آزادی ڈیسک

امریکی صدر جوباٸیڈن کی جانب سے افغانستان سے یکم مٸی تک فوجیں مکمل طور پر نکالنے کے اعلان سے بھارت میں خاصی بے چینی پاٸی جاتی ہے ۔جسے اندیشہ ہے کہ امریکی اور نیٹو فوجوں کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو” انتشار پسند“ پر کر سکتے ہیں

بھارتی آرمی چیف  جنرل بیپن راوت نے ایک سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا امریکہ اور نیٹو کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو انتشار پسند پر کر سکتے ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو

امریکی پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام نوجوان قتل ،مختلف شہروں میں ہنگامے

ٹوئٹرپر بھارت نوازی کا الزام،کشمیریوں کی آواز متعدد اکائونٹس معطل

اگرچہ انہوں نے اپنی تقریر میں کھل کر کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

تاہم بھارت کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں کوٸی بھی عدم استحکام مقبوضہ کشمیر پر اثر انداز ہو سکتا ہے جہاں گزشتہ تین دہاٸیوں سے مسلح مزاحمت کا سامنا ہے

لیکن بھارت کو یہ اندیشہ بھی کھاۓ جا رہا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد افغان منظرنامے میں طالبان غالب کردار کے حامل ہونگے جنکے پاکستان کیساتھ طویل اور گہرے مراسم ہیں

جبکہ بپن راوت نے بھی اپنی تقریر میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا بہت سے لوگ افغانستان میں قدم جمانے کیلٸے موقع کی تلاش میں ہیں

واضح رہے کہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کے سڑکوں تواناٸی سمیت کٸی شعبوں میں 3 ارب ڈالر سے زاٸد سرمایہ کاری کی ۔جسے وہ اب بھی مزید بڑھانے کا خواہاں ہے

البتہ  صدر جوباٸیڈن نے امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا مستقبل غیرواضح قرار دیتے ہوۓ افغانستان سے مٸی تک فوجوں کو مکمل طور پر واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے

Translate »