0 0
Read Time:8 Minute, 24 Second

مسرت اللہ جان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوبائی حکومت سیاحت کے فرو غ کیلئے کوشاں ہے اور اس بارے میں مختلف النوع پراجیکٹ بھی چل رہے ہیں .سیاحت کے فروغ کیلئے مختلف علاقوں کو سڑک کی تعمیر سمیت متعدد منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے

صوبے کے مختلف خوبصورت مقامات پر کیمپنگ پاڈز کا قیام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے بین الاقوامی ادارے کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا اور ایسے علاقوں میں کیمپنگ پاڈز بھی تعمیر کئے گئے

یہ بھی پڑھیں

  1. مانسہرہ میں ایشیاء کی پرندوں کی سب سے بڑی افزائش گاہ کوجدید سہولتیں فراہم
  2. پشاورمیں طویل تعطل کے بعد کھیل کی سرگرمیوں کا خوشگوارآغاز
  3. ملالہ کا بیان ، ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور لائسنس برانچ
  4. خیبر پختونخواہ کے "ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر

جس کی طرف پہلے سیر کیلئے جانا لوگوں کی سوچ تھی لیکن وہاں قیام کرنا بڑا مسئلہ تھا لیکن ان کیمپنگ پاڈز نے سیاحوں کے بہت سارے مسائل حل کردئیے –

لیز پر لئے جانیوالے ان کیمپنگ پاڈز کے منصوبے کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اب پنجاب اور کشمیر کی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اس طرح کے منصوبے اپنے علاقوں میں شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ سیاحوں کی توجہ ان کی طرف ہو اورروزگار کے مواقع پیدا ہو.جو کہ اچھا اور احسن اقدام ہے.

پشتو زبان میں ایک مثل مشہو ر ہے کہ” ہر چا تہ خپل وطن کشمیر دے”یعنی ہر ایک شخص کیلئے اپنی جگہ اور علاقہ کشمیر ہے.

اور ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کے علاقے کی خوبصورتی کا ذکر ہو ‘ لوگ اس کی طرف آئیں اور سیاحت بڑھے. لیکن ہمارے ہاں اس کا یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ ہمارے علاقے کا فردیا رشتہ دار ایسے منصوبے میں شامل ہو

جس میں مار دھاڑ اور پیسہ بہت ہو ‘ یقین نہ ہو تو توپتہ کریں کہ سیاحت کے ترقی کیلئے کام کرنے والے اس اتھارٹی میں کتنے لوگ ایک ضلع کے جمع کئے گئے ہیں ان میں رشتہ دار کتنے ہیں اور کتنے ایسے لوگ ہیں جن کا اس شعبے میں کوئی تجربہ ہے .

ہاں ایک تجربہ جس میں کچھ لوگ ماہر بھی ہیں جسے عام طور پر چاپلوسی اور مکھن بازی بھی کہا جاتا ہے اس میں کچھ لوگ زیادہ ایکسپرٹ ہیں اور اسی تجربے کی بنیاد پر اہم عہدوں پر تعینات ہوگئے ہیں .

کچھ کو برانڈ ایمبیسڈر بنایا گیا کہ رشتہ داری بھی نبھانی ہے.کوا چلا ہنس کی چال ‘ اپنی بھی بھول گیا ‘ کیا خیبر پختونخواہ ٹورازم اتھارٹی کے پاس لوگوں کی نقالی کے علاوہ اور کچھ ہے یا نہیں؟

صوبائی وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمود خان کے پاس  کھیل و سیاحت و ثقافت کی اضافی وزارت بھی ہے

قبل ازیں یہ وزارت مردان سے تعلق رکھنے والے ممبر عاطف خان کے پاس تھی جنہوں نے سال 2019 میں ایک رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سال 2019 میں صرف عید کے موقع پر سیاحت کیلئے خیبر پختونخواہ آنیوالے افراد کی تعداد کم و بیش پچیس لاکھ کے قریب تھی

یہ وہ سیاح تھے جو صر ف عید کے دنوں میں خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں سیاحت کی غرض سے آئے تھے سب سے زیادہ تعداد چترال آنیوالے افراد کی تھی .

