صفدرحسین

کمال احمد

ایبٹ آباد


دو مئی 2011 کی شب کو ایبٹ آباد میں مبینہ امریکی آپریشن کے فوری بعد کیا حالات تھے ؟

اس وقت جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والے صحافیوں نے کیا کچھ دیکھا؟

اس بارے میں ہم نے ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں کی یادداشتوں پر بات کی

زبیر ایوب ایک قومی ادارے کیساتھ وابستہ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ہیں جو گذشتہ کئی سالوں سے صحافت سے وابستہ ہیں دو مئی کی رات کو رونما ہونے والے واقعات کے وہ عینی شاہد بھی ہیں کیوں کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ مقام ان کی رہائش گاہ سے محض چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ۔

انہوں نے امریکی ہیلی کاپٹروں کی آمد سے لیکر ان کی واپسی تک کے تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور آپریشن مکمل ہونے کے بعد وہ میڈیا کے ان لوگوں میں شامل تھے جو سب سے پہلے موقع پر پہنچے ۔انہوں نے وہاں کیا دیکھا ؟اور اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ؟

اس بارے میں وہ بتاتے ہیں

میں شاید پہلا رپورٹر تھا جو وہاں (اسامہ کمپائونڈ )میں پہنچا ،تو اس وقت وہاں ارگرد کے علاقوں اور بستیوں کے کافی لوگ جمع تھے ۔کیوں کہ بہت سے لوگوں نے ہیلی کاپٹروں کی آوازیں سنیں اور پھر جب انہوں نے ہیلی کو گرتے دیکھا یا انہیں اس بارے میں علم ہوا کہ کوئی ہیلی کاپٹر گر گیا ہے تو بڑی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہونا شروع ہوچکے تھے ۔


اسامہ بن لادن کی موت کے 10 سال اور اس سے جڑے 10 سوال

کوروناپھیلائو روکنے کیلئے فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری


میں جب وہاں پہنچا تو اسامہ کمپائونڈ (ہمیں اس وقت تک علم نہیں تھا کہ یہ کس کی رہائش ہے اور ہیلی کس کا ہے )کا بڑااور مرکزی گیٹ کھلا ہوا تھا ،وہاں اندر بڑی تعداد میں آرمی کے جوان موجود تھے اور آرمی کی ایمبولینسز بھی کھڑی تھیں

مجھے وہاں پی ایم اے کے اس وقت کے کمانڈر راحیل شریف (جوبعدازاں پاکستان کے آرمی چیف بنے )سول لباس میں کھڑے دکھائی دیئے ،ان کے ساتھ چند دیگر افسران اور اہلکار بھی موجود تھے جن میں سے کچھ وردیوں میں تھے اور کچھ سادہ لباس میں

گرنے والے ہیلی کاپٹر کو آگ لگی ہوئی تھی جس سے اس وقت بھی شعلے بلندہورہے تھے ۔میں جا کر راحیل شریف سے چند فٹ کے فاصلے پر کھڑا ہوگیا ،

میں نے اس موقع پر دو تین مناظر دیکھے ،ایک تو وہاں ایک کمرے میں موجود خواتین اور بچوں کو سی ایم ایچ کی ایمبولینس میں منتقل کیا جارہا تھا ،وہ خواتین دری یا فارسی زبان بول رہی تھیں ۔ہر طرف چیخ و پکار تھی ۔

میں چونکہ راحیل شریف سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا تو  میں نے انہیں اپنے ساتھی افسر سے بات کرتے ہوئے سنا کہ  یہ ہیلی کاپٹر ہمارا نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس رات کو اڑنے کی صلاحیت رکھنے والے ہیلی کاپٹر موجود نہیں ہیں  یہ کوئی غیر ملکی ہیلی کاپٹر ہے

میں نے کوشش کی کہ ان سے کوئی بات ہوسکے لیکن اس وقت ہیلی کاپٹر کو گرے ہوئے تھوڑا ہی وقت گزرا تھا ،تو کسی کو بھی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ حقیقت میں ہو کیا رہا ہے ؟

جب راحیل شریف نے یہ بات کی تو وہاں موجودفوجی اہلکاروں نے احاطہ میں موجود لوگوں کو فوری طور پر باہر نکالنا شروع کردیا ۔تو میں بھی باہر آگیا

