Spread the love

عبیداللہ بہیر

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے اعلان کے بعد کیا ملک کا ممکنہ نقشہ کیا ہوگا ؟اور یہ وقت کا اہم سوال بھی ہے ۔طالبان کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے لیت و لعل سے کام لینا شاید ان کی خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے کہ 11 ستمبر تک فوجی انخلاء مکمل ہونے کے بعد انہیں علاقائی مددگاروں کا تعاون اسی طرح حاصل رہے گا جس طرح ماضی میں تھا ۔اور وہ ملک پر مکمل طور پر غلبہ پالیں گے

البتہ یہاں طالبان قیادت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مختلف علاقائی طاقتیں طالبان پر اپنے مقاصد کےلئے انحصار کر رہی ہیں ۔لیکن امریکی انخلاء کے بعد ان طاقتوں کی یہ ترجیحات بدل بھی سکتی ہیں

ماضی کے حالات کو مدنظر رکھیں تو یہ سمجھا جا سکتاہے کہ ان طاقتوں نے طالبان کی حمایت کیوں کی اور مستقبل میں ان کی حمایت کیا حالات بپا کر سکتی ہے ۔شاید ایک اور جنگ فاتح کا فیصلہ نہ کرسکے

البتہ ایک اور خانہ جنگی سے مزید معاشی ابتری پھیل سکتی ہے ،طاقت کے خلا کو دشمن قوتوں کی پراکسیز پر کرسکتی ہیں ۔اور تشدد کے نتیجے میں مہاجرین کا ایک نیا سیلاب جنم لے سکتا ہے۔اس خانہ جنگی کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں اور انہیں طالبان کی حمایت جاری رکھنے کے فیصلے کے اثرات کوسمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں

پاکستان اور طالبان
گذشتہ چالیس سال کے دوران پاکستان نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے افغانستان کے مختلف عناصر پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ۔جن میں تازہ ترین طالبان کی حمایت بھی شامل ہے۔جبکہ اس سے قبل 1970 سے 1980 کے دوران سوویت یونین کے خلاف نبرد آزما گروپوں کو اسلحہ ،فنڈز اور پناہ فراہم کی


یہ بھی پڑھیں

  1. افغانستان لڑکیوں کے سکول میں بم دھماکہ 30 افراد جاں بحق درجنوں زخمی
  2. افغان صدر اشرف غنی کی طالبان کو شرکت اقتدار کی پیشکش
  3. افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا پر بھارت پریشان
  4. امریکہ کیلئے فوجی اڈو‌ں پر پاکستان کی وضاحت اور طالبان کا شدید ردعمل

کئی سال بعد طالبان کے دورحکومت میں پاکستان کا دفتر خارجہ طالبان قیادت کو تنخواہیں بھی دیتا رہاجیسا کہ احمد رشید نے اپنی کتاب
Taliban: Militant Islam, Oil and Fundamentalism in Central Asia. میں لکھا ہے
نائن الیون کے واقعات کے پاکستان کیلئے یہ مشکل فیصلہ تھا کہ وہ امریکی اتحاد میں شامل ہو ،یا امریکہ کی دشمنی کا خطرہ مول لے

پاکستان نے بظاہر امریکی مہم کی حمایت تو کی لیکن طالبان کے ساتھ کبھی بھی رابطہ منقطع نہ کئے،عالمی برادری کے سامنے طالبان قیادت کیساتھ روابط پر پاکستان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ،اور اسے ایف اے ٹی ایف میں بھی شامل کرلیا گیا ۔لیکن ان سب حالات کے باوجود پاکستان نے طالبان کی حمایت جاری رکھی ۔جس کا مقصد امریکہ کو افغانستان میں دبائو میں لانا اور اسے وہاں سے نکلنے پر مجبور کرنا تھا ۔

پاکستان کے سرکاری حلقوں میں یہ تاثرمضبوط ہے کہ طالبان کی بالادستی میں قائم ہونے والا کوئی بھی سیاسی نظام ہی پاکستان کے مفادات کا ضامن اور بھارتی رسوخ کو روکنے کا واحد ذریعہ ہے

کابل کشمیر پیچیدگی
کشمیر کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی میں اصل رکاوٹ ہے ۔کیوں کہ ماضی میں بھارت حقانی گروپ کےذریعے کشمیری مجاہدین کو تربیت دینے اور کشمیر میں مسلح جدوجہد کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے ۔تاہم حالیہ عرصہ کے دوران دونوں اطراف سے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں دکھائی دے رہی ہیں ۔
جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے خط کے ذریعے اپنے پاکستان ہم منصب کو نیک خواہشات کا خط بھیجا تو وہیں عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے گرمجوشی کیساتھ جواب دیا ۔ان واقعات کو دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی کوشش و خواہش کے طور پر دیکھا جارہا ہے

ممکن ہے اس طرح کے اقدامات سے ایسا ماحول پیدا ہو جائے جس سے افغانستان اور کشمیر میں ایک دوسرے سے نبرد آزما گروہوں کی حوصلہ شکنی ہو۔اور بھارت چین کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کیلئے داخلی معاملات پر توجہ دے سکے

Image by ejbartennl from Pixabay

اگر پاکستان امریکی نکتہ نظر کے مطابق افغان امن عمل میں شامل ہوجاتا ہے تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور افغانستان میں نہ ختم ہونے والے تنازعات کا کوئی بہتر حل نکل سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کم ہوتی کشیدگی کے افغان صورتحال پر دورس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان اور طالبان کے تعلقات متاثر ہوں گے ۔

افغانستان امریکی انخلاء کے بعد کسی سیاسی تصفیہ کی صورت میں طالبان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ سب کچھ قابو کرلیں ۔اور پاکستان کی جانب سے طالبان کی ممکنہ حمایت افغان حکومت کو پوری طرح بھارت کی جانب دھکیل دے گی۔

اور افغان حکومت کیلئے بھارتی حمایت شاید اتنی ہی ہو جتنی طالبان کیلئے پاکستان کی مدد ہوسکتی ہے ۔
ایسی صورت میں طالبان کی حمایت سے پاکستان کو باز رکھنے کیلئے پاکستان میں موجود بھارت کے حمایت یافتہ گروپوں کو متحرک کرسکتا ہے ۔

ایران اور طالبان
ایران کی جانب سے طالبان کو اسلحہ و رقوم کی فراہمی خالصتاً امریکہ دشمنی پر مبنی ہے ۔باوجودیکہ افغانستان کی شیعہ ہزارہ اقلیت کے معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان ہے ۔تاہم شمالی ضلع میں طالبان کی جانب سے ہزارہ شیعہ کو ضلعی گورنر مقرر کیا جانا دوطرفہ تعلقات کی بہتری کا اظہار ہے
البتہ شمالی کوریا کی حکمت عملی کے تحت ایران طالبان کی مدد کرتا رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ان معاملات کو دیکھتے ہوئے ایران کے ساتھ نئے مجوزہ معاہدے میں دہشت گردی کی حمایت ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے

لیکن اگر بائیڈن انتظامیہ ماضی کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اوبامہ دور میں ہونے والی کثیرالجہتی نیوکلئر ڈیل کو بحال بھی کردیتی ہے تو بھی ایرانی حکومت خطے میں اپنے مفادات کے حصول کیلئے ہر حد تک جائے گا
اگرچہ ایرانی حکومت افغانستان کی امریکی حمایت یافتہ حکومت کو ہٹانے کی خواہاں تو ہے لیکن ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف یہ کہہ چکے ہیں اگر طالبان بزور طاقت حکومت حاصل کر بھی لیتے ہیں تو وہ تنہا حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے

اس طرح ایران کو یہ خدشہ بھی ہے کہ کسی خانہ جنگی کی صورت میں اس کے پاس موجود 20 لاکھ افغان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک کی شیعہ ہزارہ آبادی کیلئے مزید خطرات پیدا ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی مختلف دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پر ہیں جہاں حال ہی میں ان کے ایک تعلیمی ادارے کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا

قطر اور طالبان کا سیاسی دفتر
2013 میں دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کھولنے کا مقصد طالبان کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جگہ فراہم کرنا تھا۔ طالبان کو جگہ فراہم کرکے قطر براہ راست افغان تصادم کا حصہ بن گیا
لیکن امریکی انخلاء کے بعد امن مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو قطر کیلئے مزید سہولت کاری مشکل ہوجائے گی۔
2017 میں کئی خلیجی ممالک حماس ،اخوان المسلموں جیسے جماعتوں کے ساتھ روابط پر تعلقات منقطع کرچکی ہیں۔

جبکہ طالبان کی جانب سے القاعدہ پر قابو پانے میں ناکامی بھی قطر اور خلیجی ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے ۔کیوں کہ القاعدہ تاریخی طور پر سعودی عرب کیلئے بڑا خطرہ رہی ہے ۔
یہاں طالبان قیادت خود سے سوال کرسکتی ہے کہ قطر ان کیلئے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا خطرہ کیسے مول لے سکتا ہے

اس کے ساتھ ساتھ مقررہ مدت کے بعد طالبان قیادت کی میزبانی قطر اور امریکہ کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے ۔جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطوں میں اس کا اہم حامی ہے

قطر میں دفتر کے قیام کا مقصد طالبان کو سیاسی نمائندگی فراہم کرنا تھا لیکن کسی خانہ جنگی کی صورت میں سیاسی عمل ختم ہوجاتا ہے تو قطر کیلئے ایسے دفتر کےلئے فنڈنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہتا

اگر خانہ جنگی کی صورت میں طالبان پورے ملک پر قبضہ کرلیتے ہیں تو شاید ہے دنیا کا کوئی ملک انہیں جائز حکومت تسلیم کرے ۔اور نہ ہی انہیں افغان فوج کی فضائی قوت حاصل ہوگی

بدلا ہوا عالمی بیانیہ
افغانستان پر طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد عالمی بیانیہ میں تبدیلی ہوئی ہے ۔ماضی کے برعکس اب بھارت افغان حکومت کے خاتمے اور طالبان کو اقتدار میں آنے سے روکنے میں متحرک کردار ادا کررہا ہے ۔
کیوں کہ اس کی نظر میں طالبان کے زیر اثر افغانستان کا مطلب پاکستان کا حلیف اور بھارت مخالف عناصر کی پناہ گاہ ہے۔اسی طرح خطے کے باقی ممالک بھی اپنے مفادات کیلئے طالبان کی واحد جماعتی حکومت کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالیں۔
یہ طالبان قیادت کیلئے بہترین وقت ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران ان کی پشت پناہی کا واحد مقصد امریکہ کو انخلاء پر مجبور کرنا تھا ۔جو جلد یا بدیر ہونا ہی تھا
ایسی صورت میں اگر طالبان کیلئے حمایت میں کمی ہوتی تو طالبان کو اپنے فوجی اہداف کے حصول میں بھی مشکل پیش آسکتی ہے ۔اور کسی سیاسی مفاہمت کے بغیر انخلاء ایک نہ جیتی جانے والی جنگ میں بدلنے سے طالبان کی فوجی طاقت،علاقائی حمایت میں کمی واقع ہوسکتی ہے

بشکریہ سائوتھ ایشین وائسز 

Translate »