Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:6 Minute, 55 Second

اعجاز علی

منور خان، جو کاٹلنگ اور گردونواح کے غرباء اور بے کسوں کی نگاہ میں ایک مافوق الفطرت ہیرو تھے، طاقتور افراد یا حکام کی جانب سے غریبوں پر ظلم اور ناانصافی کا فوری اور منہ توڑ جواب دیتے تھے۔ وہ ڈنکے کی چوٹ بات کرتے اور خوف سے ناآشنا تھے۔

منور خان کا حجرہ عام لوگوں کےلیے تنازعات کے حل کا مرکز، اپنے مسائل پر آواز اٹھانے والی پارلیمنٹ اور حصولِ انصاف کےلیے ایک عدالتی احاطہ تھا۔

طویل قامت، نڈر اور خوبصورت منور خان کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے جو لوگوں کے مسائل حل کرتے اور انہیں محبت، سلامتی اور بااختیار بنانے کا مضبوط احساس دلاتے ہوئے ہر مشکل میں ان کی مدد کرتے تھے۔


ارطغرل رزم و بزم کا نیا عنوان کیسے بنا ؟

تنم فرسودہ جاں پارہ ،جامی کی تڑپ جو آج بھی عشاق کو تڑپاتی ہے


خاندانی پس منظر

منور خان 1929 میں خیبر پختون خوا کے تاریخی گاؤں کاٹلنگ میں یوسف زئی عزی خیل قبیلے کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دو بھائی اور تھے زر داد خان اور بہادر خان اور منور خان سب سے چھوٹے تھے۔

منورخان سابق صدر جنرل ضیاالحق کے ساتھ

منور خان کو قیادت اپنے آباء و اجداد سے خون میں ورثے میں ملی۔ ان کے والد ملک میر داد خان، جن کے والد کا نام ملک احمد خان تھا، علاقے کے ایک جاگیردار اور بااثر ملک تھے۔

1926 میں کاٹلنگ کے ایک علاقے زوڑ (پرانا) متہ کے ایک شخص نے اس وقت ایک انگریز پولیس آفیسر ایس پی مسٹر ٹی اے اکنز کو قتل کیا اور برطانوی حکومت نے قاتل کی گرفتاری کےلیے زوڑ متہ پر حملے کا ارادہ کیا تو ملک میر داد خان نے اپنی جیب سے برطانوی حکومت کو 3000 روپے بطورِ خون بہا ادا کردیئے۔ اس طرح انہوں نے اپنی سخاوت اور مدبرانہ صلاحیت سے اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرلیا اور برطانوی حملے سے زوڑ متہ کو بھی بچالیا۔

منور خان بطور سیاسی رہنما

انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1960 کی دہائی میں جنرل ایوب خان کے دور میں بی ڈی یعنی بنیادی جمہوریتوں کا انتخاب جیت کر کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں 1979 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ دوبارہ ضلع کونسل کے رکن منتخب ہوگئے۔

منور خان کی ذاتی اور سیاسی زندگی میں عدمِ تشدد کا نظریہ برصغیر کے عظیم پشتون رہنما خان عبد الغفار خان عرف باچا خان سے مماثلت رکھتا ہے۔ باچا خان نے 1929 میں خدائی خدمت گار تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ تحریک ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کی علمبردار تھی۔

منور خان نے خان عبد الغفار خان کےلیے کاٹلنگ میں اپنے حجرے میں ایک بڑا پروگرام کیا اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دور میں عوامی نیشنل پارٹی میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی۔

منصوبے جو انہوں نے شروع کیے

لیکن وہ سیاست میں بامِ عروج پر 1988 میں پہنچ گئے جب انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے ضلع بونیر اور اپنے ضلع مردان کے مابین پہاڑی کے کچھ حصوں کو کاٹ کر سڑک کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا جو اب تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور اس کی وجہ سے دونوں اضلاع کے درمیان فاصلہ کافی کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کےلیے اپنے حلقے کے انتہائی پسماندہ اور بنجر علاقوں پر خاص توجہ دی۔ نیز انہوں نے اپنے علاقے کے بہت سے غریب باصلاحیت افراد کو روزگار فراہم کیا لیکن اپنے خاندان کے کسی ایک فرد کو بھی نہیں۔ انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں سڑکوں، سکولوں، ٹیوب ویلز اور بجلی کی سہولتیں وافر مقدار میں فراہم کیں۔

انہوں نے اپنی پارٹی کو منظم کیا۔ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا اور ان کے دوستوں کا حلقہ وسیع تر ہوتا گیا۔ انہوں نے اسی اے این پی سے 1990 کا الیکشن لڑا اور اپنے حامیوں کے ذریعہ بھاری اکثریت سے منتخب ہوگئے۔ انہیں وزیر اعلی آفتاب احمد خان شیر پاؤ کا مشیر مقرر کیا گیا۔ مگر اس دوران وہ اپنے علاقے کے عوام سے جڑے رہے۔

غریبوں کے محافظ، امن کے وکیل

عدم تشدد کا نظریہ ان کی ذاتی، سیاسی اور معاشرتی زندگی کا رہنما اصول تھا۔ وہ اپنے علاقے کے طاقت ور خان تھے لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنی طاقت کو اپنے مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا۔ بلکہ وہ اکثر کہتے تھے کہ طاقت دوسروں کی مدد کے لئے استعمال ہونی چاہیے۔

امن پسند منور خان نے ایک غریب شخص کی بیل گاڑی کے نیچے کچلے گئے اپنے چھوٹے بیٹے کے قتل کو معاف کردیا۔ انہوں نے اپنے دوسرے بیٹے پر ہونے والے قاتلانہ حملے کو بھی معاف کردیا جو اس حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔

وہ اپنے علاقے کے بیمار لوگوں کو ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے تھے۔ اس وقت بہت کم لوگوں کے پاس گاڑیاں تھیں۔ چنانچہ وہ راستے میں غریب لوگوں کو گاڑی میں بٹھاتے اور انہیں گھر چھوڑ آتے تھے۔ مہمان نوازی ان کے خون میں شامل تھی۔ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے ان کے حجرہ میں آنے والے تمام مہمانوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ دور دراز علاقوں کے لوگ ان کے ہاں تب تک قیام کرتے جب تک ان کے مسائل حل نہ ہوجاتے ۔ وہ اکثر اپنی جیب سے ان کی مدد کرتے تھے۔

سب کو دستیاب منور خان

وہ اپنی معاشرتی حیثیت، خاندانی پس منظر رنگ اور نسل سے قطع نظر ، ہر ایک کے لئے دستیاب ہوتے۔ لوگ ان کی بے باکی، سادگی، ہمت اور نرمی کو پسند کرتے تھے۔ وہ امن کی پرچار کرتے لیکن طاقتوروں کو کبھی بھی کمزوروں اور غریبوں کا استحصال نہیں کرنے دیا۔ ان کی روزمرہ زندگی کی باتوں اور سرگرمیوں کو کاٹلنگ کے ہر حجرے میں بڑے فخر سے بیان کیا اور سنا جاتا ہے۔

ایک بار ایک غریب چاول فروش نعمت کاکا کو ایک اہلکار نے تھوڑا تنگ کیا۔ اس غریب آدمی نے بھی جواب میں سخت رد عمل دیا۔ بعد ازان ان سے پوچھا گیا کہ ان میں اتنی جرات کہاں سے آگئ کہ وہ افسر سے اتنے سخت انداز میں بات کر سکے تو انہوں نے کہا "میں نے دیکھا کہ منور خان ایک دکان میں بیٹھے ہیں۔ ان کو دیکھ کر میں ہر خوف بھول گیا۔ میں جانتا تھا خان میرا خیال رکھے گا اور میں نے اپنی توہین کا بدلہ لے لیا۔” ہوا بھی وہی۔ منور خان نے اس اہلکار کی سخت سرزنش کی کہ اس نے ان کے گاؤں کے ایک غریب آدمی کے ساتھ ایسی بدسلوکی کی جرات کیسے کی؟

آج ہمارے نوجوانوں کو ان کا فلسفہ زندگی پڑھانے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی عوامی زندگی اور وقار اور جرات کی داستانوں کو دستاویزی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ ان کی مثال اور داستانیں ہمیں معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف بہادر بنا سکتی ہیں۔

منور خان کی مقبولیت اب بھی قائم

منور خان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں 11 نومبر 2002 کو اپنے حجرہ میں افطاری سے قبل انتقال کرگئے۔ ان کا جنازہ کاٹلنگ کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ انہوں نے اپنی موت کے بعد کوئی بینک بیلنس نہیں چھوڑا۔

منور خان علماء کا بہت احترام کرتے تھے اور اسلامی علوم کے طلباء کو مالی اعانت فراہم کرتے تھے۔

ان کے سب سے چھوٹے بیٹے اعظم خان، جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، کہتے ہیں ان کے والد ہر روز موت کو یاد کرتے تھے اور بڑی عمارتوں کی تعمیر کے خلاف تھے۔”ہمارے والد ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کا مشورہ دیتے تھے اور بدلے میں کبھی کسی چیز کی توقع نہ کرنے کا کہتے تھے۔”

واحد سید، جنہیں گورنمنٹ ہائی اسکول کاٹلنگ میں منور خان کے ذریعے چوکیدار کی ملازمت ملی، کہتے ہیں "میں بے روزگار اور غریب تھا مگر میری کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ منور خان نے میری قابل رحم حالت دیکھی تو مجھے ملازمت دلوا دی۔ آج میں اپنے خاندان کا واحد کفیل ہوں۔ میں منور خان کے لئے ہر روز دعا کرتا ہوں۔ اور میں ہر جمعہ کو اس کی قبر پر جاتا ہوں۔” وحید یہ کہتے ہوئے سسکیاں لینے لگے۔


(اعجاز علی ایک فری لانس صحافی ہیں۔ انہوں نے جرمنی سے یوروپین اسٹڈیز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے اور ان سے ijazsrsp@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)


ترجمہ :طاہرعلی خان

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post نریندرامودی پر غصہ آتا ہے اس لئے ایسی سرخی بنائی
Next post سینیٹ چیئرمین کا انتخاب،اپوزیشن نمبر گیم میں‌حاوی
Translate »