میں باہر نکلا تو اس وقت کے ڈی آئی جی ہزارہ ڈاکٹر نعیم کوکھڑے دیکھا ،جنہیں چارج سنبھالے ہوئے محض ایک دو دن ہوئے تھے ،میں ان کے پاس چلا گیا اور ان سے سوال پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب یہ کیا ہے ؟

تو انہوں نے کہا میں نے بھی ابھی چارج سنبھالا ہے تو ابھی مجھے بھی اس سے زیادہ علم نہیں کہ یہ کیا ہے ؟

بہرحال اسی دوران مجھے اپنے چینل پر لائیو جانا تھا تو میں نے انہیں لائیوکال پر ساتھ لے لیا ۔

جس میں انہوں نے بتایا کہ  ہمیں ابھی تک صورتحال کا واضح علم نہیں بہرحال ہم صورتحال کا تعین کررہے ہیں ،۔

اسی دوران وہاں موجود لوگوں نے بھی بتانا شروع کردیا کہ اس واقعہ کے فوری بعد انہوں نے بہت سی گاڑیوں کو وہاں سے تیزی سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے ۔مطلب یہ کہ لوگوں کو بھی احساس ہوگیا کہ کچھ بڑی گڑبڑ ضرور ہوگئی ہے لیکن اصل صورتحال کا کسی کو ئی علم نہ تھا

مزید اس ویڈیو رپورٹ  میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

محمد اشفاق  ایک نجی ٹی وی چینل کے وابستہ ہیں ،جنہوں نے روز اول سے اسامہ بن لادن اور ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں تفصیلی طور پر رپورٹنگ کی ہے ۔

اس بارے میں وہ بتاتے ہیں  ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور پھر مارے جانے کی خبر جسے دنیا بھر کے میڈیا نے بڑے پیمانے پر کوریج دی اور آج بھی کسی نہ کسی طریقہ سے اسامہ قومی و بین الاقوامی میڈیا کی خبروں کا حصہ ہوتے ہیں

ہمارے لئے بطور ایک صحافی یا رپورٹر بھی یہ خبر بہت بڑی اور ناقابل یقین خبر تھی ۔جس پر آج بھی کئی شکوک و شبہات موجود ہیں ۔

اگرچہ اس سے قبل القاعدہ ہی کے ایک اعلیٰ عہدیدار خالد شیخ محمد کی چند سال قبل راولپنڈی سے گرفتاری اور پھر ایبٹ آباد سے بالی بم دھماکوں کے مرکزی ملزم عمر پاتیک کی گرفتاری کے واقعات پیش آچکے تھے ۔جبکہ ہریپور ملکیار میں بھی واقعہ رونما ہوچکا تھا ،لیکن شاید اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی خبر کے حوالے سے بطور صحافی شاید ہم بھی ذہنی طور پر تیار نہ تھے

مزیداس ویڈیو رپورٹ میں ۔۔۔۔۔۔

اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے کئی سوال آج بھی موجود ہیں ،لیکن ہم نے ایبٹ آباد میں امریکی فوجیوں کی آمد اور ان کا تباہ شدہ ہیلی کاپٹر اپنی آنکھوں سے دیکھا ،اس لئے ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کو مارنے کےلئے ایبٹ آباد میں آپریشن ضرور ہوا ۔

ہم سب کے سوالوں کا جواب اسی صورت میں مل جاتا اگر جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم ہونے والے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو شائع کردیا جاتا ۔

کیوں کہ ہمیں یاد ہے کہ جب جسٹس جاوید اقبال تحقیقات کےلئے ایبٹ آباد آئے تھے توانہوں نے کہا تھا کہ جسٹس حموالرحمن کمیشن کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم کمیشن ہے ۔لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا بھی وہی حال کردیا گیا ہے جو اس سے قبل حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کا ہوا

جہاں تک میرا اندازہ ہے کہ شاید کمیشن خود بھی اسامہ کی موجودگی کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا جس کے بعد اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی گئی

آپریشن کے بعد اسامہ کے معاملے پر ہر ممکن رازداری کا اہتمام کیا گیا ۔اسامہ کے کمپائونڈ تک میڈیا کو رسائی نہیں دی گئی ۔اور ایبٹ آباد کمیشن کی آمد کے فوراً بعد ہی اس کمپائونڈ کو زمین بوس کرکے عملاً اس معاملے کو دفن کردیا گیا۔

Translate »