Spread the love

صفدر حسین


وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پاکستان میں ایک بار پھر سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہیں اس سے قبل سیالکوٹ میں رمضان المبارک کے دوران ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر کیساتھ بھی تلخ کلامی پر وہ کافی روز موضوع سخن رہی ہیں

واقعہ ہوا کیسے ؟

گذشتہ شب نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے پروگرام آج تک میں بطور مہمان شرکت کے دوران ان کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں مشیر اطلاعات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر مندوخیل کیساتھ الجھتے اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہیں
اس وقت ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنی ہوئی ہے ،جہاں ان کے حق اور مخالفت میں سوشل میڈیا صارفین بڑی تعداد میں اپنی رائے کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں

ویڈیو میں کیا ہے ؟


یہ بھی پڑھیں 

  1. ڈھرکی حادثہ میں اموات 65 ہوگئیں ،ریل سروس جزوی بحال
  2. ریلوے حادثات ،باتوں سے بڑھ کرعمل کی ضرورت
  3. فضائی مستقر کیلئے پاک امریکی مذاکرات تعطل کا شکار،نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
  4. ڈھرکی حادثہ میں اموات 65 ہوگئیں ،ریل سروس جزوی بحال

اگرچہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر ویڈیو چند سیکنڈز پر مبنی ہے ،تاہم ڈھائی منٹ کی ایک الگ ویڈیو میں کرپشن کے معاملے پر شو میں دونوں مہمان ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے اور الجھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں

جبکہ مختصر ویڈیو میں فردوس عاشق اعوان ،عبدالقادر پٹیل کا گریبان پکڑنے کی کوشش کرتی ہیں جسے وہ چھڑوا لیتے ہیں ،جس پر فردوس عاشق اعوان نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان کے منہ پر تھپڑ مارتی ہیں

اس دوران شو کے میزبان جاوید چوہدری بے بسی کی تصویر بنے دونوں مہمانوں سے پرسکون ہونے کی التجا کرتے ہوئے کہتے سنائی دیتے ہیں بس جی ،بس جی او کی ہوگیا ہے میڈم ۔
جبکہ شو ٹیم کی ایک خاتون رکن بھی ڈاکٹر فردوس عاشق کو سنبھالنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہیں

ڈاکٹر فردوس عاشق کی وضاحت اور قانونی چارہ جوئی کا اعلان

بعدازاں ڈاکٹر فردوس نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنی ایک وضاحتی ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ شو کے وقفے کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادرمندوخیل نے ان کے اور ان کے والد کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے

میرے خلاف فحش الفاظ استعمال کئے گئے ،میرے والد کو گالیاں دی گئیں اورمجھے دھمکیاں دی اور ہراساں کیا اور میرا ردعمل خودحفاظتی کیلئے تھا ،کیوں کہ میری عزت اور سیاسی ساکھ دائو پر لگی تھی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویڈیو کا مخصوص حصہ وائرل کیا گیا ،میں چاہتی ہوں کہ اس واقعہ کی مکمل ویڈیو جاری کی جائے تاکہ عوام تک اصل حقائق پہنچ سکیں

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد عبدالقادر مندوخیل کے خلاف آرٹیکل 62،63 ،ہراسانی اور ہتک عزت کا دعویٰ دائر کروں گی

واضح رہے کہ اس سے تقریبا ایک ماہ قبل ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اس وقت بھی سرخیوں اور شہ سرخیوں کا حصہ بن گئیں تھیں

جب رمضان المبارک میں ایک سستا بازار کے دورہ کے موقع پر وہاں موجود خاتون اسسٹنٹ کمشنر کیساتھ تلخ کلامی کی ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی

اس وقت مشیر اطلاعات وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پاکستان میں ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ ہیں ،جبکہ سوشل پلیٹ فارم فیس بک پربھی زیادہ تر صارفین کا موضوع سخن وہی ہیں

شہریوں کا ردعمل

سید ضیعغم کاظمی نے اپنے ٹویٹ میں کہا  ان خاتون کو تو اکھاڑے میں ہونا چاہیے تھا یہ سیاست میں کیا کررہی ہیں

کیپٹن جیک سپیر نامی صارف نے ڈاکٹر فردوس کی ماضی کی مختلف تصویروں کو جوڑتے ہوئے لکھا   ہم سا ہو تو سامنے آئے

شبیلہ نامی صارف نے لکھا

اگر کوئی آپ کے اور آپ کے والد کے بارے میں اول فول بکے تو اس کا جواب یہی ہونا چاہیے

یہ بدمعاش بنتے ہیں پروگرام میں بہت اچھا کیا

عمیر جٹ نے کہا محض خاتون ہونے کی وجہ سے انہیں جوابی تھپڑ نہیں پڑا ،آخر وہ خواتین کہاں ہیں جو کہتی تھیں مرد ہمیشہ خواتین ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں ،اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک خاتون بھی خاتون ہونے کا فائدہ اٹھا سکتی ہے

عائشہ صدیقہ کا موقف تھا  ڈاکٹر فردوس عاشق نے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کو لائیو شو کے دوران تھپڑ مارا ،یہ رویہ قابل مذمت ہے یہ لوگ تشدد اور ظلم کے نظام کو پروان چڑھا رہے ہیں

جبکہ عدینہ حرا نے فردوس عاشق کے رویے کو پاکستان تحریک انصاف کا حقیقی چہرہ قراردیا

میڈیا بھی برابر کا ذمہ دار ؟

جویریہ نامی ایک ٹویئٹر صارف نے لکھا

فردوس عاشق اعوان کے ردعمل سے نہیں بلکہ میزبان جاویدچوہدری کے طرزعمل سےاختلاف ہے جو یہ سب کچھ خاموشی سے کھڑے دیکھتے رہے

میڈیا کن گندے دھندوں میں مصروف ہوگیا ہے ؟ فردوس عاشق کا نام پکار کر انہیں ایسا کرنے پر اکسایا گیا ،اور ان کے جوابی ردعمل پر فخر ہے

ڈٹی رہیں آپا

ماہ رخ قریشی نے بھی اپنے غصے کا ہدف میڈیا کو بتاتے ہوئے ٹویٹ کیا

کسی اور کو نہیں صرف اس شو کے میزبان کو معذرت کرنی چاہیے ،جو صرف اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کےلئے خاموش تماشائی بن کر سب کچھ ہوتا دیکھتا رہا

پہلے تیلی لگائو پھر جب آگ بھڑک جائے تو پانی ڈالنے کے بجائے کھڑے ہو کر تماشا دیکھو اور آخر میں اس کی ویڈیو لیک کردو

گندی صحافت

 

 

Translate »