0 0
Read Time:3 Minute, 2 Second

آزادی ڈیسک

انڈونیشیا کی لاپتہ ہونے والی آبدوز کے 53 رکنی عملے کے بچنے کی امیدیں دم توڑ گئیں ،تلاش میں مصروف حکام کو کچھ ایسے آلات سطح سمندر سے ملے ہیں جو ممکنہ طور پر لاپتہ آبدوز کے ٹکڑے ہیں

ایئرمارشل ہادی جانتو نے میڈیا کو بتایا کہ آبدوز کے لاپتہ ہونے والے مقام کے قریب چند ایسی اشیاء ملی ہیں جو آبدوز سے صرف اسی وقت علیحدہ ہو سکتی ہیں جب وہ شدید دبائو کے نتیجے میں پھٹ جائے

واضح رہے کہ مذکورہ آبدوز بالی جزیرہ کے قریب بحری مشقوں کے دوران بدھ کے روز لاپتہ ہوگئی تھی جس کے بعد اس کا رابطہ بھی منعقطع ہوگیا تھا ،

یہ بھی پڑھیں

ترکی کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت سے اسرائیل خوفزدہ کیوں ؟

شام میں خانہ جنگی کے دس سال اور اقدار و جنگ میں پھنسی خواتین

انڈونیشیا بحریہ کے سربراہ یودو مارگونو نے بتایا کہ سطح سمندر پر کئی اشیاء ملی ہیں جو آبدوز کا حصہ تھیں

یہ آبدوز ممکنہ طور پر کسی دھماکہ کا شکار ہو کر پھٹ گئی ،البتہ حکام تاحال تلاش و امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم عملے کے 53 افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں کیوں کہ آبدوز میں موجود آکسیجن کی مقدار ہفتہ کے روز ختم ہورہی تھی

جبکہ سکیننگ کی مدد سے آبدوز کی باقیات کا 850 میٹر کی گہرائی پر سراغ ملا ہے جبکہ مذکورہ آبدوز کی حد گہرائی 500 میٹر ہے ،تاہم حادثہ کے حوالے سے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ،لیکن ابھی تک عملے کے کسی رکن کی لاش نہیں مل سکی ہے

انہوں نے بتایا کہ مانا جارہا ہے کہ یہ آبدوز بالی کے شمال میں 60 میل دور گہرے سمندر میں کہیں غائب ہوئی۔

انڈونیشین آرمی چیف نے بتایا کہ بحریہ کی جانب سے متعدد جہازوں کی مدد سے علاقے میں آبدوز کو تلاش کیا جارہا ہے جن میں سے ایک ہائیڈروگرافک سروے شپ بھی شامل ہے جبکہ سنگاپور اور آسٹریلیا سے بھی مدد کی درخواست کی گئی ہے جن کے پاس سب میرین ریسکیو جہاز موجود ہیں۔

انڈونیشین میڈیا کے مطابق بحریہ کا ماننا ہے کہ آبدوز 700 میٹر گہرائی میں ڈوب گئی ہے۔

انڈونیشین بحریہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ غوطہ لگانے کے بعد بلیک آؤٹ سے کنٹرول ختم ہوگیا ہو اور ایمرجنسی اقدامات پر عمل کرنا ممکن نہ رہا جس کے باعث آبدوز 600 سے 700 میٹر گہرائی میں پہنچ گئی ہو۔

انڈونیشین وزارت دفاع نے انے ایک بیان میں کہا کہ آبدوز سے رابطہ اس وقت منقطع ہوا جب اسے غوطہ لگانے کی اجازت دی گئی جبکہ ایک ہیلی کاپٹر نے بعد ازاں غوطہ لگانے کے مقام کے قریب تیل کے اخراج کو دیکھا تھا۔

سمندر کی سطح پر تیل کی موجودگی سے عندیہ ملتا ہے کہ آبدوز کے ایندھن کے ٹینک کو نقصان پہنچا یا یہ عملے کی جانب سے سگنل بھی ہوسکتا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق آبدوز میں 49 کریو ممبرز، کمانڈر اور 3 گنر موجود تھے۔جرمن ساختہ آبدوز انڈونیشیا میں 1981 سے کام کررہی تھی اور 22 اپریل کو اس نے میزائل فائرنگ کی مشق میں حصہ لینا تھا۔

انڈونیشین بحریہ کے پاس اس وقت 5 آبدوزیں ہیں اور وہ اس تعداد کو 2024 تک 8 بڑھانا چاہتی ہے۔

دریں پاکستانی دفترخارجہ کی جانب سے انڈونیشین آبدوز کے حادثے میں عملے کی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا گیا ہے ،ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا

ہمیں انڈونیشین آبدوز کے ڈوبنے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر  دلی صدمہ ہے ،ہماری دعائیں انڈونیشیا حکومت اور عوام اور افسوسناک حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کیساتھ ہیں

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »