Spread the love

آزادی ڈیسک
سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے مطابق خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہی ہوں‌گے
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں‌5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کیلئے دائر صدارتی ریفرنس کے ذریعے مانگی گئی رائے سے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے کیا .
اس بینچ میں‌چیف جسٹس گلزار احمد ،جسٹس مشیر عالم ،جسٹس عمرعطا بندیال ،جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفرید ی شامل تھے ،رائے 1 کے مقابلے میں‌چار کی اکثریت سے دی گئی ، جبکہ جسٹس یحییٰ آفرید ی نے اس سے اختلاف کیا ،رائے چیف جسٹس گلزار احمد نے پڑ ھ کرسنائی

منی لانڈرنگ کیس ،حمزہ شہباز 20 ماہ بعد ضمانت پر رہا

27 فروری ،اپنی مرضی اور مقام پر دشمن کو جواب دیا ،عمران خان

چیف جسٹس نے کہا سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں‌،الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات شفاف اور کرپشن سے محفوظ بنائے ،مزید کہا گیا پارلیمنٹ آئین میں‌ترمیم کرسکتی ہے اور تمام ادارے الیکشن کمیشن کے پابند ہیں‌.
رائے میں‌مزید کہا گیا کہ بیلیٹ پیپر کاخفیہ ہونا حتمی نہیں ،الیکشن کمیشن 218 کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق شفاف انتخابات کےلئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے سکتا ہے


آئین کا آرٹیکل 226 کیا ہے؟
آئین پاکستان کے آرٹیکل 226 مطابق ’دستور کے تابع تمام انتخابات ما سوائے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوں گے‘۔اسی معاملے پر صدر مملکت عارف علوی نے صدارتی ریفرنس کے ذریعے اس سوال کا جواب چاہا تھا کہ آیا آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے دہی کی شرط سینیٹ انتخابات پر لاگو ہوتی ہے یا نہیں۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے آج رائے سنائے جانے کے موقع پر اٹارنی جنرل پاکستان، چیف الیکشن کمشنر، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹسز جاری کیے تھے، مزید یہ کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، اراکین الیکشن کمیشن اور دیگر کو بھی نوٹس جاری ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ صدر کی جانب سے عدالت عظمیٰ کو بھیجے گئے ریفرنس پر پہلی سماعت 4 جنوری 2021 کو ہوئی تھی، جس کے بعد فروری سے اس پر روزانہ کی بنیاد پر سماعتیں ہوئی تھیں۔
معاملہ کب شروع ہوا ؟


وفاقی حکومت نے 23 دسمبر 2020 کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دی تھی اور ریفرنس پر دستخط کیے تھے۔
عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی رائے مانگی تھی۔ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائے۔صدارتی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ انتخاب سے الیکشن کی شفافیت متاثر ہوتی ہے اس لیے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے منعقد کرانے کا آئینی و قانونی راستہ نکالا جائے۔
بعد ازاں قومی اسمبلی میں اس حوالے سے ایک بل پیش کیا گیا جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی، جس کے بعد حکومت نے آرڈیننس جاری کیا۔
صدر مملکت نے 6 فروری 2021 کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تھے اور اسے جاری کردیا گیا تھا، آرڈیننس کو الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 کا نام دیا گیا تھا اور اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے سے مشروط کیا گیا تھا۔
آرڈیننس کے مطابق اوپن ووٹنگ کی صورت میں سیاسی جماعت کا سربراہ یا نمائندہ ووٹ دیکھنے کی درخواست کرسکے گا، مزید یہ کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ سے سینیٹ انتخابات آئین کی شق 226 کے مطابق رائے ہوئی تو خفیہ ووٹنگ ہوگی۔
علاوہ ازیں مذکورہ آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے سینیٹ انتخابات کو الیکشن ایکٹ کے تحت قرار دیا تو اوپن بیلٹ ہوگی اور اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔

Translate »