آزادی ڈیسک


مصر میں 22 فراعنہ کی ممیوں کی شاہی جلوس کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی شاندار تقریب کے ہر جانب چرچے ہیں،

مصر کے دارلحکومت قاہرہ سے 7 کلومیٹر دوری پر واقع مصری تہذیب کے نئے عجائب گھر تک منتقلی کے اس عظیم الشان جلوس پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے ،اس تقریب کی تمام سرکاری نیوز اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہ راست نشریات دکھائی گئیں جسے دنیا بھر میں ناظرین نے دیکھا

اس موقع پر تمام راستوں پر سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے تھے ،جبکہ فرعونوں کی حنوط شدہ لاشوں کی منتقلی کےلئے خصوصی طور پر گاڑیاں تیار کی گئیں ،جو کشتی کی شکل کی تھیں ،کیوں کہ جس مقام سے یہ حنوط لاشیں ملی ہیں وہ فراعنہ مصر کے شاہی مدفن تھے ،جنہیں اس وقت کشتیوں کے ذریعے وہاں پہنچایا گیا تھا ۔


جزیرہ نما بلقان کی مسلم آبادی اور درپیش چیلنجز (حصہ اول )

اسرائیلی انتخابات میں اسلام پسند جماعت کی کامیابی


مصرنے ایک تقریب پر اتنا سرمایہ کیوں خرچ کیا ؟

مصری تہذیب سے لگائو رکھنے والوں اور خود مصر کے اعلیٰ سرکاری حکام نے اس شاہی جلوس کو مصر کی جدید تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا ہے ۔ان کے خیال میں اس سے کووڈ سے متاثرہ مصری معیشت کو سیاحت کے ذریعے کافی حد تک سہارا مل سکتا ہے

قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی سے وابستہ ماہر مصریات سلمیٰ اکرام کے بقول اگرچہ اس تقریب پر کافی خرچ اٹھا ہے لیکن اس سے دگنا واپس ملنے کا بھی امکان ہے ،کیوں کہ اس تقریب کے نتیجے میں دنیا بھر سے سیاح ایک بار پھر مصر کا رخ کریں گے

فراعنہ مصر کون تھے ؟

اس شاہی جلوس میں کچھ عرصہ قبل دریافت ہونے والے بادشاہوں اور ملکائوں کی حنوط شدہ لاشیں شامل تھیں جنہوں نے مصرپر 1075 قبل مسیح سے 1539 قبل مسیح تک حکمرانی کی

ان میں رعمسیس ثانی بھی شامل ہے جو قدیم مصر کا سب سے مشہور فرعون گزرا ہے ،جبکہ قدیم مصری حکمرانوں میں سے واحد خاتون فرعون ملکہ ہاتشپوت بھی ہے جو فراعنہ مصر کی واحد خاتون حکمران رہی ،اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس وقت حکمرانی میں خواتین کو ثانوی اہمیت حاصل ہوتی تھی اس لئے وہ  اپنی شناخت کو چھپانے کےلئے مصنوعی داڑھی استعمال کرتی تھی

ان تمام بادشاہوں کو آج سے تقریباً 3 ہزارسال قبل دیرالباہری کے قریب واقع بادشاہوں کی وادی میں خفیہ مقبروں میں دفن کیا گیا تھا اور یہ مقبرے پہلی بار 19 ویں صدی میں دریافت ہوئے تھے ۔

جن میں سے کچھ حنوط شدہ لاشوں کو دریائے نیل کے راستے قاہرہ لایا گیا ،جن میں سے چند کو شیشے کے ڈبوں میں رکھ کر نمائش کیلئے رکھا گیا جبکہ بعض کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا

مشہور زمانہ فرعون رعمیسس ثانی کی لاش کو محفوظ بنانے کےلئے 1976 میں فرانس لے جایا گیا تھا

مصری قیادت کا جوش وخروش اور دنیا کا ردعمل 

مصری صدر عبدالفتح السیی نے اپنے ایک ٹویٹ میں مصری عوام کو دعوت دی کہ وہ اپنے عظیم اجداد کی روایات پر عمل کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کے اس راستے پر چلیں جس سے انسانی تہذیب و ترقی کو نئی جہت ملی