یہ واحد رپورٹ تھی جو ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں آئی تھی جس میں بتایا گیا کہ سیاحوں کی بڑی تعداد نے ایبٹ آباد ‘ سوات اور کمراٹ سمیت گلیات کا رخ کیا-

وزارت وزیراعلی کے پاس اور پھر سب اچھا

اس کے بعد جب یہ وزارت وزیراعلی خیبر پختونخواہ کے حصے میں آئی تو پھر خاموشی چھا گئی حالانکہ ہونا تویہ چاہئیے تھا کہ وزیراعلی کے وزیر بن جانے کے بعد رپورٹ سالانہ کے بجائے سہ ماہی بنیاد پر آتی اور لوگوں کو پتہ چلتا کہ سیاحت میں کمی ہوئی یا زیادہ لوگ آئے

لیکن محمود خان جیسے عوامی آدمی کی وزارت میں بھی خاموشی چھا گئی شائد اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اس کے بعد کرونا کی صورتحال پیدا ہوگئی

اور مسلسل دو سال کرونا کی وجہ سے سوات سمیت دیگر علاقوں میں سیاحت پر پابندی رہی .جبکہ لوگوں کی قوت خرید کیساتھ قوت سیر و تفریح بھی ختم ہوکر رہ گئی

اسی بنیاد پر سیاحت اور سیاحوں کے بارے میں معلومات عام لوگوں تک نہیں پہنچ سکی لیکن کیا یہ ٹورازم اتھارٹی کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان دو سالوں کی رپورٹ مرتب کرے کہ سیاحت کی بندش کے باعث کن علاقوں کے لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ؟

سیاحت کتنی متاثر ہوئی ‘ ہوٹل انڈسٹری اور اس سے وابستہ افراد کن مشکلات کا شکار ہوئے اور اس کیلئے کیا اقدامات اتھارٹی نے اٹھائے ؟ اس بارے میں ٹورازم اتھارٹی خیبر پختونخواہ خاموش ہی رہی .

لاک ڈاٶن سے کس کو کتنا نقصان ہوا؟کسی کو معلوم نہیں

لیکن اپنی کارکردگی بیان کرنا سرکاری اداروں کا کام ہوتا ہے حالانکہ یہ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کی وہ تنخواہیں لیتے ہیں لیکن عوام کو ان کی وجہ سے کیا مشکلات درپیش رہی اس بارے میں کوئی بھی سرکاری ادارہ اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتا اور ٹورازم اتھارٹی کی بھی یہی حکمت عملی رہی ہے .

خیبر پختونخواہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹورازم اتھارٹی نے وقت کے تقاضوں کے پیش نظر اور لوگوں کو دلچسپی کے پیش نظر ایک ڈائریکٹوریٹ آف ٹورسٹ سروسز بھی بنائی ہے

جس کا کام اس انڈسٹری سے وابستہ ہوٹل اور دیگر اداروں کی رجسٹریشن ‘ ان کو ایس او پیز پر عملدرآمد سمیت سیاحت کے فروغ کیلئے کاوشیں کرنا شامل ہیں-

ویب ساٸیٹ پر ریٹنگ کا مجہول طریقہ کار

آئی ٹی کے اس دور میں ڈائریکٹوریٹ آف ٹورسٹ سروسز نے کیا کمال کی ویب سائٹ بنائی ہے ہوٹلوں کے بارے میں آن لائن جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ ادھوری ہیں

ٹاپ پر مالم جبہ میں واقع ہوٹل کو رکھاگیا ہے جبکہ اس میں صوبہ کے مختلف علاقوں میں واقع ہوٹلوں کے بارے میں سیاحوں کی رائے دی گئی ہیں لیکن کیا کمال کے ڈیزائنر ہیں رائے کیلئے جو پانچ سٹار دئیے گئے ہیں وہ آغاز سے لیکر اختتام تک سب کو ایک ہی طرح کے پوزیشن یعنی چار سٹار دئیے گئے ہیں

یعنی سب کو ایک ہی ڈنڈے سے پیٹا گیا ہے ‘ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ سب پر 270 کے قریب لوگوں کی ری ویو دی گئی ہیں یعنی آغاز سے لیکر سب کی سروسز کو ایک ہی قسم کا قرار دیا گیا ہے.-

ویب سائٹ پر ڈائریکٹوریٹ آف ٹورسٹ کے بقراط نما اہلکاروں نے ویب سائٹ پر رکھے گئے تمام ہوٹل کو سٹار بھی اپنی طرف سے ہی دے رکھے ہیں فائیو سٹار ہوٹل سے لیکر تھری سٹار اور ٹو سٹار دئیے گئے ہیں

