Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:3 Minute, 41 Second

آزادی نیوز

وفاقی حکومت نے تین روز سے ملک گیر احتجاج کرنیوالی جماعت تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ارسال کردہ سمری کو منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو بھیج دی ہے

واضح رہے کہ ٹی ایل رہنما سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں تحریک کے کارکنان کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد مارے جاچکے ہیں اور ساڑھے 3 سو افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

جبکہ گذشتہ روزلاہور پولیس کی مدعیت میں ٹی ایل پی رہنما سعد رضوی سمیت اہم قیادت کے خلاف مقدمات درج ہوئے جن میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں

ضرورت پڑنے پر انٹرنیٹ بند ،فوج بلانے پر غور

سعدرضوی اور تحریک لبیک رہنمائوں پر دہشتگردی کے مقدمات قائم

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا ہم نے تحریک کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس پر قائم ہیں ،ہم پارلیمانی انداز میں اس معاملے کو حل کرنا چاہتے تھے ،جسے انہوں نے مسترد کردیا اور جو وہ چاہتے تھے اس طرح کرتے تو پاکستان کی تصویر دنیا بھر میں ایک انتہا پسند ملک کے طور پر دیکھی جاتی

نہوں نے کہا کہ اس وقت جی ٹی روڈ، موٹرویز بحال ہیں، اس پر تشدد احتجاج کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 340 زخمی ہوئے، اس کے علاوہ مظاہرین نے کچھ اہلکاروں کو اغوا کر کے ہم سے مطالبات کیے جو اب واپس اپنے تھانوں کو پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سڑکیں بلاک کرنے اور بد امنی کے پیغامات دینے والوں کا قانون پیچھا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ قومی اسمبلی میں ناموس رسالت سے متعلق ایسا بل پیش کریں جس سے حرمت نبی ﷺ کا جھنڈا بلند ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ٹی ایل پی سے متعدد مرتبہ مذاکرات کیے گئے اور جب یہ اجلاس میں آتے تھے تو گھروں میں پیغامات ریکارڈ کروا کر آتے ہیں کہ فلاں فلاں سڑک بند کرنی ہے۔۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری آخری حد تک یہ کوشش رہی کہ ہم باہمی اتفاق رائے سے اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کے لیے ان کو راضی کرلیں لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام کوششوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہی بھی تھی کہ وہ ہر صورت میں فیض آباد چوک اسلام آباد آنا چاہتے تھے اور ان کی بڑی لمبی تیاری تھی جسے روکنے کے لیے پولیس نے بہت زبردست کام کیا ہے۔

تحریک لبیک قائد سعدرضوی سوشل میڈیا فوٹو

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ اس جماعت کا میڈیا چلا رہے ہیں میں ان سے کہوں گا سرینڈر کردیں، آپ ایک دن، 2 دن 4 دن میڈیا چلالیں گے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سوشل میڈیا کے ذریعے اس حکومت کو مسائل سے دوچار کرسکتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو مسائل سے دوچار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا مسودہ چاہتے ہیں کہ جس سے نبی ﷺ کا جھنڈا بلند ہو لیکن یہ جو مسودہ چاہ رہے تھے اس سے دنیا میں ہمارے لیے انتہا پسند مملکت کا تاثر جاتا اور جب بات مذاکرات پر ہوتی ہے تو گنجائش رکھی جاتی ہے کہ ریاستی معاملات کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات پر آنے سے قبل سوشل میڈیا کے لیے تمام تر پیغامات ریکارڈ کروا کر آتے تھے لیکن اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگادی جائے۔

شیخ رشید نے کہا کہ جو مقدمات درج ہیں ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، عدالتیں سب کے لیے کھلی ہیں جو چاہے ان سے رجوع کرے۔

ٹی ایل پی احتجاج کا پس منظر

یاد رہے کہ 16 فروری کو فرانسیسی سفیر ملک بدری کے حوالے سے  حکومتی ڈیڈ لائن پوری ہونے کے بعد سعدرضوی نے کارکنوں کو ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی تھی جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا،جس کے خلاف ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ،جس میں اب تک متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ۔اس کے علاوہ بڑی تعداد میں مال و املاک کو بھی نذر آتش کیا گیا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post صحافت ،مقدس پیشے سے مافیاز کی آماجگاہ تک ۔۔۔مسرت اللہ جان
Next post ہائی برڈ نظام کا تسلسل اور نیا ”برڈ“۔۔۔راحت ملک
Translate »