مصری عوام کہ اپنے عظیم اجداد کی روایات پر عمل کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کے راستے پر چلیں ،السیسی

انہوں نے مزید کہا انسانی تاریخ پر تعمیر و ترقی کے گہرے نقوش چھوڑنے والے عظیم بادشاہوں اور ملکائوں کو انکے نئے ٹھکانے پر خوش آمدید کہنا میرے لئے قابل فخر لمحہ ہے


مصر کی خاتون اول انتصارالسیسی نے فراعنہ کے شاہی جلوس کومصرکے عظیم الشان ماضی کے اظہار کا شاندار موقع قراردیتے ہوئے کہا

مصریوں نے ایک غیر معمولی اورعظیم الشان تقریب دیکھی ،جس سے دنیا کو ہمارے پرشکوہ ماضی کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا جس نے دنیا کی تہذیب پر غیرمعمولی نقوش چھوڑے اور آئندہ بھی ایسا ہی کرینگے

اپنے فیس بک اکائونٹ پر انہوں نے مزید لکھا

مجھے عظیم مصری تہذیب کا حصہ ہونے پر فخر ہے اور رہے گا ۔اور دنیا کو مصر کی عظیم تہذیب سے دنیا کو روشناس کروانے کیلئے کوششیں کرنے والے بھی قابل قدر ہیں

مصر کے آن لائن اخبار ایجپٹ ٹوڈے کے مطابق فراعنہ مصرکے عظیم الشان جلوس کے انعقاد پر دنیا بھر سے مصری صدر عبدالفتح السیسی کو مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے ،

روس کے مصر میں سفیر گریگوری بوریسنکو نے تقریب کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جلوس نے دنیا کو اس کے عظیم الشان ماضی سے روشناس کروادیا جو دنیا کی قدیم ترین تہذیب تھے

متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا حنوط لاشوں کا جلوس غیر معمولی واقعہ ہے جس سے دنیا کو انسانی تاریخ کی بنیاد کی حیثیت رکھنے والی مصری تہذیب کی جھلک دینے کا موقع دیا اس سلسلے میں نشاۃ ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والی مصری قیادت کی محنت قابل تعریف ہے

مصر میں سعودی عرب کے سفیر اسامہ نوغالی مصری تاریخ اور تہذیب کو دنیا کو دکھانے کیلئے مصری صدر کی کاوش کو سراہا

جبکہ اومان کے سفیر عمربن ناصر نے مصری تہذیب و تمدن کو اس کی حقیقی روح کے مطابق  احیائے نو کےلئے شاندار تقریب پر مبارکباد پیش کی۔

اس کے علاوہ کویت، امریکہ ،یمن اور دیگر ممالک نے بھی مصری حکومت کو قدیم بادشاہوں کے شایان شان جلوس پر مبارکباد دی

تقریب میں کیا ہوا ؟

شاہی جلوس کے تمام راستوں پر کڑے حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ، تقریب کو پرشکوہ بنانے کیلئے ملک کے نامور گلوکاروں ،گلوکارائوں اور سازندوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ،

جن میں مصر کی معروف گلوکارہ مریم نوح ،نسمہ محجوب ،اور امیرہ سلیم نمایاں تھیں

جبکہ تقریبات کو اپنے فن سے چار چاند لگانی والی ادارکارائوں میں یسریٰ ،مونا زکی ،احمدحلمی ،ہند صابری اور نیلی کریم نمایاں تھیں

مصر کے تاریخی چوک التحریر سے فسطاط میں نئے عجائب گھر تک منتقلی کے سارے عمل میں مصری صدر عبدالفتح السیسی سب سے آگے رہے اور انہوں نے نئے عجائب گھر کے دروازے پر فرعونوں کے تابوتوں کا بذات خود استقبال کیا

جلوس کے تمام راستوں کو برقی قمقموں سے آراستہ کیا گیا تھا جبکہ لیزر روشنیوں کی مدد سے آسمان پر رنگ و نور بکھیرا گیا