ہوٹل کی سروسز کو ‘ حالانکہ ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کو پتہ ہے کہ ہوٹل کو ان کی سروسز ‘ بجٹ ‘ کوالٹی ‘ فٹنس سنٹر ‘ بزنس سروسز ‘ ریسٹورنٹ ‘ کانفرنس رومز ‘ سٹائل سمیت ‘ علاقے کی نوعیت ‘ ملازمین کی تعداد ‘ ان کی سروسز ‘ تنخواہوں تک کی بنیاد پر مخصوص لوگ ہی سٹار دیتے ہیں اور یہ ایک بین الاقوامی فرم کرتی ہے جس کی بنیاد پر متعلقہ ہوٹل اپنے آپ کو ٹو سٹار سے فائیو سٹار تک بتاتے ہیں

لیکن قربان جائیے ڈائریکٹوریٹ آف ٹورسٹ سروسز کی ‘ سب ہوٹلوں کو اپنی طرف سے سٹار دے دئیے ہیں ‘ ایسی ویب سائٹ بنائی گئی ہے جس میں بعض ہوٹلوں کی تصاویر بھی موجود نہیں

اسی طرح ریسٹورنٹ کے بار ے میں سوائے پشاور کے ایک مخصوص ریسٹورنٹ کے اور کچھ نہیں لکھا گیا ‘ نہ ہی ٹور آپریٹر اور ٹریول ایجنسیوں کے بارے میں کوئی معلومات ویب سائٹ پر دی گئی ہیں –

سال 2019 میں بنائی گئیdts.gkp.pk کی ویب سائٹ کا یہ حال ہے کہ اس پر رابطہ کے باوجود فیڈبیک کی طور پر کسی کو جواب نہیں دیا جاتا.ہاں مخصوص ای میل اور سوشل میڈیا کی اکائونٹ تک رسائی رکھنے والے افراد کیلیۓ اکائونٹ بنانے کی سہولت شامل ہیں لیکن اگر کسی کے پاس ای میل مخصوص سائٹ کی نہ ہو تو پھر اکائونٹ نہیں بنایا جاسکتا-

اس وقت صوبے میں یہ واحد وزارت ہے جس کے پاس فنڈز بھی بہت ہے اور اسکے پراجیکٹ بھی سب سے زیادہ چل رہے ہیں آمدنی بھی بہت زیادہ ہے لیکن اس کے بارے میں میڈیا کو کتنی معلومات ہیں اس بارے میں بھی خاموشی ہے

‘ شاید یہ واحد وزارت ہے جس کے اہلکار اپنے آپ کو ملازم نہیں بلکہ حکمران سمجھتے ہیں.اور انہیں وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو انکی خواہش کے مطابق لکھیں’ سوشل میڈیا پر ڈالیں یا پھر رپورٹ بنائیں اسی وجہ سے چند مخصوص لوگ ‘ این جی اوز ہی ٹورازم اتھارٹی کے گڈ بک میں شامل ہیں

جنہیں اسی اتھارٹی کے کارندے ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے بھی ہیں اور انہیں ایوارڈوں سے بھی نوازتے ہیں تاکہ میڈیا پر ان کی "واہ واہ” ہو ..

وزیراعلی صاحب! یہ چونکہ آپ کی وزارت ہے لہذا یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس اتھارٹی کی ذمہ دار لوگوں کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ صوبے میں ٹورازم کے فروغ کیلئے کئے جانیوالے اپنے اقدامات اگر میڈیا کیساتھ شیئر کریں اور یہ سہ ماہی بنیادوں پر ہو تو اچھا ہے ‘

سیاحت کے فروغ کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ‘ نقصان کتنا ہوا ‘ روزگار کتنوں کا متاثر ہوا ‘ آئندہ کے منصوبے کیا ہیں؟

اس بارے میں معلومات کی فراہمی اسی اتھارٹی کی بنیادی ذمہ داری ہے جسے اب تک وہ پورا کرنے میں ناکام ہیں لہذا محمود خان صاحب ! آپ ہی اس اتھارٹی سے وابستہ افراد کو پابند بنائیں.

ورنہ دوسری صورت میں سیاحت کے نام پر فنڈز آئیں گے جائیں گے والا حساب ہوگا اور فیلڈ میں کچھ نہیں ہوگا. صرف سلائیڈز پر پراجیکٹ اور کاغذی رپورٹس سے کچھ ہونے والا نہیں.

25 سال سے قلم قافلے میں شامل مسرت اللہ جان نے پشاور یونیورسٹی کے آئی پی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جرنلزم میں 2014 میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ۔خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے واحد صحافی ہیں جنہوں نے ایشین کالج آف جرنلزم چنائی بھارت سے موبائل جرنلزم کی تربیت حاصل کی ،مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور فری لانس صحافی کام کررہے ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھے ان کے کالمز تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں ،پاکستان فیڈریشن کونسل آف کالمسٹ کے صوبائی نائب صدر ہیں

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »