Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:4 Minute, 40 Second

عتیق الرحمان،ایبٹ آباد
………………………………………………………………………………………….

1808ء سے لیکر 1909ء کے دوران چار عثمانی خلفاء نے اوسطاً 25 ، 25 برس حکمرانی کی ۔ یہ عرصہ عثمانی ایمپائر کے دور زوال کا تھا ۔ مورخین اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ زوال میں تیزی اس وقت آئی جب سلطان محمود ثانی (1808 ء تا 1839) کا انتقال ہوا اور تخت کا وارث اس کا سولہ سالہ بیٹا عبد المجید (1839ء تا 1861ء) کو بنایا گیا جس نے اپنے پہلے شاہی فرمان میں مملکت کے مستقبل کی سمت کا تعین کیا ۔

اس فرمان کو گل خانہ فرمان کہتے ہیں ۔ گل خانہ فرمان سے متعلق مغربی رجحانات رکھنے والے مورخین کا کہنا ہے کہ یہ عثمانی سلطنت کا قدامت پسندی ترک کر کے جدید عہد میں داخل ہونے کی علامت ہے جب کہ قدامت پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ شاہی فرمان ماسونی ایجنڈے کی تکمیل تھی ۔


یہ بھی پڑھیں 

  1. معاہدہ لوزان اور 2023 کے بعد کا ترکی
  2. ترکی سے جنگی ہیلی کاپٹروں‌کی خریداری پرامریکی پابندی اورنئے امکانات
  3. 1875ء جب قرضوں‌ کی ادائیگی میں‌ ناکامی پرمصرنیلام ہوا
  4. اسرائیل کے زیراثرمغربی دنیا کا بیانیہ اور مزاحمت کرنے والی فسلطینی تنظیمیں

ماسونی عیسائیوں میں قومیتی تفاخر پیدا کرنے کی تحریک تھی۔ گل خانہ فرمان کی رو سے سلطنت عثمانیہ کے مسلمان اور غیر مسلم شہری برابر قرار پائے۔ اور ان کا ذمیوں کا درجہ ختم ہوا ۔ اس فرمان کے نتیجے میں نظام اور قانون کا ماخذ شریعت کی بجائے فرانسیسی قانون کو بنایا گیا۔آزادی اور مساوات جس کا سلوگن تھا۔

اس کے نتیجے میں سلطان نے وقتاً فوقتاً مزید اصلاحات بھی کیں ۔ جن میں غلامی کا خاتمہ ، نیا فوجداری قانون، 1840ء میں عثمانی بینک قائم کر کے کاغذ کے نوٹوں کا اجراء، سیکولر تعلیمی اداروں کا قیام شامل تھا ۔ نیز قانونی، معاشی ، فوجی ، زرعی، اور صنعتی اصلاحات لائی گئیں ۔ اس سارے دور کو تنظیمات کا دور کہا جاتا ہے۔ اصلاحات کا عمل 1856ء میں خط ہمایونی پر منتج ہوا ۔

عیسائیوں اور مسلمانوں میں مساوات کا یہ اعلان فرانس کے اساسی نعرے آزادی اور مساوات سے رشید پاشا کے متاثر ہونے کا نتیجہ تھا۔ رشید پاشا نے سلطنت کے تعزیراتی قوانین مرتب کرنے کے لیئے ایک فرانسیسی قانون دان کو لایا جس نے فرانسییسی پینل کوڈ کے مطابق عثمانی قانون کو ڈھال دیا۔

مغربی محققین اسے بالکل الگ تناظر میں دیکھتے ہیں وہ گل خانہ فرمان کو عثمانی سلطنت کے جدید عہد میں داخلے کا اہم سنگ میل قرار دیتے ہیں ۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ گل خانہ فرمان سابق سلطان محمود ثانی کے تجربات کا نچوڑ تھا۔

جس میں مملکت کے نظام سے متعلق راہنمائی کی گئی تھی ۔ فرمان کو انتقال کے بعد ان کے بیٹے نے جاری کیا ۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ گل خانہ فرمان مصطفیٰ رشید پاشا نے بنایا جو سلطان محمود ثانی کے دور میں پہلے لندن اور پیرس میں سفیر اور اس وقت عثمانی وزیر خارجہ تھے۔