شاہی تابوت خصوصی طور پر تیار کردہ کشتی کی شکل کی گاڑیوں پر رکھے گئے ،جن کے آگے موٹرسائیکل سوار دستہ تھا ،جبکہ قدیم مصری غلاموں کا لباس پہنے نوجوانوں پر مشتمل گروہ مشعلیں اٹھائے جلوس کا حصہ تھے

22 فراعنہ کی حنوط لاشوں کی منتقلی کےلئے کشتی شکل کی خصوصی گاڑیاں تیار کی گئیں

اس موقع پر جلوس کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی

لائیو ٹیلی کاسٹ کا حصہ بنی نشریات میں سازندوں کی دھنیں اور اہرام مصر اور قدیم عجائب گھر میں فنکار مرد وخواتین نے قدیم طرز کے رقص پیش کر کے ماحول میں نیا فسوں پھونک دیا

قدیم لباس پہنے فنکارائیں فراعنہ کو سلامی پیش کررہی ہیں (سکرین گریب )

شاہی جلوس میں شامل فرعون ملکائیں

4 اپریل کو قاہرہ کی شاہراہوں سے جن 22 فراعین کی حنوط شدہ لاشوں کا شاہی جلوس نکالا گیا ان میں چار فرعون ملکائیں بھی شامل تھیں جنہوں نے قدیم مصری تاریخ اور تہذیب پر گہرے نقوش ثبت کئے

جلوس میں شامل ملکائوں کے بارے میں بہت سی کھوج کی جارہی ہے کہ آخر وہ کون تھیں اور ان کا قدیم مصری معاشرے میں کیا کردار رہا ،انہوں نے پدرسری معاشرے میں ہزاروں سال پہلے کس طرح جدوجہد کرتے ہوئے خود کو مردوں کے مقابل لایا اور تخت و تاج کےلئے اپنی اہلیت و قابلیت کو منوایا

ملکہ ہاتشپوت

ملکہ ہاتشپوت

ماہر مصریات حسین عبدالبصیر کے مطابق ملکہ ہاتشپوت سلطنت کی پانچویں حکمران تھی ،حسن وجمال ،ذہانت اور بہادری سے مالامال اس ملکہ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور بڑے بڑے طالع آزمائوں کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا

اس ملکہ کو قدیم مصری تاریخ میں سب سے نمایاں مقام حاصل ہے ،وہ بادشاہ طوطمش کی بیٹی تھی

اس نے اپنے سوتیلے بھائی طوطمش ثانی سے شادی کی ،اوراپنے شوہر کے کمسن بیٹے کی جانب سے نائب حکمران کی صورت میں سلطنت پر حکمرانی کی

سن 1478 قبل مسیح میں ملکہ ہاتشپوت تخت پر بیٹھ گئی ،اگرچہ اس وقت کے مصری رسوم کے مطابق خاتون حکمران نہیں بن سکتی تھی ،لیکن شاہی خون ہونے اور ایک بادشاہ کی بیٹی ،بیوی اور ماں ہونے کے ناطے اس نے خود کو ملکہ قراردیدیا

مصری وزارت آثارقدیمہ کے مطابق ملکہ ہاشتوپ کی حنوط شدہ لاش 1903 میں لکسر میں واقع بادشاہوں کی وادی سے دریافت ہوئی

عبدالبصیر کے مطابق ملکہ ہاشتپوت کی حکمرانی کے انجام کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں اور اس کا خاتمہ کیسے ہوا؟

لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد طوطمش ثالث نے اس کی قبر پر نشانات اور تصویریں مٹوا دی تھیں

جبکہ اس ملکہ کا پورا نام غانیمت آمون ہاتشپوت تھا جس کے معنی آمون کیساتھ خواتین میں سے سب سے بہترین

ملکہ ہاتشپوت قدیم مصر کی سب سے مشہور ملکہ تھی ،جس نے سلطنت میں سینکڑوں تعمیرات کروائیں ،جس میں بنی حسن میں واقع پاخت کا معبد بھی شامل ہے

