائو باغیوں کیساتھ جھڑپ میں 22 بھارتی سیکورٹی اہلکار مارے گئے جبکہ 30 زخمی ہوئے ۔

بین الاقوامی زرائع ابلاغ کے مطابق 2 ہزار سے زائد سیکورٹی اہلکار مائو باغی رہنما کی تلاش میں مصروف تھے جب ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا

ریاست چھتیس گڑھ کے ایک اعلیٰ پولیس افسر اشوک جونیجا نے میڈیا کو بتایا کہ مائو باغیوں کے گڑھ پر پر ہونے والے حملے میں 22 اہلکار مارے گئے ہیں ،جبکہ جھڑپوں میں 30 کے قریب اہلکار زخمی ہوئے ہیں


مقبوضہ کشمیر میں 3 حریت پسندوں کی شہادت ،مظاہروں کا سلسلہ شروع

میانمار میں‌فوج کی فائرنگ سے مزید 90 ہلاکتیں‌


جنہیں مقامی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ،جبکہ درجن سے زائد اہلکار تاحال لاپتہ ہیں ،تاہم ابھی تک آرپریشن جاری ہے  ۔انہوں نے کئی مائو نواز باغیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا جس کی تصدیق نہیں ہوسکی

پولیس حکام کے مطابق مائو نواز باغی مارے جانے والے سیکورٹی اہلکاروں کا اسلحہ ،گولیاں ،وردیاں اور جوتے بھی لے گئے ہیں

بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے ۔

واضح رہے کہ یہ حالیہ سالوں کے دوران مائو باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ 2017 میں 25 پولیس کمانڈوز بھی مارے گئے تھے جب دوران گشت ان پر 300  کے قریب باغیوں نے حملہ کردیا تھا

واضح رہے کہ نکسل مائو باغیوں کی مسلح شورش کئی عشروں سے جاری ہے ،مائوقیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ خطے کے غریب ترین عوام کے حقوق کیلئے مسلح جدوجہد کررہے ہیں ،جنہیں ان کے معاشی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے ،مسلح تصادم کی وجہ سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں ۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ مارے جانے والے سیکورٹی اہلکاروں کی قربانی رائیگاں نے جانے دیں گے ۔جبکہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے امن کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے

 

Translate »