0 0
Read Time:8 Minute, 22 Second

سید عتیق الرحمن ،ایبٹ آباد


مشرق وسطیٰ گذشتہ تقریبا ستر سال سے مسلسل بدامنی و خونریزی کا شکار ہے ،اگرچہ اس عرصہ کے دوران خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،اور انقلاب برپا ہوئے ،لیکن اس معاملے کی دوفریقی حیثیت 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد بنی

جہاں ایک طرف فلسطین اور عرب فریق تھے تو دوسری جانب ریاست اسرائیل کے پشت پناہ ،جس کے نتیجے میں بالخصوص فلسطین و اسرائیل کی مناقشت کے نتیجے میں اب تک لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور کئی لاکھ آج بھی دربدر ہیں

اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ معاملہ کسی سلجھائو کی طرف جانے کے بجائے گھمبیر تر صورت اختیار کرتا نظر آرہا ہے ۔حالیہ ایام کے دوران ایک بار پھر مشرق وسطیٰ مزید خلفشار کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا اور عالمی ماہرین اس آگ کے پھیلائو کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں

اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کا اصل سبب کیا ہے ،اس بارے میں ہم ریاست اسرائیل کے دعوے کے پس منظر کیساتھ ساتھ ماضی میں اس سے جڑے واقعات کا اجمالی جائزہ لیں گے

1914ء سے 1918ء تک جنگ عظیم اول ہوئی۔ جس کا آغاز تو ہنگری اور آسٹریا کی دوہری مملکت کے ولی عہد کے سربیا میں قتل سے ہوا۔ سربیا کی حمایت میں روس اور اتحادی اٹھ کھڑے ہوئے آسٹریا کی طرف سے جرمنی کی قیادت میں عثمانی سلطنت بھی جنگ میں اتر ائی۔

یہ بھی پڑھیں 

آل یہود بابل کی اسیری سے صیہونی ریاست کے قیام تک(حصہ اول)

اسامہ بن لادن کی موت کے 10 سال اور اس سے جڑے 10 سوال

رفتہ رفتہ متعدد ممالک اس کی لپیٹ میں آ گئے ۔ جنگ کے خاتمے پر 1918ء میں جرمن بادشاہ قیصر ولیم کو شکست کے بعد بدترین اور شرمناک شرائط پر جنگ بندی کرنا پڑی ۔ مگر اس کا ساتھ دینے والی عثمانی خلافت کو بھی سکڑ کر ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) تک محدود ہونا پڑا ۔
1915ء 1916ء میں جنگ عظیم اول کے دوران اتحادی قوتوں نے کچھ خفیہ معاہدات کیئے جنہیں سائیکو پیک معاہدے کہا جاتا ہے۔ ان قوتوں میں فرانس ۔ برطانیہ ۔ اٹلی اور روس وغیرہ شامل تھے سائیکو پیک معاہدے کے تحت جنگ میں کامیابی کے بعد اتحادیوں نے خطہ عرب کو آپس میں تقسیم کرنے کا فارمولا طے کیا کہ شام فرانس اور اور جنوبی شام سے فلسطین کو الگ کر کے برطانیہ کے حوالے کیا جائے گا۔

Image by 4144132 from Pixabay
عرب قوم پرستوں کی بغاوت نے فلسطین اور دیگر عرب علاقوں پر عثمانی گرفت کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ،جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں قومیت کی بنیاد پر نئی سلطنتوں اور بادشاہتوں کے قیام کے منصوبے کی داغ بیل ڈالی گئی

اس وقت تک فلسطین عثمانیوں کے پاس تھا ۔ عثمانی افواج سے وہاں کا قبضہ لینا اتنا آسان نہ تھا۔ مگر انگریز منصوبہ سازوں نے یہودیوں کی مدد سے اس مقصد کو سخت خون ریز جنگ کے بعد حاصل کر لیا ۔ یروشلم اور حجاز کی حفاظت کے لیئے تعینات عثمانی افواج کو شکست دینے کے لیئے ضروری تھا کہ ان علاقوں کا رابطہ مرکز سے کاٹ دیا جائے تا کہ قسطنطنیہ سے فلسطین اور حجاز تک عثمانیوں کو مدد نہ پہنچ سکے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیئے لارنس آف عریبیہ نے عثمانی گورنر امیر حجاز شریف حسین مکہ کو عثمانیوں کے خلاف بغاوت پر ابھارا ۔ عثمانی گورنر شریف حسین نے عرب قوم پرستی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے 5 جون 1916ء کو خلافت عثمانیہ سے بغاوت کر دی ۔ شریف حسین کے بیٹوں کو شاہ فیصل اور شاہ عبداللہ نے عرب قوم پرست تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر لارنس آف عربیہ نے آمادہ کیا ۔

