سخت سردیاں تھیں۔ بارش اور برفباری نے باریاں لگا رکھی تھیں۔ ہم صبح کسی بات پر روٹھ گئے اور ماں جی سے پیٹھ پر ایک تھپڑ کھا کر بغیر ناشتہ کیے بستہ اٹھایا اور سکول کے لیے نکل گئے۔ ماں جی پکارتی رہ گئیں۔

سکول گاؤں سے بہت فاصلے پر تھا۔ یہی کوئی سات میل دور۔ خالی پیٹ پہاڑی راستے پر بلندی کی طرف بڑھنا معمولی بات نہ تھی۔ چوتھے پیریڈ تک بھوک نے نڈھال سا کر دیا۔ جیب بھی خالی ‛ ورنہ کچھ گزارا کر لیتے۔ گھر واپسی کی ٹھانی۔

چوری چھپے سکول سے فرار ہوئے اور گاؤں کی راہ ناپی۔ جاگتے خوابوں سے بھوک کو بہلاتے بہلاتے گھر پہنچے تو بارش تیز ہو گئی۔ ظہر ڈھل رہی تھی۔ فرشی انگیٹھی میں آگ جل رہی تھی۔ ہم نے سکول کی وردی آگ پر سینکی۔

یہ بھی پڑھیں 

سدا بادشاہی خدا کی…….خالدقیوم تنولی

آنکھ کھلی تو خود کو ابا کے سینے سے چمٹے ہوئے دیکھا…

چھوٹی کابینہ لحافوں میں دبکی پڑی تھی۔ ماں جی گھر پر نہیں تھیں۔ ہم نے پہلے دیگچے کا ڈھکن اٹھایا۔ خالی تھا۔ پھر پروٹے میں جھانکا ‛ روٹی بھی ندارد۔ قدرت کو ابھی ہماری اور بھی آزمائش مطلوب تھی۔ ہم نے پیاز کی گانٹھ اٹھائی ‛ چارپائی کے پائے پر رکھی اور کھڑی ہتھیلی کا وار کر کے اس کے دو حصے کیے۔ بہت تیز تھی۔ آنکھیں جلنے لگیں اور حلق بھی۔

اس جلن کا تدارک شکر پھانک کر کیا مگر بھوک تھی کہ بس ۔ ۔ ۔کیا بتائیں ؟
اماں آئیں ‛ ہمیں دیکھا‛ صبح کی ہماری خفگی کا خیال کر کے ہمیں پیار کیا ‛ مسکرائیں۔ کبھی کبھار ہی تو مسکراتی تھیں۔ ہمیں لاڈ سے گدگدایا ۔ ہم کھلکھلائے۔ ابھی ہم اپنی بے رحم بھوک کی شکایت لگانا ہی چاہتے تھے کہ ماں جی نے پہل کر دی :

“بچہ ! مندری (بکری) رات سے بھوکی ہے‛ آج دودھ بھی نہ ہونے کے برابر دیا۔ اس کے بکروٹے بھی بھوکے ہیں۔ تم تھکے ہوئے تو ہو مگر ہمت کرو تو اس کے لیے کہیں سے لانگی کاٹ لاؤ۔ دعائیں دے گی ۔ حیوان مال ہے۔ بے زبان پر ظلم ہے۔”

ہم چپکے سے پلٹے ‛ کلہاڑی ‛ رسی اور کھیس لیا اور ۔ ۔ ۔اگلے دو تین گھنٹے درختوں کی ہری شاخیں ڈھونڈتے رہے۔ خزاں میں درخت اور جھاڑیاں اپنے پتوں کی ساری ریزگاری لٹا دیتی ہیں۔ تاہم ہم نے پھلاہی ‛ دھمن ‛ بیری‛ کہرک ‛ گنگیر اور گرنڈے کی پتلی نرم شاخیں چھانٹ اور کاٹ کر جمع کر ہی لیں۔

گھر پہنچے تو شام ہو چکی تھی۔ بھوک کا احساس اور زیادہ شدت سے کرلانے لگا۔ خیر ہم نے لانگی کا بھاری گٹھا گوہال میں پھینکا ‛ کلے سے بندھی مندری اٹھ کھڑی ہوئی اور ممیانے لگی ‛ گویا دعا دے رہی ہو‛ شکریہ ادا کر رہی ہو ‛ ہم نے اسے چمکارا اور شفقت سے کہا : “ویل کم مندری جانی ۔ ۔ ۔موج اڑا ‛ مزے کر۔”

ماں جی نے اس رات پہلی بار اپنی اولاد میں امتیاز برتا۔ سخت تفریق کی۔ ہمیں دیسی گھی میں شکر ڈال کر ‛ دو جمبو سائز کے پراٹھے اور پڑوس کی مہربانی سے دیسی مرغ کا سالن جس میں ایک موٹی تگڑی ران بھی غرقاب تھی اور گندم کے نشاستے سے بنا گرما گرم حلوہ عنایت کیا۔

ہم نے بقیہ کابینہ پر نگاہ کی ‛ یقیناً ان کے مشامِ جاں بھی تڑپ اٹھے ہوں گے۔ سب سے چھوٹی جو گھر کی لاڈلی تھی ‛ ماں جی کی امتیازی تنبیہہ کے بعد ہمیں کنکھیوں سے دیکھ رہی تھی۔ اس سے بڑا تینو خلاف معمول سنجیدہ تھا‛

اور اس سے بڑا مانی ثابت ماش کی دال میں روٹی کے قتلے ڈبونے میں مگن تھا‛ اور اس سے بڑی توے پر پکتی روٹی پھیر رہی تھی اور اس سے بڑا جیدی منہ پھلائے اپنا خاموش احتجاج نوٹ کرا رہا تھا اور اس سے بڑی تو تھی ہی حال و قال مست۔ ۔ ۔

ہم نے کہا : “بےبے جی ! ایمان سے بالکل بھی بھوک نہیں ھے۔ پہلے ہی پیٹ اتنا بھرا ہوا ہے کہ ایک لقمے کی گنجایش نہیں۔”
ماں جی نے ہمیں گھور کر دیکھا ‛ بولیں : “ہاں ہاں ‛ جیسے میں جانتی نہیں ہوں۔”
مگر ہم نے باقی پلٹن کو دیکھا اور کمانڈر کی طرح گرجے : “چلو اوئے ‛ ٹوٹ پڑو۔۔۔!!!!!”
۔۔۔ اور لشکر نے وہ دھول اڑائی کہ الآمان الحفیظ ۔۔۔
ماں جی روکتی اور ڈانٹتی ہی رہ گئیں۔
پھر ویسی بھوک کو ہم آج تک ترستے ہی آئے ہیں۔

خالد قیوم تنولی خطہ شمال کے اردو اور ہندکو ادب کا شناسا چہرہ،جو لطافت و حساسیت کے جذبے سے لبریز تحاریر کے زریعے معاشرتی پہلوٶں کو اجاگر کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں

Translate »