محمد صداقت


طویل خشک سالی سے ہریپور کے آبی ذخائر کم ترین سطح پر آگئے ،متعدد علاقوں میں زرعی زمینوں کیلئے پانی کی فراہمی روک دی گئی ،ہزاروں ایکڑ پر کھڑی تیار فصلوں اور باغات کے متاثر ہونے اور کسانوں کو مالی نقصان کا اندیشہ

حالی عرصہ کے دوران ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہریپور میں بھی طویل خشک سالی کے باعث بڑے اور چھوٹے تمام آبی ذخائر میں سطح آب کم ترین سطح پر آچکی ہے

واضح رہے کہ ضلع ہریپور بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے ،جہاں طویل عرصہ سے مناسب مقدار میں بارش نہ ہونے کے باعث چھوٹے اور بڑے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے


یہ بھی پڑھیں

  1. مانسہرہ میں ایشیاء کی پرندوں کی سب سے بڑی افزائش گاہ کوجدید سہولتیں فراہم
  2. فردوس باجی کی ہوگیا اے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
  3. مانسہرہ میں ایشیاء کی پرندوں کی سب سے بڑی افزائش گاہ کوجدید سہولتیں فراہم
  4. اسامہ بن لادن کی موت کے 10 سال اور اس سے جڑے 10 سوال

جس کی وجہ سے ان ڈیموں پر انحصار کرنے والے اکثر علاقوں میں زرعی زمینوں کیلئے پانی کی فراہمی یا تو روک دی گئی ہے یا پھر اس کی مقدار انتہائی کم ہوگئی ہے

ضلع ہریپور میں دو بڑے ڈیم جبکہ زرعی مقاصد کیلئے تین چھوٹے ڈیم قائم ہیں ،جن میں تربیلا ڈیم سے ہریپور بلندی پر واقع ہونے کے باعث اس ڈیم سے زراعت کیلئے پانی کا حصول ممکن نہیں

خانپور ڈیم سے نکلنے والی دو نہروں کی مدد سے ہریپور کی 35 ہزار ایکڑ زمینیں سیراب ہوتی ہیں۔جبکہ دیگر تین چھوٹے ڈیم جن میں کہل ڈیم ،چھتری ڈیم اور کھڑبڑا ڈیم سے 3 ہزار ایکڑزمین مستفید ہوتی ہے

تاہم ایس ڈی او زراعت ضلع ہریپور محمد شعیب کے مطابق خشک سالی کے باعث ان ڈیموں سے پانی فراہم کرنے کی شرح محض چوتھا حصہ رہ گئی ہے

دو روز قبل محکمہ آبپاشی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق خانپور ڈیم میں پانی کی آمد صرف 42 کیوبک فٹ فی سیکنڈ رہ گئی ہے جوکہ گذشتہ سال 112 فٹ تھی ۔جبکہ محفوظ سطح گذشتہ سال کے 1978 فٹ کے مقابلے میں کم ہو کر 1932 فٹ تک آچکی ہے ۔

خانپور ڈیم کی زیادہ سے زیادہ ذخیرہ گنجائش 1982 فٹ جبکہ کم سے کم 1910 فٹ ہے
انہوں نے بتایا کہ غازی میں واقع چھتری ڈیم اور کہل ڈیم کی سطح بھی کم ترین حد کو چھو رہی ہے جس کے نتیجے میں زراعت کیلئے پانی کی مقدار انتہائی کم کردی گئی ہے ۔

چھوٹے ڈیموں سے پانی کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے کسانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جن کے تیار فصلیں اور باغات پانی نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔

کہل ڈیم پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے صرف 7 فٹ اوپر ہے ،جہاں سے روزانہ صرف 7 کیوبک فٹ جاری ہورہا ہے ،اسی طرح چھتری ڈیم میں پانی صرف 3 فٹ کی سطح پر رہ گیا اور پانی کا اجراء بھی انتہائی کم ہوگئی ہے ۔

کھاد بیج اور دوائوں کے قرضوں تلے دبے کسانوں کی پریشانی

جبکہ کھڑبڑ ڈیم میں پانی کی آمدورفت بالکل نہ ہونے کے برابر رہ چکی ہے ۔جس کے نتیجے میں ڈیم میں موجود مچھلیوں اور آبی حیات کے تحفظ کیلئے پانی کا اخراج مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے

چھوٹے ڈیموں سے پانی کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے کسانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جن کے تیار فصلیں اور باغات پانی نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔

غازی کے رہائشی زمیندارقلندرخان کے مطابق زیادہ تر کسان ادھار پر کھاد ،بیچ اور دوائیں پر حاصل کرتے ہیں ،لیکن خشک سالی اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث اگر فصل تباہ ہوئی تو یہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے کسانوں کیلئے شدید نقصان کا باعث ہوگا

ماہر ماحولیا ت احسن خان کا اس بارے میں کہنا کہ موجودہ خشک سالی گلوبل وارمنگ کانتیجہ ہے ۔جس سے پاکستان بھی شدید متاثر ہورہا ہے

محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع ہریپور کا 32ہزار 789 ہیکٹر علاقہ نہری جبکہ 52 ہزار 282 ہیکٹر علاقہ بارانی ہے

Translate »