لارڈ کچنر کی طرف سے شریف مکہ کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ کامیابی کے بعد اسے شام کی بادشاہت دی جائے گی ۔ کامیابی کے بعد برطانیہ نے اس سے نظریں پھیر لیں اور معلوم ہوا کہ شام تو فرانس کے قبضے میں دیا جائے گا۔

شریف مکہ نے 10 جون 1916ء تک مکہ میں خون کی ہولی کھیلی گئی اور مکہ پر قبضہ کر لیا گیا۔ برطانیہ نے پہلے حجاز کے مرکزی شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر نظریں گاڑ رکھی تھی ۔ تاہم شریف حسین کا بیٹا شاہ فیصل مدینہ کا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

عثمانی فوج مدینہ میں موجود تھی اور جنگ کے اختتام تک اس نے مدینہ کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔ 1917 میں انگریز عمان سے حجاز جانے والی ریلوے لائن کاٹنے میں کامیاب ہو گئے ۔ یہ ریلوے لائن عثمانی خلافت کے فلسطین اور موجودہ سعودی عرب سے مواصلاتی رابطے کا واحد بری راستہ تھا۔

حجاز ریلوے کا ایک متروک ریلوے انجن العلا ریلوے سٹیشن پر کھڑا ہے یہ ریل سروس 1922 میں بمباری کے بعد مستقل طور پر بند کردی گئی تھی

عرب محاذ پر مزاحمت کے لیئے شریف حسین بن علی کو کھلا میدان دے کر اتحادی افواج نے یروشلم کی طرف پیش قدمی شروع کر دی جہاں موجود عثمانی فوج محصور ہو چکی تھی۔ 1917ء کے آغاز میں برطانیہ کی افواج فلسطینی علاقوں پر حملہ آور ہوئیں ۔ فلسطین کا قبضہ لینے میں اتحادیوں کو 1917 ء کا پورا ایک سال لگا ۔

یروشلم میں جنگ عظیم کی شدید اور خوفناک جنگ اسی سال دسمبر میں لڑی گئی۔ برطانوی وزیراعظم جارج لائیڈ نے جنرل مرے کو فلسطین پر حملے کا حکم دسمبر 1916ء میں دیا تھا ۔ برطانوی افواج ایک سالہ جنگ کے بعد 11 دسمبر 1917 ء میں طویل مزاحمت کے بعد یروشلم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئیں ۔

یروشلم کی جنگ میں عثمانی فوج کی تعداد 37 ہزار تھی جن میں سے 25 ہزار سپاہی جام شہادت نوش کر گئے اور بارہ ہزار جنگی قیدی بنا لیئے گئے۔ جب کہ برطانیہ اور اتحادی 1 لاکھ 20 ہزار فوجوں کا لشکر لائے تھے ۔ جن میں سے ساٹھ ہزار کو دوران جنگ جرمن محاذ پر واپس بھیج دیا گیا اور ساٹھ ہزار اتحادی فوجی فلسطین پر قبضے کے لیئے لڑے ۔

فلسطین پر قبضہ کرتے کرتے اتحادیوں کے اٹھارہ ہزار سپاہی جنگ میں کام آئے۔ عثمانیوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ عرب قوم پرستوں کی بغاوت تھی۔ جسے فرو کرنے میں عثمانی فوج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ 1917 میں مصر کی طرف سے اتحادیوں کو کمک ملتی رہی مگر عثمانی دستے مرکز سے کٹ کر محصور رہے ۔

11 دسمبر 1917ء کو برطانوی جنرل ایلن بے نے یروشلم میں داخل ہو کر خون ریزی شروع کی ۔ ترک فوج کی کمان جنرل فالکن ہائنز کر رہے تھے انہوں نے اپنی پوری قوت مجتمع کر کے 26 سے 30 دسمبر تک یروشلم کا قبضہ واپس لینے کے لیئے خون ریز جنگ لڑی۔ مگر ترکوں کو اپنے سے چار گنا زیادہ فوجی طاقت کا سامنا تھا۔

