آزادی ڈیسک


افغان حکام کی جانب سے قطر میں ہونے والے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تعطل پر اظہار تشویش کے باوجود افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات پر کاربند ہیں

اس کے ساتھ ساتھ وہ افغانستان میں حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہاں ہیں ،جہاں معاشرتی اور مذہبی اقدار کی روشنی میں خواتین کے حقوق کا بھر پور تحفظ یقینی بنایا جائے گا

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیرملکی فوجوں کے انخلاء کا عمل جاری ہے ،لیکن قطر میں ہونے والے طالبان اور کابل حکومت کے مابین امن مذاکرات سست روزی کا شکار ہیں جبکہ ملک میں حالیہ مہینوں کے دوران تشدد کے واقعات بڑھے ہیں

اس حوالے سے افغان حکام نے ایک بار پھر مذاکرات کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ،کیوں کہ مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کے حوالے سے تاحال طالبا ن کی جانب سے تحریری طور پر تجاویز پیش نہیں کی گئی ہیں


یہ بھی پڑھیں 

  1. بھارت نے افغان طالبان قیادت کیساتھ روابط بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں
  2. امریکی انخلاء اور افغان طالبان کیلئے فیصلے کی گھڑی
  3. افغانستان لڑکیوں کے سکول میں بم دھماکہ 30 افراد جاں بحق درجنوں زخمی
  4. پاکستان میں موجود14 لاکھ افغان مہاجرین کی تصدیق شروع

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ دنیا اس بارے میں جاننا چاہتی ہے کہ غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان کا نظام حکومت کیسا ہوگا تو اس بارے میں دوحہ مذاکرات کے دوران تفصیلی بحث ہوچکی ہے

ہمارے نزدیک افغان قوم کے تمام تر مسائل کا حل صرف حقیقی اسلامی نظام کا نفاذ ہے ۔اور ہماری جانب سے مذاکراتی عمل کی تائید اور اس میں شرکت اس بات کا اظہار ہے ہم مسائل کا حل مفاہمت کے ذریعے چاہتے ہیں

خواتین کے حقوق کا معاملہ

بیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین اور اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ سفارتکاروں اور غیرسرکاری تنظیموں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت ہوگی

ملابرادر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ عظیم مذہب اسلام اور افغان روایات کی روشنی میں ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کا بلاتفریق مرد و خاتون تحفظ کرنا ہمارا بنیادی فریضہ ہے ۔جہاں خواتین کو تعلیم و روزگار کے بھرپور مواقع فراہم ہوں گے ۔

البتہ اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ طالبان خواتین کو عوامی سطح پر کام کرنے کی اجازت دینگے یا ان کے کام اور تعلیم کے لئے الگ ادارے قائم کئے جائیں گے اور نہ ہی اس حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی وضاحت کی گئی ہے

مئی میں امریکی خفیہ ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ طاقت میں آکر طالبان خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو ختم کردیں گے ۔

واضح رہے کہ 2001 میں امریکی جارحیت کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے سے قبل طالبان نے خواتین کے حوالے سے بہت سے سخت گیر قوانین متعارف کروائےتھے جن کے تحت خواتین کے تعلیم حاصل کرنے ،ان کے لئے گھر سے باہر کام کرنے یا مردمحرم کے بغیر عوامی مقامات پر جانے پر پابندی عائد کردی تھی

افغان حکومتی عہدیداروں میں ردوبدل

افغان صدر اشرف غنی نے سیکورٹی معاملات میں ناکامی پر دو اعلیٰ ترین وزاراء کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ،کیوں کہ حالیہ دنوں میں طالبان نے سرکاری فوجوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد مختلف علاقوں میں پیش قدمی تیز کردی ہے

یہ ردوبدل اس وقت ہورہا ہے جب افغان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے ،جبکہ طالبان نے 40 سے زائد اضلاع سے سرکاری فوجوں کو نکال کر ان پر قبضہ جما لیا ہے

افغان صدر نے افغا ن خانہ جنگی کے دوران مشہور کمانڈر احمد شاہ مسعود کے قریبی ساتھی جنرل بسم اللہ محمدی کو نیا وزیر دفاع مقرر کردیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ کا خدشہ

افغان حکومت کے چیف مذاکرات کار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد طالبان کو امریکی حمایت یافتہ کابل حکومت کے ساتھ سیاسی مفاہمت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کچھ ایسی علامات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان 11 ستمبر تک فوجی پیش رفت کے خواہاں ہیں ،لیکن اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہوگی،عبداللہ عبداللہ

Translate »