Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:7 Minute, 48 Second

آزادی ڈیسک


مشرق وسطیٰ کا 4 ہزار سال سے زائد کی تاریخ رکھنے والا شہر غزہ اسرائیلی توسیعی پسندی کے باعث خشکی و سمندر چاروں اطراف سے کیسے ایک محصور پٹی کی شکل اختیار کرگیا.
سلطنت روما کے دور میں غزہ ایک کثیرالثقافتی اور خوشحال شہر تھا ،جس کا انتظام و انصرام 500 رکنی سینیٹ سنبھالتی تھی ،جسے دنیا کے مختلف بادشاہوں کی جانب سے ہر سال بھاری امداد ملا کرتی تھی
کئی صدیوں بعد مملوک دور میں یہ شہر مصر کے صحرائے سینا سے کیسریا (موجودہ اسرائیلی شہر)تک پھیلے صوبے کا دارلحکومت بن گیا
16 ویں صدی میں جبکہ مصر سے شام اور لبنان و فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کا غالب حصہ سلطنت عثمانیہ کے زیرنگیں آچکا تھا یہ دور غزہ کا سنہرا دور رہا
لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے غاصبانہ اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں یہ شہر ایک محصور پٹی تک محدود رہ گیا ،جو دنیا کا گنجان ترین مقام ہے جہاں42 کلومیٹر طویل اور 6 سے 12 کلومیٹر چوڑے 362 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی عملاً محبوس ہیں ۔
1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھربار سے زبردستی بے دخل کردیا گیا ۔اس جنگ کا خاتمہ عربوں کے لئے تاریخی تباہی کا سبب بنی اور لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کو غزہ منتقل کردیا گیا ۔


یہ بھی پڑھیں 

آل یہود بابل کی اسیری سے صیہونی ریاست کے قیام تک(حصہ اول)

اسامہ بن لادن کی موت کے 10 سال اور اس سے جڑے 10 سوال


آنے والوں سالوں میں اس شہر پر پناہ گزینوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا ۔اور چھوٹے سے شہر میں ہر جانب تعمیرات ہوگئیں
لیکن قابض صیہونی فوج نے انہیں یہاں بھی سکون سے نہ رہنے دیا ،اور 1967 سے لیکر 2005 تک اسرائیلی فوج کا اس شہر پر قبضہ رہا ،اور جب 2005 میں اس شہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو یہاں نگرانی کا کڑا نظام قائم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس شہر پر حملوں اور بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ،جس کےنتیجے میں ہزاروں فلسطینی لقمہ اجل بن گئے

دوسری عالمی جنگ کے بعد غزہ کی تاریخ
برطانوی قبضہ
جنگ عظیم اول کے دوران اتحادی قوتوں نے سلطنت عثمانیہ سے مشرق وسطیٰ حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اور 1916میں سائیکس پیکاٹ خفیہ معاہدے کے تحت فرانس اور برطانیہ کی استعماری طاقتوں نے علاقے کو آپس میں تقسیم کرلیا
جس کے تحت برطانیہ کو فلسطین ،مصر ،عراق اور عربستان کا علاقہ جبکہ فرانس کو شام اور لبنان کا علاقہ مل گیا
سلطنت عثمانیہ کیساتھ تین خونریز جنگوں کے بعد 1917 میں برطانیہ نے غزہ کا علاقہ چھین کر اسے برطانوی انتداب میں شامل کرلیا ۔بعدازاں لیگ آف نیشن نے فلسطین پر اگلے 25 سال یعنی 1923 سے لیکر 1948 تک فلسطین پر برطانوی حاکمیت کو تسلیم کرلیا