عثمانی بے جگری سے لڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے یوں قبضے کے بعد یروشلم میونسپل اتھارٹیز کے برطانوی نظام سے منسلک کر دیا گیا۔ یروشلم پر اتحادی افواج کے قبضے کے بعد 8 جنوری 1918ء کو امریکی صدر ولسن نے جنگ بندی کے لیئے شرائط کے طور پر اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیئے ۔

انہی چودہ نکات میں صدر ولسن نے تمام مقبوضہ علاقوں میں قومیت کی بنیاد پر مملکتیں قائم کرنے کی تجویز دی ساتھ ہی ان ممالک پر مشتمل مجلس اقوام عالم لیگ آف نیشنز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ صلح کی جزئیات طے کرنے کے لیئے 18 جنوری کو اتحادی ممالک نے پیرس میں صلح کانفرنس کی اور معاہدہ ورسلز کی تفصیلات طے کیں ۔ اس میں حتمی فیصلے کا اختیار امریکی صدر ولسن ۔ برطانوی وزیر اعظم لائیڈ جارج ، فرانسیسی وزیر اعظم کلیمنٹو، اور اٹلی کے وزیر اعظم سٹور ریوار لینڈ کو سونپا گیا۔

جرمنی کی شکست کی بڑی وجہ یہودیوں کی پیدا کردہ شورش تھی جس میں مزدور اور کسانوں کے ذریعے حکومت مخالف تحریک چلائی گئی جس کے نتیجے میں جرمن بادشاہت کا خاتمہ ہوا ۔ جرمنی نے ولسن کے چودہ نکات کے مطابق صلح کی حامی بھر لی ۔ اور بعد میں جو شرائط سامنے آئیں وہ جرمنوں کی توقع اور ولسن کے نکات سے مختلف تھیں ۔

برطانوی قبضے کے بعد فلسطین کو جنوبی شام سے الگ کر کے برطانوی انتداب کا علاقہ بنا لیا گیا ۔ اور باقی شام کا بادشاہ شاہ فیصل کو بنایا گیا ۔ مصر شریف مکہ کے دوسرے بیٹے شاہ عبداللہ کو ملا جس کی اولاد آج بھی اردن پر حکمران ہیں ۔ جبکہ یروشلم برطانوی نظام کے تحت میونسپل اتھارٹی قرار پایا جس کی نگرانی انگریز ایڈمنسٹریٹرز کرتے رہے ۔

عالمی صیہونی تنظیم نے 1917ء میں برطانیہ کو فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام پر راضی کر لیا

عالمی صیہونی تنظیم نے 1917ء میں برطانیہ کو فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام پر راضی کر لیا۔ اور یوں بالفور ڈیکلریشن جاری ہوا ۔ برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور اور لندن کے رہنے والے یہودی وائز مین نے تاج برطانیہ کو قائل کر لیا کہ فلسطین میں یہودی ریاست اسرائیل قائم کی جائے

آرتھر جیمز بالفور نے اس وقت کے صیہونی تنظیم کے سربراہ روتھ شیلڈ کے نام نومبر 1917ء کو ایک خط لکھا جسے بالفور ڈیکلریشن کے نام سے شہرت حاصل ہوئی ۔ اس خط میں بالفور نے لکھا کہ ہز میجسٹی کی حکومت فلسطین کے اندر یہودیوں کی قومی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے ۔

فلسطین پر برطانوی قبضے کے بعد دنیا بھر سے یہودیوں کو یہاں کا کر بسانے کا سلسلہ تیز ہو گیا ۔ ابتداء میں یہودیوں نے فلسطینیوں سے زمینیں خریدنا شروع کیں اور پھر تجاوزات شروع کر دیں ۔اور کرتے کراتے یہودیوں کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی جنگ عظیم اول سے لیکر جنگ عظیم دوم تک دنیا بھر سے یہودیوں کو یہاں لا کر آباد کیا جاتا رہا ۔

 

14 مئی 1948ء کو ہی فلسطین میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی

جنگ عظیم دوئم کے بعد برطانیہ نے فلسطین سے انخلاء کے لیئے 15 مئی 1948ء کی تاریخ دے رکھی تھی ۔ انخلاء سے ایک روز قبل یعنی 14 مئی 1948ء کو ہی فلسطین میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »