آزادی ڈیسک

افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو جنگ ختم کرنے کی صورت میں شراکت اقتدار کی پیشکش کردی ہے

افغان صدر کی جانب سے یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت نے تمام امریکیوں کو جلد از جلد افغانستان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے

سوویت یونین کی حمایت یافتہ کابل حکومت کی مجاہدین کے ہاتھوں خاتمے کی 29 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں افغان صدر نے کہا ہمیں ماضی کے تجربات سے سیکھنا ہوگا

انہوں نے کہا افغانستان میں کوئی بھی تشدد اور جنگ کے ذریعے عوام پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتا اس لئے وقت آگیا ہے کہ طالبان تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے جمہوری نظام کا حصہ بنتے ہوئے اقتدار کا حصہ بن جائیں


افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا عمل باقاعدہ طور پر شروع

افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا پر بھارت پریشان


انہوں نے اپنے پیغام میں کہا سرخ فوج کے خلاف کامیاب جہاد کے بعد افغانستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا جس کے نتیجے میں ماسوائے تباہی کے کچھ حاصل نہ ہوسکا

ایک بار پھر افغانستان انہی حالات سے دوچار ہے ،جس طرح ماضی میں عوام کی یکجہتی سے افغان جہاد کامیابی سے ہمکنار ہوا اسی طرح ہم متحد ہو کر پائیدار امن کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں

واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے ستمبر تک افغانستان سے امریکی فوجوں کے مکمل انخلاء کے بعد تشدد اور بدامنی کی نئی لہرا پیدا ہوئی ہے

افغان صدر اشرف غنی فائل فوٹو

دوسری جانب افغانستان کیلئے اعلیٰ امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے انخلاء کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا

اگر طالبان افغانستان پر بزور طاقت قبضہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں تو واشنگٹن اور اس کے اتحادی طالبان پر پابندیاں عائد کردیں گے

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا امریکہ افغان فریقین کے درمیان نتیجہ خیز امن مراحل کی تکمیل کیلئے ہر ممکن کردار ادا کریگا

انہوں نے کہا چالیس سال سے جنگ و بدامنی کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پائیدار امن کا واحد حل مذاکرات ہیں ،طاقت کسی مسئلہ کا حل نہیں

انہوں نے افغان امن میں پاکستان کی اہمیت کا اجاگر کرتے ہوئے کہا ہم نے پاکستانی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کے خاتمے کیلئے طالبان پراپنا اثر رسوخ استعمال کرے

جبکہ پاکستانی قیادت بھی طالبان کی جانب سے افغانستان پر بزور طاقت غلبہ پانے کی کوشش کی حامی نہیں ہے

کیوں کہ اگر افغانستان میں حالات ایک بار پھر خانہ جنگی کی جانب جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی متاثر ہوگا

 

Translate »