Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:4 Minute, 48 Second

سید عتیق الرحمن
برطانوی راج نے اپنے خاتمے کا اعلان تو 3 جون 1947ء کو کر دیا تھا مگر برطانوی زبان کی حاکمیت آج 74 سال گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی ۔

تازہ مثال وزیر اعظم کے سیکرٹری محمد اعظم خان کے دستخطوں سے 3 جون 2021ء کو جاری ہونے والا ایک مراسلہ ہے جس میں تمام سرکاری محکموں کو یہ ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ وہ سرکاری تقریبات میں اردو اختیار کریں ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیر اعظم کے مذکورہ حکم نامے کو انگریزی زبان میں جاری کیا گیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ انگریزی میں جاری ہونے والا یہ فرمان شاہی سپریم کورٹ کے اس حکم کی بھی توہین ہے جو جسٹس جواد ایس خواجہ نے ستمبر 2015ء میں جاری کیا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں

  1. ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
  2. اپنی زبان کو فروغ دینے کیلئے ہندکو میں‌ ارطغرل ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کیا
  3. سلطنت عثمانیہ کو جدیدیت سے متعارف کروانے والے اعلان گل خانہ کیا تھا ؟
  4. مسلم دشمنی کی بنیاد پر استوار ہونیوالا بھارت اسرائیل معاشقہ

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ تمام سرکاری مراسلت اردو میں کی جائے ۔ مگر انگریزی فوبیئے کا شکار بیورو کریسی آج چھ سال بعد بھی اپنے اس فوبیئے سے نہیں نکل پائی ۔

وزیر اعظم صاحب کی باقی جتنی باتوں سے بھی اختلاف کریں کم از کم قومی لباس اور قومی زبان کے حوالے سے ان کی پوزیشن درست اور سمت واضح ہے جس پر کوئی دو رائے نہیں ۔

اس وقت تک انہیں کسی غیر ملکی سربراہ سے غیر ملکی لباس پہن کر ملاقات کرتے نہیں دیکھا گیا ۔ ایسا بھی نہیں کہ انہیں انگریزی نہیں آتی مگر پھر بھی وہ اردو کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ اگرچہ ان کے دور حکومت میں بھی نفاذ اردو کی آئینی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا جا رہا ۔
نفاذ اردو کے تاریخی پس منظر کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 24 فروری 1948ء کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلی دستور ساز اسمبلی میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا ۔

اگرچہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے خطاب کس زبان میں فرمایا مگر یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ انہوں نے اردو کو پاکستان کی قومی و سرکاری زبان قرار دیا ۔جس کے نتیجے میں بعد میں آنے والے ہر آئین کے نسخے میں یہ بات تسلیم شدہ رہی ۔ اگرچہ عملاً صورت حال ویسے ہی رہی جیسے اب ہے۔

بیس پچیس سال قبل سپریم کورٹ میں اردو کو اختیار کرنے کی درخواست دائر کی گئی جو 2015ء تک دیگر مقدمات کی فائلوں تلے دبی رہی۔ اس دوران جنرل مشرف کا عدلیہ کے ساتھ ہنگامہ خیز دور گزرا ۔ پھر پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ سوموٹو دور بھی گزرا بدقسمتی سے سوموٹو کیسز کی فائلوں نے قومی زبان کے مقدمے کو سماعت کا موقع نہ دیا ۔

ستمبر 2015ء میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے درخواست کی سماعت کی اور سرکاری اداروں کو اردو میں مراسلت کا حکم جاری کیا ۔ اب جب کہ ایک اور حکم بھی تین جون کو ہی جاری ہوا ۔

جو زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ برطانوی راج ختم کرنے کا منصوبہ 74 سال بعد بھی مکمل نہیں ہوا ۔ برطانوی انگریز بظاہر تو یہاں یہاں سے جا چکے ہیں مگر مقامی انگریزوں کی شکل میں ان کے نمائندے اب بھی یہاں سیاہ و سفید کے مالک ہیں ۔

جن پر نہ کوئی عدالت موثر ہے نہ آئین ۔ جو صرف اور صرف زعم برتری کے قائل ہیں ۔ اب کی بار تو اردو کی تنگ دامانی کا وہ جواز بھی نہیں گھڑا جا سکتا جو عذر خواہوں کی طرف سے سائنسی مباحثوں میں اکثر سامنے آتا ہے ۔ یہ کہ اردو میں فلاں فلاں جدید سائنسی اور علمی اصطلاحات کے متبادل موجود نہیں ۔ یا بہت سی چیزوں کے انگریزی ناموں کا متبادل دینے سے اردو قاصر ہے۔

یہ بودا اعتراض بھی صرف عذر خواہی کے لیئے تراشا جاتا ہے وگرنہ ایسا امر واقعہ نہیں ۔ یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ اردو سب زبانوں سے اپنے لیئے الفاظ لیتی ہے ۔ اردو میں انگریزی کے بے شمار الفاظ اس کی گواہی دینے کو موجود ہیں ۔

بہر حال 3 جون 2021ء کے مراسلے میں ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جس کا متبادل اردو لفظ نہ ہو بجز سیکرٹری فلاں ڈھمکاں کے ۔ ہر زبان کے اندر کم از کم اتنا جوہر لازماً موجود ہونا چاہیئے کہ اسے اپنے اختیار کرنے کا حکم کسی دیگر زبان میں نہ دینا پڑے۔

نفاذ اردو کیلیٸے جاری کردہ سرکاری حکم نامہ بزبان انگریزی

انگریزی میں جاری ہونے والا مذکورہ مراسلہ نفاذ اردو کے لیئے کوشاں تنظیموں اور اداروں کا منہ چڑا رہا ہے ۔ یہ انگریزی کی برتری اور بالادستی کو قائم رکھنے کی ایک بھونڈی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں ۔

اردو کی یہی ایک خاصیت اسے حیات جاوداں دینے کے لیئے کافی ہے کہ وہ وسعت دامنی کے اعتبار سے تقریباً دنیا کی ہر زبان پر حاوی ہے ۔ اردو اپنے دامن میں انگریزی سمیت ہر زبان کو پناہ دیتی ہے یہ وسعت اردو کو ہمیشہ زندہ رکھے گی انشاء اللہ ۔

اردو ہی نہیں اردو دان بھی وسعت ظرفی و قلبی کا مظہر ہیں ۔ شومئی قسمت کے زمام کار ابھی تک برطانوی سول سروس کے پروردہ بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں ہے ۔ جب تک زمام کار ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں آتی جو اردو میں لکھتے ، بولتے اور سوچتے ہیں تب تک فرنگی سے نجات کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا۔

ان حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ یا تو وہ ججوں کو گھر بھیج کر سپریم کورٹ کو تالے لگا دیئے جائیں۔ یا پھر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد بھی آئین پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف ایک اور سو موٹو ایکشن لیا جائے ۔
یہ دو 3 جون کے منصوبے ہیں پہلا جو تقسیم ہند کا اور دوسرا تنفیذ اردو کا ہے ۔ دونوں کی زبان انگریزی ہے مگر منصوبے اردو داں لوگوں کے لیئے ہیں ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post ملالہ کا بیان ، ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور لائسنس برانچ
Next post عربوں کی پہلی سیاسی جماعت اسرائیلی حکومت کا حصہ بن گئی
Translate »