رشید پاشا نے ایک بار کہا کہ "اے مسلمانو ، نصرانیوں ، یہودیو ، تم سب ایک سلطان کی رعایا ہو ، اور ایک ہی باپ کے بیٹے ہو ، سلطان تم سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں ” نتیجے میں رشید پاشا پر علماء نے کفر کا فتویٰ لگا دیا کہ یہ دین کی تعلیمات کے منافی ہے ۔

عیسائیوں اور مسلمانوں میں مساوات کا یہ اعلان فرانس کے اساسی نعرے آزادی اور مساوات سے رشید پاشا کے متاثر ہونے کا نتیجہ تھا۔ رشید پاشا نے سلطنت کے تعزیراتی قوانین مرتب کرنے کے لیئے ایک فرانسیسی قانون دان کو لایا جس نے فرانسییسی پینل کوڈ کے مطابق عثمانی قانون کو ڈھال دیا۔

اس سے قبل سلطان محمود ثانی کے دور( 1808 تا 1839ء) میں تمام ریاستی پاشائوں سے سزائے موت کا اختیار واپس لیا جا چکا تھا اور اب کسی کو بھی سزائے موت کے خلاف سلطان سے آخری اپیل کا اختیار تھا ۔

اسی طرح محمود کے دور میں ہی لباس میں نمایاں تبدیلیاں کر کے ترک ٹوپی اختیار کی گئی اور فوجیوں کے لیئے فرانسیسی فوج کی طرح ڈریس کوڈ جاری ہو چکا تھا مگر فوج کا انتظام ہنوز پرانے طریقے سے جاری تھا جس کو از سر نو منظم کرنے کی ضرورت تھی ۔

سابقہ فوجی ینی چری بغاوت کے دوران ختم ہو چکے تھے اور اب فوج کو نئے طریقے سے منظم کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔ عثمانی فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سبب محمد علی پاشا تھا جو نپولین کے مصر پر حملے میں ایک سپاہی کی حیثیت سے شامل رہے اور پھر ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے اہم حیثیت اختیار کر لی ۔

1844ء میں فوج کی تنظیم نو کی گئی ۔ اس سے پہلے فوج کو ینی چری کہتے تھے جس نے سلطنت پر گزشتہ دو صدیوں سے اپنی گرفت مضبوط کر رکھی تھی اور سلطان بھی ان کے اشارے سے بنائے اور ہٹائے جاتے رہے جب کہ آخری بغاوت کے بعد انہیں کچل دیا گیا

ینی چری میں سلطنت کے مختلف علاقوں سے بچوں کو لا کر انہیں فوجی تربیت دی جاتی ۔ یہ براہ راست سلطان کے وفادار ہوتے تھے جب کہ عملاً وہ غثمانی سلاطین کو یرغمال بنا لیتے ۔ سلطان عبد المجید نے معاشی نظام میں بھی تاریخ ساز تبدیلیاں کیں

1840ء میں کرنسی نوٹ چھاپے گئے مگر ان پر زر ضمانت کی رسید نہ تھا ۔ یعنی نوٹ واپس کیا گیا تو بنک حامل نوٹ کو کیا دے گا ۔ اس وجہ سے افراط زر کا مسئلہ بنا۔ کرنسی نوٹ سب سے پہلے آٹھ سالہ ٹریژری بانڈ کی شکل میں چھاپے گئیے تھے۔

یعنی وہ نوٹ آٹھ سال تک چل سکتے تھے اس کے ساتھ ساتھ مرکزی عثمانی بنک 1844ء میں قائم کیا گیا مگر بیس سال بعد 1865ء تک اسے بھی فرانسیسی اور برطانوی سرمایہ داروں نے خرید لیا ۔

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post خیبر پختونخواہ کے "ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر
Next post ملالہ کا بیان ، ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور لائسنس برانچ
Translate »