اس کے دور میں اس ملکہ کے سب سے زیادہ مجسمے بنائے گئے ،یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے تمام نمایاں عجائب گھروں میں اس کے مجسمے موجود ہیں


ملکہ اخموش نیفرتی

ملکہ اخموش نیفرتی

تاریخ دانوں کے بقول اخموش نیفرتی قدیم مصر کی پہلی ملکہ تھی جسے دیوی کا درجہ ملا ،اور اس نے اپنے شوہر اخموش اول کیساتھ مل کر کنعانیوں کو مصر سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا

وہ تاریخ کی پہلی خاتون تھی جس نے کسی فوجی مہم کی سربراہی کی اس طرح اس کا شمار ادوار فراعنہ کی عظیم ملکائوں میں ہوتا ہے

ملکہ نیفرتی کی حنوط لاش 1881 میں دیرلباہری سے لکڑی کے ایک تابوت کیساتھ ملی ،جس میں اس کے ہاتھ سینے پر بندھے ہوئے تھے اور ان پر زندگی کا نشان بنا ہوا تھا

اس کے بارے میں گمان ہے کہ اس نے تین عظیم فرعونوں کے دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جس میں اس کا شوہر ،بیٹا اور پوتے کا دور شامل ہے

ماہرین کے خیال میں اس ملکہ کو مادرملکہ ،عظیم شنہشاہ کی بیوی اور دیگر کئی خطابات حاصل تھے


ملکہ میریتمن

ملکہ میریتمن

ماہر مصریات عبدالبصیر بتاتے ہیں ملکہ میریتمن فرعون رعمیسس دوم کی بیٹی تھی ،اس کی لاش 1930 میں دیرالباہری کے مقبرے سے ملی

ملکہ میریتمن کی موت انتہائی کم عمری یعنی محض 30 سال کی عمر میں ہوئی،اگرچہ وہ کبھی تخت نشیں نہیں ہوئی ،لیکن امور سلطنت میں اس کا اہم کردار رہا


ملکہ تے ای

ملکہ تے ای

ماہرین مصریات کے مطابق ملکہ تے ای قدیم مصر کے سب سے طاقتور فرعون آمن خوطب کی بیوی اور من خدا جسے زرخیزی کا خدا سمجھا جاتا کے پیروکار یویا کی بیٹی تھی ،جبکہ اس کی ماں حرم کی نگہبان اور بااثرخاتون تھی

اس ملکہ کی حنوط شدہ لاش 1898 میں وادی شاہان لکسر میں آمن خوطب کے مقبرے سے دریافت ہوئی

اگرچہ اس کا نسب شاہی سلسلہ سے نہ تھا لیکن امور مملکت میں اس کا کردار غیرمعمولی رہا اور اس نے ہر موقع پر اپنے شوہر اور بیٹے کا بھرپور ساتھ دیا

اس کے علاوہ اس نے اپنے بیٹے آخناتن کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کی ،جس نے بعد ازاں تل امرنا کو نیا پایہ تخت بنایا جو آج جنوبی مصر میں ریاست منایا میں واقع ہے

بعدازاں ملکہ نے اپنے بیٹے بادشاہ آمن خوطب چہارم کے اقتدار کو پائیدار بنانے کیلئے ہر قسم کے بیرونی و اندرونی معاملات سے نمٹنے کیلئے ہر موقع پر اس کی رہنمائی کی

اگرچہ فراعنہ کی لاشوں کو نئے عجائب گھر میں  منتقلی کا عمل مکمل ہوچکا ہے ،لیکن اسے 18 اپریل کو سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر سیاحوں کیلئے کھولا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق ایک ایسے وقت میں جبکہ مصر معاشی دبائو کا شکار ہے مصری قیادت ایک تقریب پر کروڑوں ڈالر خرچ کر کے جہاں عوام کی توجہ معاشی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہی ہے وہیں اس کا مقصد دنیا کے سامنے اپنی تاریخ اور تشخص کو اجاگر کرنا اور کووڈ سے متاثر معیشت کو سیاحت کے ذریعے سہارا دینے کی کوشش بھی ہے ۔

 

Translate »