فلسطین عہد عثمانیہ تصویر The ottoman archives

1917 میں فلسطین پر برطانوی اقتدار کے دوران ایک اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ،جسے بالفور اعلامیہ کہا جاتا ہے ۔یہ برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمس بالفور کا صیہونی رہنما لائنل والٹر رتھ شیلڈ کو ایک خط تھا ۔جس میں اس نے فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کے قیام کےلئے برطانوی حمایت کے بارے میں لکھا اور یہیں سے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار ہوئی
جب برطانیہ کا فلسطین پر قبضہ ہوا تو اس وقت یہاں صرف 9 فیصد تھی ،لیکن 1922 سے 1935 کے دوران برطانوی آشیرواد کے نتیجے میں یورپ سے بڑی تعداد میں یہودی ہجرت کرکے فلسطین میں آباد ہونے لگے اور ان کی آبادی مجموعی آبادی کے 27 فیصد تک پہنچ گئی

غزہ مصر کے انتظام
برطانوی اقتدار کے آخری دنوں میں 1948 میں اسرائیل اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان بھرپور جنگ کا آغاز ہوا ۔جس میں عرب ممالک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔اور اسرائیل نے مغربی کنارے ،مشرقی بیت المقدس اور غزہ کے سوا فلسطین کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔
1948 کی عرب شکست کو فلسطین کی تاریخ میں یوم النکبہ یعنی تباہی کادور کے نام سے یاد کیا جاتاہے کیوں کہ عربوں کی شکست کے نتیجے میں 7 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے جبری بے دخل کردیا گیا ،جو زیادہ تر غزہ میں آباد ہوئے
عرب اسرائیل جنگ کے دوران غزہ مصر کے زیر انتظام رہا ،سمتبر 1948 میں جنگ کے خاتمے سے قبل عرب لیگ نے غزہ شہر میں متحدہ فلسطینی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا ۔لیکن عالمی برادری کی جانب سے اس حکومت کو تسلیم نہ کیا گیا
جنگ کے دوران غزہ پر اسرائیل نے حملہ کیا ،لیکن جنوری 1949 میں مصر اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے بعد مصر کو مشرقی بحیرہ روم کے ساتھ ایک پٹی کی صورت میں خشکی کا علاقہ رکھنے کی اجازت دی گئی ،جس بعدازاں غزہ کی پٹی کہا گیا
1956 میں نہر سویز بحران کے دوران صحرائے سینائی کے ساتھ غزہ کو ایک بار پھر اسرائیلی حملے کا سامنا کرنا پڑا ،لیکن عالمی برادری کے دبائو پر اسے یہ شہر جلد چھوڑنا پڑا۔
متحدہ فلسطینی حکومت کا انتظامی دفتر 1950 سے قاہرہ میں قائم تھا ،لیکن 1959 میں مصر نے متحدہ فلسطینی حکومت کو تحلیل کردیا
1967 کی جنگ تک مصر کا غزہ پر کنٹرول برقرار رہا ۔لیکن اس عرصہ کے دوران مزید 2 لاکھ سے زائد فلسطینی مقبوضہ اسرائیلی علاقوں سے ہجرت کر غزہ پہنچ گئے ،جس کے نتیجے میں اس شہر پر گئی گنا اضافہ ہو گیا

1967 سے 2005 تک اسرائیلی قبضہ

1967 میں مصر کی قیادت میں عرب اتحاد اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ فلسطینیوں کیلئے تباہی کا نیا سامان لیکر آئی ۔اس جنگ کے نتیجے میں عرب اتحادیوں کو مزید بہت سے علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑے ۔اور صیہونی ریاست نے مغربی کنارے ،مشرقی بیت المقدس اور غزہ کے علاقے بھی ان سے چھین لئے

اگرچہ صیہونی ریاست کا غزہ سمیت بہت سےعلاقوں پر قبضہ ہوچکا تھا لیکن اس باوجود غزہ سے اٹھنے والی مزاحمت نے اسے ہمیشہ پریشان کئے رکھا ،جہاں پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسرائیل مخالف ردعمل میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا تھا ،اور اسرائیل کی جانب سے غیرانسانی ہتھکنڈے بھی ان پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہورہے تھے
لیکن مسلسل استحصالی ہتھکنڈوں کے نتیجے میں ایک وقت کا خوشحال و ترقی یافتہ غزہ بدترین غربت و پسماندگی کا شکار ہوگیا ۔جہاں بیروزگاری کی شرح 70 فیصد جبکہ 80 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے
صیہونی ریاست کی جانب سے جبرو استحصال کے تمام تر ہتھکنڈے آزمائے جانے کے باوجود 1987 میں پہلے انتفادہ کا آغاز ہوا ،جس سے یہ ظاہر ہوا کہ مقبوضہ علاقوں اور بالخصوص غزہ میں توانا مزاحمت موجود ہے
پہلے انتفادہ کا اختتام 1991 میں فلسطین اسرائیل کے درمیان میڈرڈ کانفرنس کے نتیجے میں ہوا ،جو بعدازاں ناکام اوسلو معاہدے پر منتج ہوا

1993 کا اوسلو معاہدہ
1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے کے تحت یاسر عرفات کی زیرقیادت پی ایل او کا غزہ اور مغربی کنارے پر جزوی اختیار تسلیم کرلیا گیا،حالانکہ معاہدے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک رابن نے کہا میری خواہش ہے کہ غزہ سمندر میں ڈوب جائے لیکن ایسا ہوگا نہیں کوئی حل تلاش کرنا چاہئے

janaa jihad فیس بک

معاہدے کے تحت اسرائیل نے غزہ کے معاملات جزوی طور پر فلسطین نیشنل اتھارٹی (پی این اے )جو بعدازاں فلسطینی اتھارٹی کہلائی کے حوالے کردیئے ۔لیکن اوسلو معاہدہ کے تحت پی این اے کو زیادہ تر معاملات تل ابیب کے اشتراک و مشاورت سے چلانے تھے جس کے نتیجے میں عرفات انتظامیہ کمزور اور غیر موثر ہوگئی

1994 میں اسرائیل کی جانب سے بعض مقبوضہ علاقوں کو چھوڑنے کے فیصلے کے بعد یاسر عرفات نے غزہ کو انتظامی معاملات چلانے کیلئے منتخب کیا ۔لیکن 2000 میں کیمپ ڈیوڈ امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ،جب شدت پسند اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے مسجد کا دورہ کیا
اس کے نتیجے میں فلسطینیوں میں اشتعال پھیل گیا اور یوں دوسرے انتفادہ کا آغاز ہوگیا ۔اس دوران بھی غزہ ہی اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا مرکز رہا ۔جہاں حماس اور اسلامک جہاد نے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے زریعے غزہ کی پٹی کا دفاع کیا

2005 کا اسرائیلی انخلاء
تجزیہ نگاروں کے نزدیک 2005 میں غزہ سے اسرائیلی انخلاء درحقیقت دوسرے انتفادہ کا ہی نتیجہ ہے ،جس کی وجہ سے ایریل شیرون حکومت کو غزہ میں 21 غیرقانونی بستیاں ختم کرنا پڑیں اور 9000 یہودیوں کو وہاں سے نکالنا پڑا
غزہ سے انخلا کے باوجود اسرائیل کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ جاری رہا ،لیکن غزہ کے مکینوں نے بھرپور مزاحمت کے زریعے 2006،2008-9 اور 2014 میں جارح اسرائیلی فوج کو اپنے علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا

حماس کا عروج
بنیادی طور پر حماس اخوان المسلون کا فلسطینی ونگ ہے جس کی بنیاد 1987 میں غزہ میں رکھی گئی ۔حماس نے ناکام اوسلو معاہدہ کو ماننے سے انکار کیا اور مسلح جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا،
جس کے نتئجے میں یہ گروپ بتدریج فلسطینیوں میں مقبولیت حاصل کرنے لگا

2006 کے انتخابات میں بھاری اکثریت ملنے کے باوجود محمود عباس نے حکومت حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ۔جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی اور 2007 میں حماس نے غزہ کی پٹی کا انتظام محمود عباس انتظامیہ سے چھین لیا،جس کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی پرحماس کی حکومت قائم ہے
بشکریہ ٹی آر ٹی ورلڈ
Source: TRT World

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post اپنی زبان کو فروغ دینے کیلئے ہندکو میں‌ ارطغرل ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کیا
Next post ایران میں‌صدارتی انتخابات ،مضبوط امیدوار کون ہیں‌؟
Translate »